المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ لعن رسول اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الحكم بن أبي العاص وبنيه وبني أمية باب: رسول اللہ ﷺ کے حکم بن ابی العاص، اس کی اولاد اور بنو امیہ پر لعنت کرنے کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : اسْتَأْذَنَ الْحَكَمُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ ، عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَرَفَ كَلَامَهُ ، فَقَالَ : ائْذَنُوا لَهُ ، لَعَنَهُ اللهُ وَكُلَّ مَا خَرَجَ مِنْ صُلْبِهِ إِلَّا مُؤْمِنِيهِمْ ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ ، يُسْرِفُونَ فِي الدُّنْيَا ، وَيُوضَعُونَ فِي الْآخِرَةِ ، ذَوُو مَكْرٍ وَخَدِيعَةٍ ، يُعْطَوْنَ فِي الدُّنْيَا ، وَمَا لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ .عمرو بن مرہ سے روایت ہے کہ حکم بن ابی العاص نے رسول اللہ ﷺ سے بارگاہِ نبوی میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی، آپ ﷺ نے اس کے کلام کو پہچان لیا اور ارشاد فرمایا: ”اسے اندر آنے کی اجازت دے دو، «لَعَنَهُ اللهُ وَكُلَّ مَا خَرَجَ مِنْ صُلْبِهِ إِلَّا مُؤْمِنِيهِمْ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ» ”اللہ اس پر اور اس کی صلب سے پیدا ہونے والی تمام اولاد پر لعنت کرے سوائے ان کے جو صاحبِ ایمان ہوں گے، اور وہ بہت تھوڑے ہوں گے“، یہ لوگ دنیا میں اسراف و عیش کوشی کریں گے اور آخرت میں ذلت و پستی کا شکار ہوں گے، یہ مکر اور دھوکے والے ہوں گے، انہیں دنیا میں تو مال و متاع سے نوازا جائے گا لیکن آخرت میں ان کے لیے کوئی خیر و برکت اور حصہ نہ ہو گا۔“
مسند ابویعلیٰ: 4454، اس کی سند میں ابوالحسن الجزری نامی راوی مجہول ہے، جس کی بنا پر یہ روایت ضعیف ہے۔