❮
❯
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حِزَامِ بْنِ هِشَامِ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضِبَ فِيمَا كَانَ مِنْ شَأْنِ بَنِي كَعْبٍ غَضَبًا لَمْ أَرَهُ غَضِبَهُ مُنْذُ زَمَانٍ ، وَقَالَ : لَا نَصَرَنِي اللهُ إِنْ لَمْ أَنْصُرْ بَنِي كَعْبٍ ، وَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُولِي لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَلْيَتَجَهَّزَا لِهَذَا الْغَزْوِ .
قَالَ : فَجَاءَا إِلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَا لَهَا : أَيْنَ يُرِيدُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ : لَقَدْ رَأَيْتُهُ غَضِبَ فِيمَا كَانَ مِنْ شَأْنِ بَنِي كَعْبٍ غَضَبًا لَمْ أَرَهُ غَضِبَهُ مُنْذُ زَمَانٍ مِنَ الدَّهْرِ .
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو بنو کعب کے معاملے میں پیش آنے والے واقعے پر اس قدر شدید غصے کی حالت میں دیکھا کہ اس سے قبل ایک طویل عرصے سے میں نے آپ ﷺ کو اتنا غضب ناک ہوتے نہیں دیکھا تھا۔“ اور آپ ﷺ نے فرمایا: «لَا نَصَرَنِي اللهُ إِنْ لَمْ أَنْصُرْ بَنِي كَعْبٍ» ”اللہ میری مدد نہ کرے اگر میں بنو کعب کی مدد نہ کروں۔“ نیز آپ ﷺ نے (مجھ سے) فرمایا: ”تم سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے کہہ دو کہ وہ اس غزوے کے لیے رختِ سفر باندھ کر تیاری کر لیں۔“
راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر وہ دونوں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے دریافت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارادہ کس سمت جانے کا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”میں نے آپ ﷺ کو بنو کعب کے معاملے میں اس قدر شدید غصے میں دیکھا ہے کہ میں نے ایک طویل زمانے سے آپ ﷺ کو اس درجہ غضب ناک ہوتے نہیں دیکھا تھا۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4297
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث بهذا الإسناد فيه هشام بن حبيش، ذكره البخاري في تاريخه وابن أبي حاتم في الجرح والتعديل وسكتا عنه، وذكره ابن حبان في الثقات. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 10226، 10227، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4608»
حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ عُرْوَةَ ، عَنْ أُخْتِهَا عَائِشَةَ بِنْتِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهَا ، عَنْ جَدِّهَا الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ أَعْطَاهُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ لِوَاءَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، فَدَخَلَ الزُّبَيْرُ مَكَّةَ بِلِوَاءَيْنِ .
مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ زَبَالَةَ ، ضَعِيفٌ جِدًّا .
ترجمہ
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ "رسول اللہ ﷺ نے فتحِ مکہ کے دن انہیں سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا پرچم عطا فرما دیا تھا، چنانچہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں دو پرچموں کے ساتھ داخل ہوئے"۔
اس سند میں موجود راوی محمد دراصل ابنِ زبالہ ہے، جو کہ بیحد ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4298
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ زَبَالَةَ ، ضَعِيفٌ جِدًّا . »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 10236، 10237، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4610، 6706»
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ أَمَّنَ النَّاسَ إِلَّا أَرْبَعَةً .
4299 \ 2 - وَقَالَ الْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّلَائِلِ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَمَّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ إِلَّا أَرْبَعَةً مِنَ النَّاسِ : عَبْدَ الْعُزَّى بْنَ خَطَلٍ ، وَمِقْيَسَ بْنَ صُبَابَةَ ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ سَعْدٍ ، وَأُمَّ سَارَةَ ، فَأَمَّا عَبْدُ الْعُزَّى بْنُ خَطَلٍ فَإِنَّهُ قُتِلَ وَهُوَ آخِذٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ ، قَالَ : وَنَذَرَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يَقْتُلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَعْدٍ إِذَا رَآهُ ، وَكَانَ أَخَا عُثْمَانَ مِنَ الرَّضَاعَةِ ، فَأَتَى بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَشْفَعَ لَهُ ، فَلَمَّا بَصُرَ بِهِ الْأَنْصَارِيُّ اشْتَمَلَ عَلَى السَّيْفِ ثُمَّ أَتَاهُ ، فَوَجَدَهُ فِي حَلْقَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ الْأَنْصَارِيُّ يَتَرَدَّدُ وَيَكْرَهُ أَنْ يَقْدَمَ عَلَيْهِ ، لِأَنَّهُ فِي حَلْقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَسَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَبَايَعَهُ ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِيِّ : قَدِ انْتَظَرْتُكَ أَنْ تُوَفِّيَ بِنَذْرِكَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، هِبْتُكَ ، أَفَلَا أَوْمَأْتَ إِلَيَّ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهُ لَيْسَ لِلنَّبِيِّ أَنْ يَكُونَ يُومِئُ .
قَالَ : وَأَمَّا مِقْيَسُ بْنُ صُبَابَةَ فَإِنَّهُ كَانَ لَهُ أَخٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُتِلَ خَطَأً ، فَبَعَثَ مَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ بَنِي فِهْرٍ لِيَأْخُذَ عَقْلَهُ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَلَمَّا جَمَعَ لَهُ الْعَقْلَ وَرَجَعَ نَامَ الْفِهْرِيُّ ، فَوَثَبَ مِقْيَسٌ فَأَخَذَ حَجَرًا فَجَلَدَ بِهِ رَأْسَهُ فَقَتَلَهُ ، وَأَقْبَلَ يَقُولُ :
شَفَى النَّفْسَ مَنْ قَدْ بَاتَ بِالْقَاعِ مُسْنَدًا يُضَرِّجُ ثَوْبَيْهِ دِمَاءُ الْأَخَادِعِ وَكَانَتْ هُمُومُ النَّفْسِ مِنْ قَبْلِ قَتْلِهِ
تُلِمُّ وَتُنْسِينِي وِطَاءَ الْمَضَاجِعِ قَتَلْتُ بِهِ فِهْرًا وَغَرَّمْتُ عَقْلَهُ
سَرَاةَ بَنِي النَّجَّارِ أَرْبَابَ فَارِعِ حَلَلْتُ بِهِ نَذْرِي وَأَدْرَكْتُ ثُؤْرَتِي
وَكُنْتُ إِلَى الْأَوْثَانِ أَوَّلَ رَاجِعِ
وَأَمَّا أُمُّ سَارَةَ : فَإِنَّهَا كَانَتْ مَوْلَاةَ قُرَيْشٍ ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَتْ إِلَيْهِ الْحَاجَةَ ، فَأَعْطَاهَا شَيْئًا ، ثُمَّ أَتَاهَا رَجُلٌ فَبَعَثَ مَعَهَا بِكِتَابٍ إِلَى مَكَّةَ ... فَذَكَرَ قِصَّةَ حَاطِبٍ ، كَذَا فِي الْأَصْلِ .
4299 \ 3 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، هُوَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ : اسْمُ ابْنِ خَطَلٍ : عَبْدُ اللهِ ، كَانَتْ لَهُ جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِهِجَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ كُلَّهُمْ آمِنِينَ إِلَّا ابْنَ خَطَلٍ وَقَيْنَتَيْهِ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ وَمِقْيَسَ بْنَ صُبَابَةَ اللَّيْثِيَّ ، فَإِنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَجْعَلْ لَهُمُ الْأَمَانَ ، فَقُتِلُوا كُلُّهُمْ إِلَّا إِحْدَى الْقَيْنَتَيْنِ فَإِنَّهَا أَسْلَمَتْ .
ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ میں فاتحانہ طور پر داخل ہوئے تو آپ ﷺ نے چار افراد کے علاوہ تمام لوگوں کو امان عطا فرما دی تھی۔
امام بیہقی کی 'دلائل النبوۃ' کی روایت میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے روز رسول اللہ ﷺ نے چار افراد کے سوا سب کو امان دی: عبد العزی بن خطل، مقیس بن صبابہ، عبد اللہ بن سعد اور ام سارہ۔ جہاں تک عبد العزی بن خطل کا معاملہ ہے، اسے اس حال میں قتل کیا گیا کہ وہ کعبہ کے پردوں کو تھامے ہوئے تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ ایک انصاری صحابی نے نذر مانی تھی کہ وہ عبد اللہ بن سعد کو جہاں دیکھیں گے قتل کر دیں گے، وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے رضاعی بھائی تھے، چنانچہ سیدنا عثمان انہیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لائے تاکہ ان کی سفارش کر سکیں اور انہیں پناہ دلائیں؛ جب اس انصاری نے انہیں دیکھا تو اپنی تلوار پر گرفت مضبوط کی اور آگے بڑھے، مگر دیکھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں بیٹھے ہیں، چنانچہ انصاری صحابی تذبذب کا شکار رہے اور نبی کریم ﷺ کی مجلس کی حرمت کے باعث ان پر حملہ کرنا ناپسند کیا، بالآخر نبی کریم ﷺ نے اپنا دستِ مبارک بڑھا کر ان کی بیعت قبول فرما لی۔ پھر آپ ﷺ نے اس انصاری صحابی سے فرمایا: ”میں اس انتظار میں تھا کہ تم اپنی نذر پوری کر لو۔“ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! مجھ پر آپ کی ہیبت و جلال طاری تھا، کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ نے مجھے آنکھ سے اشارہ فرما دیا ہوتا؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کسی نبی کے لیے یہ زیبا نہیں کہ وہ چوری چھپے آنکھوں سے اشارے کرے۔“ راوی کہتے ہیں کہ جہاں تک مقیس بن صبابہ کا تعلق ہے، اس کا ایک بھائی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا جو غلطی سے قتل ہو گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے ہمراہ بنو فہر کے ایک شخص کو بھیجا تاکہ وہ انصار سے دیت وصول کرے، جب اس فہری نے دیت وصول کر لی اور واپسی پر وہ سو گیا تو مقیس نے اس پر حملہ کر کے پتھر سے اس کا سر کچل دیا اور اسے قتل کر ڈالا، پھر وہ یہ اشعار گنگنانے لگا: ”اس مقتول نے میری روح کو سکون بخشا جو زمین پر پڑا رہا اور اس کی گردن کی رگوں کے خون نے اس کے دونوں کپڑوں کو لال کر دیا؛ اس کے قتل سے قبل میرے نفس کے غم مجھ پر امڈ آتے تھے اور میری نیندیں اڑا دیتے تھے؛ میں نے اس کے بدلے ایک فہری کو قتل کیا اور قلعہ فارع کے مالک بنو نجار کے سرداروں سے اس کا خون بہا بھی وصول کر لیا؛ میں نے اس کے ذریعے اپنی منت پوری کی، اپنا انتقام لیا اور میں وہ پہلا شخص ہوں جو دوبارہ بتوں کی طرف لوٹ آیا۔“ جہاں تک ام سارہ کا تعلق ہے، وہ قریش کی ایک آزاد کردہ لونڈی تھی، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئی اور اپنی فقر و فاقہ کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے اسے کچھ مال عطا فرمایا، پھر ایک شخص اس کے پاس آیا اور اس کے ذریعے اہل مکہ کی طرف ایک خط بھیجا، اس کے بعد راوی نے حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر کیا جیسا کہ اصل متن میں ہے۔
امام حارث کی روایت میں ابو سلمہ خزاعی بیان کرتے ہیں کہ ابن خطل کا نام عبد اللہ تھا، اس کی دو گانے والی لونڈیاں تھیں جو رسول اللہ ﷺ کی مذمت میں گانے گاتی تھیں، رسول اللہ ﷺ نے ابن خطل، اس کی دو لونڈیوں، عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح اور مقیس بن صبابہ لیثی کے سوا تمام لوگوں کو امان دے دی تھی، چنانچہ وہ سب قتل کر دیے گئے سوائے ان میں سے ایک لونڈی کے کہ وہ بعد میں اسلام لے آئی۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4299
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث بهذا الإِسناد فيه علتان:
1 - الحكم بن عبد الملك، وهو ضعيف.
2 - تدليس قتادة، وقد عنعن.
وعليه فالحديث بهذا الإِسناد ضعيف.
وقد تقدم قول العقيلي: إنه لم يتابع عليه. »
«أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 6573، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 10235، وأخرجه الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف برقم: 6314»
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قُرَيْشٍ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّكُمْ إِنْ تَبْرَؤُوا مِنْ حِلْفِ بَنِي بَكْرٍ أَوْ تَدُوا خُزَاعَةَ ، وَإِلَّا أُوذِنُكُمْ بِحَرْبٍ . فَقَالَ قَرَظَةُ بْنُ عَبْدِ عَمْرِو بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ صِهْرُ مُعَاوِيَةَ : إِنَّ بَنِي بَكْرٍ قَوْمٌ مَشَائِيمُ ، فَلَا نَدِي مَا قَتَلُوا ، لَا يَبْقَى لَنَا سَبَدٌ وَلَا لَبَدٌ ، وَلَا نَبْرَأُ مِنْ حِلْفِهِمْ ، فَلَمْ يَبْقَ عَلَى دِينِنَا أَحَدٌ غَيْرُهُمْ ، وَلَكِنَّا نُؤْذِنُهُ بِحَرْبٍ .
هَذَا مُرْسَلٌ ، صَحِيحٌ إِسْنَادُهُ .
ترجمہ
محمد بن عباد بن جعفر سے مرسلاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قریش کی طرف پیغام بھیجا کہ: ”حمد و ثنا کے بعد، (واضح ہو کہ) اگر تم لوگ بنو بکر کی حلف داری سے دستبردار ہو جاؤ یا بنو خزاعہ (کے مقتولین) کا خون بہا ادا کر دو (تو بہتر ہے)، ورنہ میں تمہیں جنگ کا اعلان کرتا ہوں۔“ اس پر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سسر قرظہ بن عبد عمرو بن نوفل بن عبد مناف نے کہا: ”بنو بکر ایک منحوس قوم ہے، انہوں نے جنہیں قتل کیا ہے ہم ان کی دیت ادا نہیں کریں گے، (اگر ہم نے ایسا کیا تو) ہمارے پاس «سَبَدٌ وَلَا لَبَدٌ» ”مال و متاع کا نام و نشان تک“ باقی نہیں رہے گا، اور نہ ہی ہم ان کے حلف سے دستبردار ہوں گے، کیونکہ ان کے سوا ہمارے دین پر اب کوئی دوسرا باقی نہیں رہا، بلکہ ہم انہیں جنگ کا پیغام دیتے ہیں۔“
یہ روایت مرسل ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4300
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا مُرْسَلٌ ، صَحِيحٌ إِسْنَادُهُ . »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ لِعَشْرٍ مَضَيْنَ مِنْ رَمَضَانَ ، فَصَامَ وَصَامَ النَّاسُ ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ أَفْطَرَ ، فَنَزَلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ الظَّهْرَانِ فِي عَشَرَةِ آلَافٍ مِنَ النَّاسِ ، فِيهِمْ أَلْفٌ مِنْ مُزَيْنَةَ ، وَسَبْعُمِائَةٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ، وَقَدْ عَمِيَتِ الْأَخْبَارُ عَلَى قُرَيْشٍ ، فَلَا يَأْتِيهِمْ خَبَرٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا يَدْرُونَ مَا هُوَ فَاعِلُهُ ، وَقَدْ خَرَجَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ ، وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ ، وَبُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ الْخُزَاعِيُّ ، يَتَحَسَّسُونَ الْأَخْبَارَ قَالَ الْعَبَّاسُ : فَلَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ نَزَلَ ، قُلْتُ : وَاصَبَاحَ قُرَيْشٍ ، وَاللهِ لَئِنْ دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ عَنْوَةً لَيَكُونَنَّ هَلَاكُهُمْ إِلَى آخِرِ الدَّهْرِ ، فَرَكِبْتُ بَغْلَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْضَاءَ ، حَتَّى جِئْتُ الْأَرَاكَ ، رَجَاءَ أَنْ أَلْتَمِسَ بَعْضَ الْحَطَّابَةِ أَوْ صَاحِبَ لَبَنٍ ، أَوْ ذَا حَاجَةٍ يَأْتِي مَكَّةَ فَيُخْبِرُهُمْ بِأَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَخْرُجُوا إِلَيْهِ ، فَوَاللهِ إِنِّي لَأَسِيرُ أَلْتَمِسُ مَا جِئْتُ لَهُ ، إِذَا سَمِعْتُ كَلَامَ أَبِي سُفْيَانَ وَبُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ ، وَهُمَا يَتَرَاجَعَانِ ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : وَاللهِ مَا رَأَيْتُ كَاللَّيْلَةِ نِيرَانًا وَلَا عَسْكَرًا ، فَقَالَ بُدَيْلٌ : هَذِهِ وَاللهِ خُزَاعَةُ قَدْ خَمَشَتْهَا الْحَرْبُ ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : خُزَاعَةُ وَاللهِ أَقَلُّ وَأَذَلُّ مِنْ أَنْ تَكُونَ هَذِهِ نِيرَانُهَا ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا حَنْظَلَةَ ، فَعَرَفَ صَوْتِي فَقَالَ : أَبُو الْفَضْلِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : مَا لَكَ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ؟ فَقُلْتُ : هَذَا وَاللهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ ، وَاصَبَاحَ قُرَيْشٍ ، قَالَ : فَمَا الْحِيلَةُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ، قَالَ : قُلْتُ : وَاللهِ لَئِنْ ظَفِرَ بِكَ لَيَضْرِبَنَّ عُنُقَكَ ، فَارْكَبْ عَجُزَ هَذِهِ الْبَغْلَةِ ، فَرَكِبَ وَرَجَعَ صَاحِبَاهُ ، فَخَرَجْتُ بِهِ ، فَكُلَّمَا مَرَرْتُ بِنَارٍ مِنْ نِيرَانِ الْمُسْلِمِينَ فَقَالُوا : مَا هَذَا ؟ فَإِذَا رَأَوْا بَغْلَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا : هَذِهِ بَغْلَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا عَمُّهُ ، حَتَّى مَرَرْتُ بِنَارِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ وَقَامَ إِلَيَّ ، فَلَمَّا رَآهُ عَلَى عَجُزِ الْبَغْلَةِ عَرَفَهُ ، فَقَالَ : وَاللهِ عَدُوُّ اللهِ ، الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي أَمْكَنَ مِنْكَ ، فَخَرَجَ يَشْتَدُّ نَحْوَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَدَفَعْتُ الْبَغْلَةَ فَسَبَقْتُهُ بِقَدْرِ مَا تَسْبِقُ الدَّابَّةُ الْبَطِيئَةُ الرَّجُلَ الْبَطِيءَ ، فَاقْتَحَمْتُ عَنِ الْبَغْلَةِ فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَدَخَلَ عُمَرُ ، فَقَالَ : هَذَا عَدُوُّ اللهِ أَبُو سُفْيَانَ قَدْ أَمْكَنَ اللهُ مِنْهُ فِي غَيْرِ عَقْدٍ وَلَا عَهْدٍ ، فَدَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَهُ ، فَقُلْتُ : قَدْ أَجَرْتُهُ يَا رَسُولَ اللهِ ، ثُمَّ جَلَسْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُ بِرَأْسِهِ ، فَقُلْتُ : وَاللهِ لَا يُنَاجِيهِ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ دُونِي ، فَلَمَّا أَكْثَرَ عُمَرُ قُلْتُ : مَهْلًا يَا عُمَرُ ، فَوَاللهِ لَوْ كَانَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَدِيٍّ مَا قُلْتَ هَذَا ، وَلَكِنَّهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ فَقَالَ : مَهْلًا يَا عَبَّاسُ ، لَا تَقُلْ هَذَا ، فَوَاللهِ لَإِسْلَامُكَ حِينَ أَسْلَمْتَ كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ إِسْلَامِ أَبِي الْخَطَّابِ لَوْ أَسْلَمَ ، وَذَلِكَ أَنِّي عَرَفْتُ أَنَّ إِسْلَامَكَ أَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِسْلَامِ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَبَّاسُ ، اذْهَبْ بِهِ إِلَى رَحْلِكَ ، فَإِذَا أَصْبَحْتَ فَأْتِنَا بِهِ ، فَذَهَبْتُ بِهِ إِلَى الرَّحْلِ ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ بِهِ ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَا أَبَا سُفْيَانَ ، أَلَمْ يَأْنِ لَكَ أَنْ تَعْلَمَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ؟ فَقَالَ : بِأَبِي وَأُمِّي مَا أَحْلَمَكَ ، وَمَا أَكْرَمَكَ وَأَوْصَلَكَ ، وَأَعْظَمَ عَفْوَكَ ، لَقَدْ كَادَ أَنْ يَقَعَ فِي نَفْسِي أَنْ لَوْ كَانَ إِلَهٌ غَيْرَهُ لَقَدْ أَغْنَى شَيْئًا بَعْدُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَيْحَكَ يَا أَبَا سُفْيَانَ ، أَلَمْ يَأْنِ لَكَ أَنْ تَعْلَمَ أَنِّي رَسُولُ اللهِ ؟ فَقَالَ : بِأَبِي وَأُمِّي ، مَا أَحْلَمَكَ ، وَأَكْرَمَكَ ، وَأَوْصَلَكَ ، وَأَعْظَمَ عَفْوَكَ ، أَمَّا هَذِهِ فَإِنَّ فِي النَّفْسِ مِنْهَا حَتَّى الْآنَ شَيْءٌ ، قَالَ الْعَبَّاسُ : فَقُلْتُ : وَيْلَكَ ، أَسْلِمْ وَاشْهَدْ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ قَبْلَ أَنْ يُضْرَبَ عُنُقُكَ ، فَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ ، قَالَ الْعَبَّاسُ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ يُحِبُّ الْفَخْرَ ، فَاجْعَلْ لَهُ شَيْئًا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ إِلَى مَكَّةَ لِيُخْبِرَهُمْ ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : احْبِسْهُ بِمَضِيقٍ مِنَ الْوَادِي عِنْدَ حَطْمِ الْخَيْلِ ، حَتَّى تَمُرَّ بِهِ جُنُودُ اللهِ ، فَحَبَسَهُ الْعَبَّاسُ حَيْثُ أَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَرَّتِ الْقَبَائِلُ عَلَى رَايَاتِهَا ، فَكُلَّمَا مَرَّتْ رَايَةٌ ، قَالَ : مَنْ هَذِهِ ؟ فَأَقُولُ : بَنُو سُلَيْمٍ فَيَقُولُ : مَا لِي وَلِبَنِي سُلَيْمٍ ، ثُمَّ تَمُرُّ أُخْرَى ، فَيَقُولُ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ فَأَقُولُ : مُزَيْنَةُ ، فَيَقُولُ : مَا لِي وَلِمُزَيْنَةَ ، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَلِكَ حَتَّى مَرَّتْ كَتِيبَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَضْرَاءُ ، فِيهَا الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ ، لَا يُرَى مِنْهُمْ إِلَّا الْحَدَقُ ، قَالَ : مَنْ هَذَا ؟ فَقُلْتُ : هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : مَا لِأَحَدٍ بِهَؤُلَاءِ قِبَلٌ ، وَاللهِ لَقَدْ أَصْبَحَ مُلْكُ ابْنِ أَخِيكَ الْيَوْمَ لَعَظِيمٌ ، فَقُلْتُ : وَيْحَكَ يَا أَبَا سُفْيَانَ ، إِنَّهَا النُّبُوَّةُ ، قَالَ : فَنَعَمْ إِذًا ، فَقُلْتُ : النَّجَاءُ إِلَى قَوْمِكَ ، فَخَرَجَ حَتَّى أَتَاهُمْ بِمَكَّةَ ، فَجَعَلَ يَصِيحُ بِأَعْلَى صَوْتِهِ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، هَذَا مُحَمَّدٌ ، قَدْ أَتَاكُمْ بِمَا لَا قِبَلَ لَكُمْ بِهِ ، فَقَامَتِ امْرَأَتُهُ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ ، فَأَخَذَتْ بِشَارِبِهِ ، فَقَالَتِ : اقْتُلُوا الْحَمِيتَ الدَّسِمَ ، حَمِسَ الْبَعِيرُ مِنْ طَلِيعَةِ قَوْمٍ ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : لَا تَغُرَّنَّكُمْ هَذِهِ مِنْ أَنْفُسِكُمْ ، مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ ، فَقَالُوا : قَاتَلَكَ اللهُ ، وَمَا يُغْنِي عَنَّا دَارُكَ ؟ قَالَ : وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ .
هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ .
وَرَوَى مَعْمَرٌ ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ ، وَمَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، طَرَفًا مِنْهُ فِي قِصَّةِ الصَّوْمِ ، وَأَخْرَجَ ذَلِكَ الشَّيْخَانِ وَغَيْرُهُمَا .
وَرَوَى أَحْمَدُ طَرَفًا مِنْهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ إِسْحَاقَ .
وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ طَرَفًا مِنْهُ مِنْ قِصَّةِ أَبِي سُفْيَانَ مُخْتَصَرًا جِدًّا ، وَلَمْ يَسُقْهُ أَحَدٌ مِنَ الْأَئِمَّةِ السِّتَّةِ ، وَأَحْمَدُ بِتَمَامِهِ .
وَرَوَاهُ الذُّهْلِيُّ بِتَمَامِهِ بِالزُّهْرِيَّاتِ مِنْ طَرِيقِ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، لَكِنْ لَيْسَ فِيهِ تَصْرِيحُ ابْنِ إِسْحَاقَ بِسَمَاعِهِ لَهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ ، وَالسِّيَاقُ الَّذِي هُنَا حَسَنٌ جِدًّا .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان المبارک کی دس تاریخ کو مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے، آپ ﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں نے بھی، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ مقامِ کدید پر پہنچے تو روزہ افطار فرما دیا، پھر آپ ﷺ دس ہزار کے لشکرِ جرار کے ساتھ مقامِ مر الظہران پر خیمہ زن ہوئے، اس لشکر میں ایک ہزار مجاہدین قبیلہ مزینہ سے اور سات سو بنو سلیم سے تعلق رکھتے تھے، ادھر قریش تک مسلمانوں کی نقل و حرکت کی خبریں نہیں پہنچ رہی تھیں اور انہیں علم نہ تھا کہ نبی کریم ﷺ کیا ارادہ رکھتے ہیں، اسی رات ابوسفیان بن حرب، حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء خزاعی خبروں کی ٹوہ لینے کے لیے نکلے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی منزل پر قیام فرما لیا تو میں نے (نہایت فکر مندی سے) سوچا: ”ہائے قریش کی صبح کی بربادی! اللہ کی قسم! اگر رسول اللہ ﷺ مکہ میں بزورِ شمشیر داخل ہو گئے تو قریش ہمیشہ کے لیے ہلاک و برباد ہو جائیں گے“، چنانچہ میں رسول اللہ ﷺ کی سفید خچر پر سوار ہوا اور مقامِ اراک تک پہنچا اس امید میں کہ شاید کوئی لکڑہارا، دودھ والا یا کوئی ضرورت مند مل جائے جو مکہ جا کر انہیں رسول اللہ ﷺ کی آمد کی خبر دے دے تاکہ وہ (جنگ سے قبل ہی) آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر امان حاصل کر لیں، عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میں اسی مقصد کے لیے جا رہا تھا کہ اچانک مجھے ابوسفیان اور بدیل بن ورقاء کی گفتگو سنائی دی جو آپس میں بحث کر رہے تھے، ابوسفیان کہہ رہا تھا: ”اللہ کی قسم! میں نے آج کی رات جیسی کثیر آگ اور اتنا بڑا لشکر کبھی نہیں دیکھا“، بدیل نے کہا: ”خدا کی قسم! یہ قبیلہ خزاعہ ہے جسے جنگ نے مشتعل کر دیا ہے“، ابوسفیان نے جواب دیا: ”خزاعہ کی اتنی حیثیت و وقعت نہیں کہ یہ ان کی آگ ہو“، عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آواز دی: ”اے ابوحنظلہ!“ ابوسفیان نے میری آواز پہچان لی اور کہا: ”ابوالفضل؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں“، اس نے کہا: ”تمہارے لیے میرے ماں باپ فدا ہوں، کیا خبر ہے؟“ میں نے کہا: ”اللہ کی قسم! یہ رسول اللہ ﷺ اپنے عظیم لشکر کے ساتھ آ پہنچے ہیں، ہائے قریش کی بربادی!“ ابوسفیان نے گھبرا کر پوچھا: ”میرے ماں باپ تم پر قربان، اب بچاؤ کی کیا صورت ہے؟“ میں نے کہا: ”اللہ کی قسم! اگر آپ ﷺ تجھ پر قابو پا گئے تو تیری گردن اڑا دیں گے، لہٰذا اس خچر کے پیچھے سوار ہو جا“، چنانچہ وہ سوار ہو گیا اور اس کے ساتھی واپس لوٹ گئے، میں اسے لے کر چلا اور جب بھی مسلمانوں کی کسی آگ (کیمپ) کے پاس سے گزرتا تو وہ پوچھتے: ”یہ کون ہے؟“ لیکن جب وہ رسول اللہ ﷺ کی خچر اور اس پر ان کے چچا کو دیکھتے تو کہتے: ”یہ تو رسول اللہ ﷺ کی خچر ہے جس پر ان کے چچا سوار ہیں“، یہاں تک کہ میرا گزر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی آگ کے پاس سے ہوا، انہوں نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ اور میری طرف بڑھے، جب انہوں نے خچر کے پیچھے ابوسفیان کو دیکھا تو پہچان لیا اور پکار اٹھے: ”اللہ کی قسم! یہ اللہ کا دشمن ابوسفیان ہے، اس اللہ کا شکر ہے جس نے بغیر کسی عہد و پیمان کے تجھے ہمارے قابو میں دے دیا“، پھر وہ تیزی سے رسول اللہ ﷺ کے خیمے کی طرف دوڑے اور میں نے بھی خچر کو ایڑ لگائی تو ایک سست رفتار جانور جس طرح ایک سست رفتار آدمی سے آگے نکل جاتا ہے، میں اسی طرح ان سے پہلے پہنچ گیا، میں خچر سے کود کر رسول اللہ ﷺ کے پاس داخل ہوا تو پیچھے سے عمر رضی اللہ عنہ بھی آ گئے اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ اللہ کا دشمن ابوسفیان ہے، اللہ نے اسے بغیر کسی معاہدے کے ہمارے قبضے میں دے دیا ہے، لہٰذا مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی گردن اڑا دوں“، میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں نے اسے پناہ دے دی ہے“، پھر میں آپ ﷺ کے پاس بیٹھ گیا اور آپ ﷺ کا سرِ مبارک تھام کر عرض کی: ”آج کی رات میرے علاوہ کوئی اور آپ ﷺ سے اس کے بارے میں سرگوشی نہیں کرے گا“، جب عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بات پر اصرار کیا تو میں نے کہا: ”اے عمر! ٹھہر جاؤ، اللہ کی قسم! اگر یہ بنو عدی کا کوئی آدمی ہوتا تو تم ایسی بات نہ کرتے، لیکن تم جانتے ہو کہ یہ بنو عبد مناف سے ہے“، عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”اے عباس! آپ ایسی بات نہ کریں، اللہ کی قسم! جس دن آپ اسلام لائے تھے تو آپ کا اسلام لانا مجھے اپنے والد خطاب کے اسلام لانے سے زیادہ محبوب تھا (اگر وہ اسلام لاتے)، کیونکہ میں جانتا تھا کہ آپ کا اسلام لانا رسول اللہ ﷺ کو خطاب کے اسلام لانے سے زیادہ محبوب ہے“، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عباس! اسے اپنے ڈیرے پر لے جاؤ اور صبح میرے پاس لانا“، صبح جب میں اسے لے کر حاضر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھ کر فرمایا: ”اے ابوسفیان! کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ تم یہ جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں؟“ ابوسفیان نے کہا: ”میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کتنے بردبار، کتنے سخی اور کتنے صلہ رحمی کرنے والے ہیں، اور کتنا عظیم ہے آپ کا عفو و درگزر، اللہ کی قسم! میرے دل میں یہ خیال آتا رہا ہے کہ اگر اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہوتا تو وہ آج ضرور میرے کام آتا“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرا بھلا ہو اے ابوسفیان! کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ تم یہ جان لو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے کہا: ”میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کتنے بردبار، سخی اور صلہ رحمی والے ہیں، لیکن اس (رسالت) کے بارے میں ابھی تک دل میں کچھ کھٹک باقی ہے“، عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس سے کہا: ”تیری ہلاکت ہو! اس سے پہلے کہ تیری گردن اڑا دی جائے، اسلام قبول کر لے اور گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں“، چنانچہ اس نے کلمہ شہادت پڑھ لیا، عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ابوسفیان اعزاز و منصب کو پسند کرنے والا آدمی ہے، لہٰذا اس کے لیے کوئی امتیازی خصوصیت مقرر فرما دیں“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ٹھیک ہے، جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے وہ مامون ہے، اور جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے اسے بھی امان ہے“، جب وہ مکہ والوں کو خبر دینے کے لیے واپس مڑنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عباس! اسے وادی کے تنگ مقام پر پہاڑ کی چوٹی کے پاس روک لو تاکہ اللہ کے لشکر اس کے سامنے سے گزریں“، میں نے اسے وہیں روک لیا جہاں آپ ﷺ نے حکم دیا تھا، قبائل اپنے اپنے پرچموں تلے گزرنے لگے، جب بھی کوئی قبیلہ گزرتا تو ابوسفیان پوچھتا: ”یہ کون ہیں؟“ میں کہتا: ”بنو سلیم“، وہ کہتا: ”مجھے بنو سلیم سے کیا لینا دینا؟“ پھر دوسرا قبیلہ گزرتا تو وہ پوچھتا: ”یہ کون ہیں؟“ میں کہتا: ”قبیلہ مزینہ“، وہ کہتا: ”مجھے مزینہ سے کیا تعلق؟“ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کا سبز دستہ (الکتیبۃ الخضراء) گزرا جس میں مہاجرین و انصار شامل تھے اور آہنی لباس کی وجہ سے ان کی صرف آنکھیں نظر آ رہی تھیں، ابوسفیان نے حیرت سے پوچھا: ”یہ کون لوگ ہیں؟“ میں نے کہا: ”یہ رسول اللہ ﷺ ہیں جو مہاجرین اور انصار کے جھرمٹ میں تشریف فرما ہیں“، ابوسفیان نے بے ساختہ کہا: ”ان کا مقابلہ کرنے کی کسی میں طاقت نہیں، اللہ کی قسم! تمہارے بھتیجے کی سلطنت تو آج بہت عظیم ہو گئی ہے“، میں نے کہا: ”اے ابوسفیان! یہ سلطنت نہیں بلکہ نبوت ہے“، اس نے کہا: ”ہاں! پھر تو ٹھیک ہے“، میں نے کہا: ”اب اپنی قوم کی طرف بھاگو اور انہیں بچاؤ“، چنانچہ وہ مکہ پہنچا اور بلند آواز سے چیخ کر کہنے لگا: ”اے گروہِ قریش! یہ محمد ﷺ ایسا لشکر لے کر آ پہنچے ہیں جس کا تم مقابلہ نہیں کر سکتے، لہٰذا جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے اسے امان ہے“، اس کی بیوی ہند بنت عتبہ کھڑی ہوئی اور اس کی مونچھیں پکڑ کر کہنے لگی: ”اس بدبودار چمڑے کے تھیلے کو قتل کر دو، یہ اپنی قوم کا کتنا برا ہراول دستہ ثابت ہوا ہے“، ابوسفیان نے کہا: ”لوگو! یہ عورت تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے، جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو گیا اسے امان ہے“، لوگوں نے کہا: ”اللہ تجھے غارت کرے! تیرا گھر ہمارے کتنے کام آئے گا؟“ اس نے کہا: ”اور جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے اسے بھی امان ہے“۔
یہ حدیث صحیح ہے، اور معمر، ابن عیینہ اور امام مالک نے زہری سے اس کا کچھ حصہ روزے کے قصے کے ضمن میں روایت کیا ہے جسے شیخین (بخاری و مسلم) وغیرہ نے نکالا ہے، امام احمد نے اس کا کچھ حصہ ابن اسحاق کی حدیث سے روایت کیا ہے، امام ابوداؤد نے ابوسفیان کے قصے کا ایک حصہ نہایت مختصر روایت کیا ہے، ائمہ ستہ میں سے کسی نے اور نہ ہی امام احمد نے اسے اس تمام تفصیل کے ساتھ روایت کیا ہے، امام ذہلی نے 'زہریات' میں ابوادریس کے واسطے سے محمد بن اسحاق سے اسے مکمل نقل کیا ہے، لیکن اس میں ابن اسحاق کی زہری سے سماع کی تصریح موجود نہیں ہے، جبکہ یہاں موجود سیاق نہایت عمدہ ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4301
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ . »
«أخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 4416، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 7264، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 10233، 10234، وأخرجه شرح معاني الآثار برقم: 5450، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4603»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : لَمَّا فَتَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ رَنَّ إِبْلِيسُ رَنَّةً ، فَاجْتَمَعَتْ إِلَيْهِ ذُرِّيَّتُهُ ، فَقَالَ : ايْأَسُوا أَنْ تَرُدُّوا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ إِلَى الشِّرْكِ بَعْدَ يَوْمِكُمْ هَذَا ، وَلَكِنْ أَفْشُوا فِيهِمْ - يَعْنِي : بِمَكَّةَ ، النَّوْحَ وَالشِّعْرَ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے مکہ مکرمہ کو فتح فرمایا تو ابلیسِ لعین نے ایک نہایت ہی زوردار چیخ ماری، جس کی آواز سن کر اس کی پوری ذریت (شیطانی چیلے) اس کے پاس جمع ہو گئی، تو اس نے ان سے کہا: ”تم اب اس امر سے قطعی طور پر ناامید ہو جاؤ کہ آج کے اس دن کے بعد تم امتِ محمد (ﷺ) کو دوبارہ کبھی شرک کی طرف لوٹا سکو گے، البتہ ان کے درمیان—یعنی مکہ میں—نوحہ خوانی اور (بیہودہ) اشعار و شاعری کا رواج عام کر دو۔“
[تخريج: اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند (4302) میں روایت کیا ہے، امام حاکم نے المستدرک (2/460) میں اسے صحیح قرار دیا ہے اور علامہ البانی نے بھی ارواء الغلیل (2012) میں اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے]۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4302
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 101، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 12318»
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ هُوَ ابْنُ سَوَّارٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : دَخَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ ، وَفِي الْبَيْتِ أَوْ حَوْلَ الْبَيْتِ ثَلَاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ صَنَمًا تُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللهِ تَعَالَى ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُكِبَّتْ لِوَجْهِهَا ، ثُمَّ قَالَ : جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا ، ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ ، فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ، فَرَأَى فِيهِ تِمْثَالَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ ، وَقَدْ جَعَلُوا فِي يَدِ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْلَامَ يَسْتَقْسِمُ بِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَاتَلَهُمُ اللهُ ، مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَسْتَقْسِمُ بِالْأَزْلَامِ ، ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَعْفَرَانٍ فَلَطَّخَهُ بِتِلْكَ التَّمَاثِيلِ .
إِسْنَادُهُ حَسَنٌ .
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کی معیت میں مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو بیت اللہ کے اندر یا اس کے ارد گرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے جن کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی تھی، پس رسول اللہ ﷺ نے (انہیں گرانے کا) حکم دیا تو وہ سب اوندھے منہ گرا دیے گئے، پھر آپ ﷺ نے (قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت) فرمائی: ﴿جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾ [سورة الإسراء: 81] ”حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل تو مٹنے ہی والی چیز ہے“، پھر رسول اللہ ﷺ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے اور وہاں دو رکعتیں ادا کیں، وہاں آپ ﷺ نے سیدنا ابراہیم، سیدنا اسماعیل اور سیدنا اسحاق علیہم السلام کی تصویریں (مجسمے) دیکھیں اور (مشرکین نے) سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھ میں فال نکالنے والے تیر (پانسے) تھما رکھے تھے جن کے ذریعے وہ قسمت معلوم کیا کرتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے (یہ دیکھ کر) فرمایا: «قَاتَلَهُمُ اللهُ» ”اللہ انہیں غارت کرے، ابراہیم علیہ السلام کبھی بھی پانسوں سے فال نہیں نکالا کرتے تھے“، پھر رسول اللہ ﷺ نے زعفران طلب فرمایا اور اسے ان تصویروں پر مل دیا (تاکہ ان کے نشانات مٹ جائیں)۔
اس کی سند حسن ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4303
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: إِسْنَادُهُ حَسَنٌ . »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 7، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4604»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ أَرْسَلَ إِلَى أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ : أَنَّهُ يُرِيدُ مَكَّةَ ، مِنْهُمْ حَاطِبُ بْنُ أَبِي بَلْتَعَةَ ، وَفَشَا فِي النَّاسِ أَنَّهُ يُرِيدُ حُنَيْنًا ، قَالَ : فَكَتَبَ حَاطِبٌ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُكُمْ ، قَالَ : فَبَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَبَا مَرْثَدٍ ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قِصَّةِ الْكِتَابِ الَّذِي مَعَ الْمَرْأَةِ بِرَوْضَةِ خَاخٍ ، وَفِيهِ : قَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ : فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ قُبُلِهَا .
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ کی طرف (پیش قدمی کا) ارادہ فرمایا تو آپ ﷺ نے اپنے بعض صحابہ کرام کو بلا بھیجا (اور مطلع کیا) کہ آپ ﷺ کا رخ مکہ کی جانب ہے، ان لوگوں میں حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ جبکہ عام لوگوں میں یہ بات پھیل گئی تھی کہ آپ ﷺ کا ارادہ مقامِ حنین کی طرف جانے کا ہے۔ حاطب رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ کی طرف ایک خط لکھ بھیجا کہ رسول اللہ ﷺ تمہاری طرف پیش قدمی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے مجھے اور ابو مرثد رضی اللہ عنہ کو (اس کے تعاقب میں) روانہ فرمایا... پھر راوی نے روضہِ خاخ کے مقام پر موجود اس عورت کے پاس سے خط برآمد ہونے کا پورا قصہ ذکر کیا، اور اس روایت میں یہ بھی منقول ہے کہ حبیب بن ابی ثابت نے کہا: اس عورت نے وہ خط اپنے بدن کے سامنے والے حصے (شرمگاہ کے مقام) سے نکال کر پیش کیا تھا۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، یہ روایت اصل میں صحیح بخاری و مسلم میں بھی موجود ہے، جبکہ عورت کے خط چھپانے کے مقام کی تفصیل دیگر طرق میں بھی مذکور ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4304
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 10230، 10231، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4609»
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَوْ عَنْ غَيْرِهِ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِلَالًا أَنْ يُؤَذِّنَ يَوْمَ الْفَتْحِ عَلَى ظَهْرِ الْكَعْبَةِ ، وَالْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ وَصَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ قَاعِدَانِ ، أَحَدُهُمَا بِجَنْبَيْ صَاحِبِهِ ، يُشِيرَانِ إِلَى بِلَالٍ ، يَقُولُ أَحَدُهُمَا : انْظُرْ إِلَى هَذَا الْعَبْدِ ، فَقَالَ الْآخَرُ : إِنْ يَكْرَهْهُ اللهُ يُغَيِّرْهُ .
( 206 ) وَحَدِيثُ حَاطِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَضَى فِي الْمُمْتَحَنَةِ .
ترجمہ
عبداللہ بن ابی ملیکہ رحمہ اللہ یا مکہ کے کسی دوسرے شخص سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فتحِ مکہ کے دن سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دیں، اس وقت حارث بن ہشام اور صفوان بن امیہ ایک دوسرے کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر رہے تھے، ان میں سے ایک نے کہا: ”ذرا اس غلام کو تو دیکھو!“ تو دوسرے نے جواب دیا: ”اگر اللہ تعالیٰ کو یہ بات ناپسند ہوئی تو وہ اسے خود ہی بدل دے گا۔“
اور سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ کی حدیث سورہ ممتحنہ کی تفسیر کے بیان میں پہلے گزر چکی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4305
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل، إسناده حسن لغيره. »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 229، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 38080»
قَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : لَمَّا وَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي طُوًى ، قَالَ أَبُو قُحَافَةَ لِأَصْغَرِ بَنَاتِهِ : اصْعَدِي بِي عَلَى الْجَبَلِ ، وَكَانَ يَوْمَئِذٍ أَعْمَى ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ ، وَفِيهَا : وَكَانَ فِي عُنُقِ الْجَارِيَةِ طَوْقٌ لَهَا مِنْ وَرِقٍ ، فَمَرَّ عَلَيْهَا رَجُلٌ فَاقْتَطَعَهُ ، وَفِي آخِرِهِ قَوْلُ أَبِي بَكْرٍ : يَا أُخْتَهْ احْتَسِبِيهِ ، فَوَاللهِ إِنَّ الْأَمَانَةَ فِي النَّاسِ لَقَلِيلَةٌ .
أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ بِطُولِهِ إِلَّا قَوْلَ أَبِي بَكْرٍ الْأَخِيرَ .
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ (فتح مکہ کے موقع پر) ذی طویٰ کے مقام پر قیام پذیر ہوئے تو ابوقحافہ نے اپنی سب سے چھوٹی بیٹی سے کہا: ”مجھے پہاڑ پر لے چلو“، اور وہ ان دنوں نابینا ہو چکے تھے، پھر راوی نے پورا قصہ بیان کیا جس میں یہ ذکر بھی ہے کہ اس بچی کے گلے میں چاندی کا ایک ہار تھا، پس ایک شخص وہاں سے گزرا اور اس نے وہ ہار زبردستی چھین لیا، اور اس واقعے کے آخر میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اپنی ہمشیرہ سے متعلق یہ قول ہے: ”اے میری بہن! اس نقصان پر اللہ سے اجر کی امید رکھو اور صبر کرو، کیونکہ اللہ کی قسم! اب لوگوں میں امانت داری بہت کم رہ گئی ہے۔“
اسے امام احمد نے تفصیل کے ساتھ روایت کیا ہے، سوائے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آخری قول کے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4306
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه صحيح ابن حبان برقم: 7208، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 4388، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 18351، وأخرجه مسند أحمد برقم: 27598، وأخرجه شرح مشكل الآثار للطحاوي برقم: 3684، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 236»