المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ غزوة الْفَتْحِ باب: غزوۂ فتحِ مکہ کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قُرَيْشٍ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّكُمْ إِنْ تَبْرَؤُوا مِنْ حِلْفِ بَنِي بَكْرٍ أَوْ تَدُوا خُزَاعَةَ ، وَإِلَّا أُوذِنُكُمْ بِحَرْبٍ . فَقَالَ قَرَظَةُ بْنُ عَبْدِ عَمْرِو بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ صِهْرُ مُعَاوِيَةَ : إِنَّ بَنِي بَكْرٍ قَوْمٌ مَشَائِيمُ ، فَلَا نَدِي مَا قَتَلُوا ، لَا يَبْقَى لَنَا سَبَدٌ وَلَا لَبَدٌ ، وَلَا نَبْرَأُ مِنْ حِلْفِهِمْ ، فَلَمْ يَبْقَ عَلَى دِينِنَا أَحَدٌ غَيْرُهُمْ ، وَلَكِنَّا نُؤْذِنُهُ بِحَرْبٍ .
هَذَا مُرْسَلٌ ، صَحِيحٌ إِسْنَادُهُ .محمد بن عباد بن جعفر سے مرسلاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قریش کی طرف پیغام بھیجا کہ: ”حمد و ثنا کے بعد، (واضح ہو کہ) اگر تم لوگ بنو بکر کی حلف داری سے دستبردار ہو جاؤ یا بنو خزاعہ (کے مقتولین) کا خون بہا ادا کر دو (تو بہتر ہے)، ورنہ میں تمہیں جنگ کا اعلان کرتا ہوں۔“ اس پر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سسر قرظہ بن عبد عمرو بن نوفل بن عبد مناف نے کہا: ”بنو بکر ایک منحوس قوم ہے، انہوں نے جنہیں قتل کیا ہے ہم ان کی دیت ادا نہیں کریں گے، (اگر ہم نے ایسا کیا تو) ہمارے پاس «سَبَدٌ وَلَا لَبَدٌ» ”مال و متاع کا نام و نشان تک“ باقی نہیں رہے گا، اور نہ ہی ہم ان کے حلف سے دستبردار ہوں گے، کیونکہ ان کے سوا ہمارے دین پر اب کوئی دوسرا باقی نہیں رہا، بلکہ ہم انہیں جنگ کا پیغام دیتے ہیں۔“
یہ روایت مرسل ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔