المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ غزوة الْفَتْحِ باب: غزوۂ فتحِ مکہ کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حِزَامِ بْنِ هِشَامِ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضِبَ فِيمَا كَانَ مِنْ شَأْنِ بَنِي كَعْبٍ غَضَبًا لَمْ أَرَهُ غَضِبَهُ مُنْذُ زَمَانٍ ، وَقَالَ : لَا نَصَرَنِي اللهُ إِنْ لَمْ أَنْصُرْ بَنِي كَعْبٍ ، وَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُولِي لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَلْيَتَجَهَّزَا لِهَذَا الْغَزْوِ .
قَالَ : فَجَاءَا إِلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَا لَهَا : أَيْنَ يُرِيدُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ : لَقَدْ رَأَيْتُهُ غَضِبَ فِيمَا كَانَ مِنْ شَأْنِ بَنِي كَعْبٍ غَضَبًا لَمْ أَرَهُ غَضِبَهُ مُنْذُ زَمَانٍ مِنَ الدَّهْرِ .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو بنو کعب کے معاملے میں پیش آنے والے واقعے پر اس قدر شدید غصے کی حالت میں دیکھا کہ اس سے قبل ایک طویل عرصے سے میں نے آپ ﷺ کو اتنا غضب ناک ہوتے نہیں دیکھا تھا۔“ اور آپ ﷺ نے فرمایا: «لَا نَصَرَنِي اللهُ إِنْ لَمْ أَنْصُرْ بَنِي كَعْبٍ» ”اللہ میری مدد نہ کرے اگر میں بنو کعب کی مدد نہ کروں۔“ نیز آپ ﷺ نے (مجھ سے) فرمایا: ”تم سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے کہہ دو کہ وہ اس غزوے کے لیے رختِ سفر باندھ کر تیاری کر لیں۔“
راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر وہ دونوں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے دریافت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارادہ کس سمت جانے کا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”میں نے آپ ﷺ کو بنو کعب کے معاملے میں اس قدر شدید غصے میں دیکھا ہے کہ میں نے ایک طویل زمانے سے آپ ﷺ کو اس درجہ غضب ناک ہوتے نہیں دیکھا تھا۔“