المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ غزوة مؤتة باب: غزوہ موتہ کا بیان۔
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : جَاءَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ بَعْدَ قَتْلِ أَبِيهِ ، فَقَامَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ مِنَ الْغَدِ ، فَقَامَ فِي مَقَامِهِ ذَلِكَ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ : أُلَاقِي مِنْكَ الْيَوْمَ مَا لَقِيتُهُ مِنْكَ أَمْسِ ؟ .
هَذَا صُورَتُهُ مُرْسَلٌ ، فَإِنْ كَانَ قَيْسٌ سَمِعَهُ مِنْ أُسَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَهُوَ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ .قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ اپنے والد کی شہادت کے بعد رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کے سامنے آ کر کھڑے ہوئے، تو رسول اللہ ﷺ کی چشمانِ مبارک اشکبار ہو گئیں۔ پھر وہ اگلے روز دوبارہ حاضر ہوئے اور اسی جگہ کھڑے ہو گئے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا: ”کیا میں آج بھی تمہاری وجہ سے وہی (رقت آمیز کیفیت) محسوس کروں گا جو میں نے کل تمہاری وجہ سے محسوس کی تھی؟“
یہ روایت اپنی ظاہری صورت کے اعتبار سے مرسل ہے، تاہم اگر قیس بن ابی حازم نے اسے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے براہِ راست سنا ہو تو یہ شیخین (امام بخاری و امام مسلم) کی شرط پر صحیح ہے۔