المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ غزوة الْفَتْحِ باب: غزوۂ فتحِ مکہ کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ أَرْسَلَ إِلَى أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ : أَنَّهُ يُرِيدُ مَكَّةَ ، مِنْهُمْ حَاطِبُ بْنُ أَبِي بَلْتَعَةَ ، وَفَشَا فِي النَّاسِ أَنَّهُ يُرِيدُ حُنَيْنًا ، قَالَ : فَكَتَبَ حَاطِبٌ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُكُمْ ، قَالَ : فَبَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَبَا مَرْثَدٍ ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قِصَّةِ الْكِتَابِ الَّذِي مَعَ الْمَرْأَةِ بِرَوْضَةِ خَاخٍ ، وَفِيهِ : قَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ : فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ قُبُلِهَا .سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ کی طرف (پیش قدمی کا) ارادہ فرمایا تو آپ ﷺ نے اپنے بعض صحابہ کرام کو بلا بھیجا (اور مطلع کیا) کہ آپ ﷺ کا رخ مکہ کی جانب ہے، ان لوگوں میں حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ جبکہ عام لوگوں میں یہ بات پھیل گئی تھی کہ آپ ﷺ کا ارادہ مقامِ حنین کی طرف جانے کا ہے۔ حاطب رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ کی طرف ایک خط لکھ بھیجا کہ رسول اللہ ﷺ تمہاری طرف پیش قدمی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے مجھے اور ابو مرثد رضی اللہ عنہ کو (اس کے تعاقب میں) روانہ فرمایا... پھر راوی نے روضہِ خاخ کے مقام پر موجود اس عورت کے پاس سے خط برآمد ہونے کا پورا قصہ ذکر کیا، اور اس روایت میں یہ بھی منقول ہے کہ حبیب بن ابی ثابت نے کہا: اس عورت نے وہ خط اپنے بدن کے سامنے والے حصے (شرمگاہ کے مقام) سے نکال کر پیش کیا تھا۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، یہ روایت اصل میں صحیح بخاری و مسلم میں بھی موجود ہے، جبکہ عورت کے خط چھپانے کے مقام کی تفصیل دیگر طرق میں بھی مذکور ہے۔