المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ غزوة الْفَتْحِ باب: غزوۂ فتحِ مکہ کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ هُوَ ابْنُ سَوَّارٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : دَخَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ ، وَفِي الْبَيْتِ أَوْ حَوْلَ الْبَيْتِ ثَلَاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ صَنَمًا تُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللهِ تَعَالَى ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُكِبَّتْ لِوَجْهِهَا ، ثُمَّ قَالَ : جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا ، ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ ، فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ، فَرَأَى فِيهِ تِمْثَالَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ ، وَقَدْ جَعَلُوا فِي يَدِ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْلَامَ يَسْتَقْسِمُ بِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَاتَلَهُمُ اللهُ ، مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَسْتَقْسِمُ بِالْأَزْلَامِ ، ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَعْفَرَانٍ فَلَطَّخَهُ بِتِلْكَ التَّمَاثِيلِ .
إِسْنَادُهُ حَسَنٌ .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کی معیت میں مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو بیت اللہ کے اندر یا اس کے ارد گرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے جن کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی تھی، پس رسول اللہ ﷺ نے (انہیں گرانے کا) حکم دیا تو وہ سب اوندھے منہ گرا دیے گئے، پھر آپ ﷺ نے (قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت) فرمائی: ﴿جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾ [سورة الإسراء: 81] ”حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل تو مٹنے ہی والی چیز ہے“، پھر رسول اللہ ﷺ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے اور وہاں دو رکعتیں ادا کیں، وہاں آپ ﷺ نے سیدنا ابراہیم، سیدنا اسماعیل اور سیدنا اسحاق علیہم السلام کی تصویریں (مجسمے) دیکھیں اور (مشرکین نے) سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھ میں فال نکالنے والے تیر (پانسے) تھما رکھے تھے جن کے ذریعے وہ قسمت معلوم کیا کرتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے (یہ دیکھ کر) فرمایا: «قَاتَلَهُمُ اللهُ» ”اللہ انہیں غارت کرے، ابراہیم علیہ السلام کبھی بھی پانسوں سے فال نہیں نکالا کرتے تھے“، پھر رسول اللہ ﷺ نے زعفران طلب فرمایا اور اسے ان تصویروں پر مل دیا (تاکہ ان کے نشانات مٹ جائیں)۔
اس کی سند حسن ہے۔