❮
❯
حدیث نمبر: 4306
قَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : لَمَّا وَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي طُوًى ، قَالَ أَبُو قُحَافَةَ لِأَصْغَرِ بَنَاتِهِ : اصْعَدِي بِي عَلَى الْجَبَلِ ، وَكَانَ يَوْمَئِذٍ أَعْمَى ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ ، وَفِيهَا : وَكَانَ فِي عُنُقِ الْجَارِيَةِ طَوْقٌ لَهَا مِنْ وَرِقٍ ، فَمَرَّ عَلَيْهَا رَجُلٌ فَاقْتَطَعَهُ ، وَفِي آخِرِهِ قَوْلُ أَبِي بَكْرٍ : يَا أُخْتَهْ احْتَسِبِيهِ ، فَوَاللهِ إِنَّ الْأَمَانَةَ فِي النَّاسِ لَقَلِيلَةٌ .
أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ بِطُولِهِ إِلَّا قَوْلَ أَبِي بَكْرٍ الْأَخِيرَ .
ترجمہ

سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ (فتح مکہ کے موقع پر) ذی طویٰ کے مقام پر قیام پذیر ہوئے تو ابوقحافہ نے اپنی سب سے چھوٹی بیٹی سے کہا: ”مجھے پہاڑ پر لے چلو“، اور وہ ان دنوں نابینا ہو چکے تھے، پھر راوی نے پورا قصہ بیان کیا جس میں یہ ذکر بھی ہے کہ اس بچی کے گلے میں چاندی کا ایک ہار تھا، پس ایک شخص وہاں سے گزرا اور اس نے وہ ہار زبردستی چھین لیا، اور اس واقعے کے آخر میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اپنی ہمشیرہ سے متعلق یہ قول ہے: ”اے میری بہن! اس نقصان پر اللہ سے اجر کی امید رکھو اور صبر کرو، کیونکہ اللہ کی قسم! اب لوگوں میں امانت داری بہت کم رہ گئی ہے۔“
اسے امام احمد نے تفصیل کے ساتھ روایت کیا ہے، سوائے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آخری قول کے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4306
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه صحيح ابن حبان برقم: 7208، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 4388، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 18351، وأخرجه مسند أحمد برقم: 27598، وأخرجه شرح مشكل الآثار للطحاوي برقم: 3684، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 236»