المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ غزوة الْفَتْحِ باب: غزوۂ فتحِ مکہ کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ أَمَّنَ النَّاسَ إِلَّا أَرْبَعَةً .
4299 \ 2 - وَقَالَ الْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّلَائِلِ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَمَّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ إِلَّا أَرْبَعَةً مِنَ النَّاسِ : عَبْدَ الْعُزَّى بْنَ خَطَلٍ ، وَمِقْيَسَ بْنَ صُبَابَةَ ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ سَعْدٍ ، وَأُمَّ سَارَةَ ، فَأَمَّا عَبْدُ الْعُزَّى بْنُ خَطَلٍ فَإِنَّهُ قُتِلَ وَهُوَ آخِذٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ ، قَالَ : وَنَذَرَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يَقْتُلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَعْدٍ إِذَا رَآهُ ، وَكَانَ أَخَا عُثْمَانَ مِنَ الرَّضَاعَةِ ، فَأَتَى بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَشْفَعَ لَهُ ، فَلَمَّا بَصُرَ بِهِ الْأَنْصَارِيُّ اشْتَمَلَ عَلَى السَّيْفِ ثُمَّ أَتَاهُ ، فَوَجَدَهُ فِي حَلْقَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ الْأَنْصَارِيُّ يَتَرَدَّدُ وَيَكْرَهُ أَنْ يَقْدَمَ عَلَيْهِ ، لِأَنَّهُ فِي حَلْقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَسَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَبَايَعَهُ ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِيِّ : قَدِ انْتَظَرْتُكَ أَنْ تُوَفِّيَ بِنَذْرِكَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، هِبْتُكَ ، أَفَلَا أَوْمَأْتَ إِلَيَّ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهُ لَيْسَ لِلنَّبِيِّ أَنْ يَكُونَ يُومِئُ .
قَالَ : وَأَمَّا مِقْيَسُ بْنُ صُبَابَةَ فَإِنَّهُ كَانَ لَهُ أَخٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُتِلَ خَطَأً ، فَبَعَثَ مَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ بَنِي فِهْرٍ لِيَأْخُذَ عَقْلَهُ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَلَمَّا جَمَعَ لَهُ الْعَقْلَ وَرَجَعَ نَامَ الْفِهْرِيُّ ، فَوَثَبَ مِقْيَسٌ فَأَخَذَ حَجَرًا فَجَلَدَ بِهِ رَأْسَهُ فَقَتَلَهُ ، وَأَقْبَلَ يَقُولُ :
شَفَى النَّفْسَ مَنْ قَدْ بَاتَ بِالْقَاعِ مُسْنَدًا يُضَرِّجُ ثَوْبَيْهِ دِمَاءُ الْأَخَادِعِ وَكَانَتْ هُمُومُ النَّفْسِ مِنْ قَبْلِ قَتْلِهِ
تُلِمُّ وَتُنْسِينِي وِطَاءَ الْمَضَاجِعِ قَتَلْتُ بِهِ فِهْرًا وَغَرَّمْتُ عَقْلَهُ
سَرَاةَ بَنِي النَّجَّارِ أَرْبَابَ فَارِعِ حَلَلْتُ بِهِ نَذْرِي وَأَدْرَكْتُ ثُؤْرَتِي
وَكُنْتُ إِلَى الْأَوْثَانِ أَوَّلَ رَاجِعِ
وَأَمَّا أُمُّ سَارَةَ : فَإِنَّهَا كَانَتْ مَوْلَاةَ قُرَيْشٍ ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَتْ إِلَيْهِ الْحَاجَةَ ، فَأَعْطَاهَا شَيْئًا ، ثُمَّ أَتَاهَا رَجُلٌ فَبَعَثَ مَعَهَا بِكِتَابٍ إِلَى مَكَّةَ ... فَذَكَرَ قِصَّةَ حَاطِبٍ ، كَذَا فِي الْأَصْلِ .
4299 \ 3 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، هُوَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ : اسْمُ ابْنِ خَطَلٍ : عَبْدُ اللهِ ، كَانَتْ لَهُ جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِهِجَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ كُلَّهُمْ آمِنِينَ إِلَّا ابْنَ خَطَلٍ وَقَيْنَتَيْهِ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ وَمِقْيَسَ بْنَ صُبَابَةَ اللَّيْثِيَّ ، فَإِنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَجْعَلْ لَهُمُ الْأَمَانَ ، فَقُتِلُوا كُلُّهُمْ إِلَّا إِحْدَى الْقَيْنَتَيْنِ فَإِنَّهَا أَسْلَمَتْ .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ میں فاتحانہ طور پر داخل ہوئے تو آپ ﷺ نے چار افراد کے علاوہ تمام لوگوں کو امان عطا فرما دی تھی۔
امام بیہقی کی 'دلائل النبوۃ' کی روایت میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے روز رسول اللہ ﷺ نے چار افراد کے سوا سب کو امان دی: عبد العزی بن خطل، مقیس بن صبابہ، عبد اللہ بن سعد اور ام سارہ۔ جہاں تک عبد العزی بن خطل کا معاملہ ہے، اسے اس حال میں قتل کیا گیا کہ وہ کعبہ کے پردوں کو تھامے ہوئے تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ ایک انصاری صحابی نے نذر مانی تھی کہ وہ عبد اللہ بن سعد کو جہاں دیکھیں گے قتل کر دیں گے، وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے رضاعی بھائی تھے، چنانچہ سیدنا عثمان انہیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لائے تاکہ ان کی سفارش کر سکیں اور انہیں پناہ دلائیں؛ جب اس انصاری نے انہیں دیکھا تو اپنی تلوار پر گرفت مضبوط کی اور آگے بڑھے، مگر دیکھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں بیٹھے ہیں، چنانچہ انصاری صحابی تذبذب کا شکار رہے اور نبی کریم ﷺ کی مجلس کی حرمت کے باعث ان پر حملہ کرنا ناپسند کیا، بالآخر نبی کریم ﷺ نے اپنا دستِ مبارک بڑھا کر ان کی بیعت قبول فرما لی۔ پھر آپ ﷺ نے اس انصاری صحابی سے فرمایا: ”میں اس انتظار میں تھا کہ تم اپنی نذر پوری کر لو۔“ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! مجھ پر آپ کی ہیبت و جلال طاری تھا، کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ نے مجھے آنکھ سے اشارہ فرما دیا ہوتا؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کسی نبی کے لیے یہ زیبا نہیں کہ وہ چوری چھپے آنکھوں سے اشارے کرے۔“ راوی کہتے ہیں کہ جہاں تک مقیس بن صبابہ کا تعلق ہے، اس کا ایک بھائی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا جو غلطی سے قتل ہو گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے ہمراہ بنو فہر کے ایک شخص کو بھیجا تاکہ وہ انصار سے دیت وصول کرے، جب اس فہری نے دیت وصول کر لی اور واپسی پر وہ سو گیا تو مقیس نے اس پر حملہ کر کے پتھر سے اس کا سر کچل دیا اور اسے قتل کر ڈالا، پھر وہ یہ اشعار گنگنانے لگا: ”اس مقتول نے میری روح کو سکون بخشا جو زمین پر پڑا رہا اور اس کی گردن کی رگوں کے خون نے اس کے دونوں کپڑوں کو لال کر دیا؛ اس کے قتل سے قبل میرے نفس کے غم مجھ پر امڈ آتے تھے اور میری نیندیں اڑا دیتے تھے؛ میں نے اس کے بدلے ایک فہری کو قتل کیا اور قلعہ فارع کے مالک بنو نجار کے سرداروں سے اس کا خون بہا بھی وصول کر لیا؛ میں نے اس کے ذریعے اپنی منت پوری کی، اپنا انتقام لیا اور میں وہ پہلا شخص ہوں جو دوبارہ بتوں کی طرف لوٹ آیا۔“ جہاں تک ام سارہ کا تعلق ہے، وہ قریش کی ایک آزاد کردہ لونڈی تھی، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئی اور اپنی فقر و فاقہ کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے اسے کچھ مال عطا فرمایا، پھر ایک شخص اس کے پاس آیا اور اس کے ذریعے اہل مکہ کی طرف ایک خط بھیجا، اس کے بعد راوی نے حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر کیا جیسا کہ اصل متن میں ہے۔
امام حارث کی روایت میں ابو سلمہ خزاعی بیان کرتے ہیں کہ ابن خطل کا نام عبد اللہ تھا، اس کی دو گانے والی لونڈیاں تھیں جو رسول اللہ ﷺ کی مذمت میں گانے گاتی تھیں، رسول اللہ ﷺ نے ابن خطل، اس کی دو لونڈیوں، عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح اور مقیس بن صبابہ لیثی کے سوا تمام لوگوں کو امان دے دی تھی، چنانچہ وہ سب قتل کر دیے گئے سوائے ان میں سے ایک لونڈی کے کہ وہ بعد میں اسلام لے آئی۔