کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مشترکہ فضیلتوں کا بیان۔
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، ثَنَا أَبُو حَرْبِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، قَالَا : بَيْنَا النَّاسُ ذَاتَ يَوْمٍ عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذْ وَافَقُوا مِنْهُ طِيبَ نَفْسٍ ، فَقَالُوا : حَدِّثْنَا عَنْ أَصْحَابِكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : عَنْ أَيِّ أَصْحَابِي ؟ قَالُوا : أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : كُلُّ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابِي ، فَأَيُّهُمْ تُرِيدُونَ ؟ قَالُوا : النَّفَرُ الَّذِي رَأَيْنَاكَ تُلَطِّفُهُمْ بِذِكْرِكَ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِمْ دُونَ الْقَوْمِ ، قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَيُّهُمْ ؟ قَالُوا : عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : عَلِمَ السُّنَّةَ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ ، وَكَفَى بِهِ عِلْمًا .
ثُمَّ خَتَمَ بِهِ عِنْدَهُ فَلَمْ يَدْرُوا عَلَى مَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ "كَفَى بِهِ عِلْمًا" ، كَفَى بِعَبْدِ اللهِ أَمْ كَفَى بِالْقُرْآنِ ؟
قَالُوا : فَحُذَيْفَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : عَلِمَ أَوْ عُلِّمَ أَسْمَاءَ الْمُنَافِقِينَ ، وَسَأَلَ عَنِ الْمُعْضِلَاتِ حَتَّى عَقَلَ عَنْهَا ، فَإِنْ سَأَلْتُمُوهُ عَنْهَا تَجِدُونَهُ بِهَا عَالِمًا .
قَالُوا : فَأَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : وِعَاءٌ مُلِئَ عِلْمًا ، وَكَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ شَحِيحًا حَرِيصًا ، شَحِيحًا عَلَى دِينِهِ ، حَرِيصًا عَلَى الْعِلْمِ ، وَكَانَ يُكْثِرُ السُّؤَالَ فَيُعْطَى وَيُمْنَعُ ، أَمَا إِنَّهُ قَدْ مُلِئَ لَهُ فِي وِعَائِهِ حَتَّى امْتَلَأَ .
قَالُوا : فَسَلْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : امْرُؤٌ مِنَّا وَإِلَيْنَا أَهْلَ الْبَيْتِ ، مَنْ لَكُمْ بِمِثْلِ لُقْمَانَ الْحَكِيمِ ، عَلِمَ الْعِلْمَ الْأَوَّلَ ، وَأَدْرَكَ الْعِلْمَ الْآخِرَ ، وَقَرَأَ الْكِتَابَ الْأَوَّلَ وَالْكِتَابَ الْآخِرَ ، وَكَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَحْرًا لَا يُنْزَفُ .
قَالُوا : فَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : ذَاكَ امْرُؤٌ خَلَطَ اللهُ تَعَالَى الْإِيمَانَ بِلَحْمِهِ وَدَمِهِ وَعَظْمِهِ وَشَعَرِهِ وَبَشَرِهِ ، لَا يُفَارِقُ الْحَقَّ سَاعَةً ، حَيْثُ زَالَ زَالَ مَعَهُ ، لَا يَنْبَغِي لِلنَّارِ أَنْ تَأْكُلَ مِنْهُ شَيْئًا .
قَالُوا : فَحَدِّثْنَا عَنْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟
قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَهْلًا ، نَهَى اللهُ عَنِ التَّزْكِيَةِ .
قَالَ : فَقَالَ قَائِلٌ : فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ : وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ ، قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَإِنِّي أُحَدِّثُكُمْ بِنِعْمَةِ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، كُنْتُ إِذَا سَأَلْتُ أُعْطِيتُ ، وَإِذَا سَكَتُّ ابْتُدِيتُ ، وَبَيْنَ الْجَوَارِحِ مِنِّي مُلِئَ عِلْمًا جَمًّا .
ثُمَّ خَتَمَ بِهِ عِنْدَهُ فَلَمْ يَدْرُوا عَلَى مَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ "كَفَى بِهِ عِلْمًا" ، كَفَى بِعَبْدِ اللهِ أَمْ كَفَى بِالْقُرْآنِ ؟
قَالُوا : فَحُذَيْفَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : عَلِمَ أَوْ عُلِّمَ أَسْمَاءَ الْمُنَافِقِينَ ، وَسَأَلَ عَنِ الْمُعْضِلَاتِ حَتَّى عَقَلَ عَنْهَا ، فَإِنْ سَأَلْتُمُوهُ عَنْهَا تَجِدُونَهُ بِهَا عَالِمًا .
قَالُوا : فَأَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : وِعَاءٌ مُلِئَ عِلْمًا ، وَكَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ شَحِيحًا حَرِيصًا ، شَحِيحًا عَلَى دِينِهِ ، حَرِيصًا عَلَى الْعِلْمِ ، وَكَانَ يُكْثِرُ السُّؤَالَ فَيُعْطَى وَيُمْنَعُ ، أَمَا إِنَّهُ قَدْ مُلِئَ لَهُ فِي وِعَائِهِ حَتَّى امْتَلَأَ .
قَالُوا : فَسَلْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : امْرُؤٌ مِنَّا وَإِلَيْنَا أَهْلَ الْبَيْتِ ، مَنْ لَكُمْ بِمِثْلِ لُقْمَانَ الْحَكِيمِ ، عَلِمَ الْعِلْمَ الْأَوَّلَ ، وَأَدْرَكَ الْعِلْمَ الْآخِرَ ، وَقَرَأَ الْكِتَابَ الْأَوَّلَ وَالْكِتَابَ الْآخِرَ ، وَكَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَحْرًا لَا يُنْزَفُ .
قَالُوا : فَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : ذَاكَ امْرُؤٌ خَلَطَ اللهُ تَعَالَى الْإِيمَانَ بِلَحْمِهِ وَدَمِهِ وَعَظْمِهِ وَشَعَرِهِ وَبَشَرِهِ ، لَا يُفَارِقُ الْحَقَّ سَاعَةً ، حَيْثُ زَالَ زَالَ مَعَهُ ، لَا يَنْبَغِي لِلنَّارِ أَنْ تَأْكُلَ مِنْهُ شَيْئًا .
قَالُوا : فَحَدِّثْنَا عَنْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟
قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَهْلًا ، نَهَى اللهُ عَنِ التَّزْكِيَةِ .
قَالَ : فَقَالَ قَائِلٌ : فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ : وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ ، قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَإِنِّي أُحَدِّثُكُمْ بِنِعْمَةِ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، كُنْتُ إِذَا سَأَلْتُ أُعْطِيتُ ، وَإِذَا سَكَتُّ ابْتُدِيتُ ، وَبَيْنَ الْجَوَارِحِ مِنِّي مُلِئَ عِلْمًا جَمًّا .
ترجمہ
زاذان اور ابوحرب بن ابی الاسود سے روایت ہے کہ ایک روز کچھ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھے اور انہیں خوشگوار موڈ میں پایا، تو انہوں نے عرض کیا: ”اے امیر المومنین! ہمیں اپنے ساتھیوں کے بارے میں کچھ بتایئے“۔ انہوں نے فرمایا: ”میرے کن ساتھیوں کے بارے میں؟“ لوگوں نے کہا: ”نبی کریم ﷺ کے صحابہ کے بارے میں“۔ انہوں نے فرمایا: ”نبی کریم ﷺ کے تمام صحابہ میرے بھی ساتھی ہیں، تو تم ان میں سے کن کے متعلق پوچھنا چاہتے ہو؟“ لوگوں نے عرض کیا: ”ان مخصوص افراد کے بارے میں جنہیں ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ان کا ذکر خیر کرنے اور ان کے حق میں دعا کرنے میں دیگر لوگوں کے مقابلے میں زیادہ شفقت و خصوصیت برتتے ہیں“۔ انہوں نے پوچھا: ”وہ کون ہیں؟“ لوگوں نے عرض کیا: ”سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ“۔ آپ نے فرمایا: ”انہوں نے سنت کا علم حاصل کیا اور قرآن کی قراءت کی، اور علم کے لحاظ سے یہی ان کے لیے کافی ہے“۔
راوی کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی بات اسی جملے پر ختم کی تو لوگ سمجھ نہ پائے کہ آپ کی مراد «كَفَى بِهِ عِلْمًا» ”علم کے لحاظ سے یہی کافی ہے“ سے کیا ہے؟ آیا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا علم کافی ہے یا قرآن علم حاصل کرنے کے لیے کافی ہے؟
لوگوں نے پوچھا: ”اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”وہ منافقین کے ناموں سے واقف تھے یا انہیں سکھائے گئے تھے، اور وہ پیچیدہ و مشکل مسائل کے بارے میں اس وقت تک سوال کرتے رہتے تھے جب تک انہیں مکمل طور پر سمجھ نہ لیتے، پس اگر تم ان سے ان مسائل کے بارے میں پوچھو گے تو انہیں ان کا ماہر عالم پاؤ گے“۔
لوگوں نے پوچھا: ”اور سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ؟“ انہوں نے فرمایا: ”وہ علم سے بھرا ہوا ایک برتن تھے، وہ اپنے دین کے معاملے میں نہایت بخیل و محتاط اور علم کے حصول کے انتہائی حریص تھے، وہ کثرت سے سوالات کیا کرتے تھے تو کبھی انہیں علم عطا کر دیا جاتا اور کبھی روک لیا جاتا، آگاہ رہو کہ ان کا ظرف علم سے اس قدر لبریز کر دیا گیا کہ وہ مکمل بھر گیا“۔
لوگوں نے پوچھا: ”اور سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ؟“ انہوں نے فرمایا: ”وہ ایک ایسے مردِ حق ہیں جو ہم اہل بیت میں سے اور ہم ہی میں شامل ہیں، تمہیں لقمانِ حکیم جیسی شخصیت اور کہاں ملے گی؟ انہوں نے اولین علم بھی سیکھا اور آخری علم بھی پایا، انہوں نے پہلی کتابیں بھی پڑھیں اور آخری کتاب بھی، اور وہ ایک ایسا سمندر تھے جو کبھی ختم نہیں ہوتا“۔
لوگوں نے پوچھا: ”اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ؟“ انہوں نے فرمایا: ”وہ ایسی شخصیت ہیں جن کے گوشت، خون، ہڈیوں، بالوں اور جلد میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو رچا بسا دیا ہے، وہ ایک لمحے کے لیے بھی حق سے جدا نہیں ہوتے، حق جہاں بھی مڑتا ہے وہ بھی اسی کے ساتھ مڑ جاتے ہیں، جہنم کی آگ کے لیے یہ جائز نہیں کہ ان کے جسم کا کوئی حصہ کھائے“۔
لوگوں نے عرض کیا: ”اے امیر المومنین! اب اپنے بارے میں کچھ ارشاد فرمائیے؟“
انہوں نے فرمایا: ”ٹھہر جاؤ! اللہ تعالیٰ نے خود اپنی تعریف کرنے سے منع فرمایا ہے“۔
راوی کہتے ہیں کہ اس پر کسی کہنے والے نے عرض کیا: ”اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے: ﴿وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ﴾ [سورة الضحى: 11] یعنی اور اپنے رب کی نعمت کا خوب تذکرہ کریں“، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”پھر میں اپنے رب تبارک و تعالیٰ کی نعمت کا تذکرہ کرتے ہوئے تمہیں بتاتا ہوں کہ میرا حال یہ تھا کہ جب میں سوال کرتا تو مجھے علم عطا کیا جاتا، اور جب میں خاموش رہتا تو مجھ سے گفتگو کی ابتدا کی جاتی، اور میرے دونوں پہلوؤں کے درمیان یعنی سینے میں بہت زیادہ علم بھر دیا گیا ہے“۔
راوی کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی بات اسی جملے پر ختم کی تو لوگ سمجھ نہ پائے کہ آپ کی مراد «كَفَى بِهِ عِلْمًا» ”علم کے لحاظ سے یہی کافی ہے“ سے کیا ہے؟ آیا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا علم کافی ہے یا قرآن علم حاصل کرنے کے لیے کافی ہے؟
لوگوں نے پوچھا: ”اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”وہ منافقین کے ناموں سے واقف تھے یا انہیں سکھائے گئے تھے، اور وہ پیچیدہ و مشکل مسائل کے بارے میں اس وقت تک سوال کرتے رہتے تھے جب تک انہیں مکمل طور پر سمجھ نہ لیتے، پس اگر تم ان سے ان مسائل کے بارے میں پوچھو گے تو انہیں ان کا ماہر عالم پاؤ گے“۔
لوگوں نے پوچھا: ”اور سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ؟“ انہوں نے فرمایا: ”وہ علم سے بھرا ہوا ایک برتن تھے، وہ اپنے دین کے معاملے میں نہایت بخیل و محتاط اور علم کے حصول کے انتہائی حریص تھے، وہ کثرت سے سوالات کیا کرتے تھے تو کبھی انہیں علم عطا کر دیا جاتا اور کبھی روک لیا جاتا، آگاہ رہو کہ ان کا ظرف علم سے اس قدر لبریز کر دیا گیا کہ وہ مکمل بھر گیا“۔
لوگوں نے پوچھا: ”اور سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ؟“ انہوں نے فرمایا: ”وہ ایک ایسے مردِ حق ہیں جو ہم اہل بیت میں سے اور ہم ہی میں شامل ہیں، تمہیں لقمانِ حکیم جیسی شخصیت اور کہاں ملے گی؟ انہوں نے اولین علم بھی سیکھا اور آخری علم بھی پایا، انہوں نے پہلی کتابیں بھی پڑھیں اور آخری کتاب بھی، اور وہ ایک ایسا سمندر تھے جو کبھی ختم نہیں ہوتا“۔
لوگوں نے پوچھا: ”اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ؟“ انہوں نے فرمایا: ”وہ ایسی شخصیت ہیں جن کے گوشت، خون، ہڈیوں، بالوں اور جلد میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو رچا بسا دیا ہے، وہ ایک لمحے کے لیے بھی حق سے جدا نہیں ہوتے، حق جہاں بھی مڑتا ہے وہ بھی اسی کے ساتھ مڑ جاتے ہیں، جہنم کی آگ کے لیے یہ جائز نہیں کہ ان کے جسم کا کوئی حصہ کھائے“۔
لوگوں نے عرض کیا: ”اے امیر المومنین! اب اپنے بارے میں کچھ ارشاد فرمائیے؟“
انہوں نے فرمایا: ”ٹھہر جاؤ! اللہ تعالیٰ نے خود اپنی تعریف کرنے سے منع فرمایا ہے“۔
راوی کہتے ہیں کہ اس پر کسی کہنے والے نے عرض کیا: ”اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے: ﴿وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ﴾ [سورة الضحى: 11] یعنی اور اپنے رب کی نعمت کا خوب تذکرہ کریں“، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”پھر میں اپنے رب تبارک و تعالیٰ کی نعمت کا تذکرہ کرتے ہوئے تمہیں بتاتا ہوں کہ میرا حال یہ تھا کہ جب میں سوال کرتا تو مجھے علم عطا کیا جاتا، اور جب میں خاموش رہتا تو مجھ سے گفتگو کی ابتدا کی جاتی، اور میرے دونوں پہلوؤں کے درمیان یعنی سینے میں بہت زیادہ علم بھر دیا گیا ہے“۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرُّزْمِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : افْتَخَرَ الْحَيَّانِ مِنَ الْأَنْصَارِ ; الْأَوْسُ وَالْخَزْرَجُ ، فَقَالَتِ الْأَوْسُ : مِنَّا غَسِيلُ الْمَلَائِكَةِ حَنْظَلَةُ الرَّاهِبُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَمِنَّا مَنِ اهْتَزَّ لَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَمِنَّا مَنْ حَمَتْهُ الدَّبْرُ ؛ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ أَبِي الْأَقْلَحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَمِنَّا مَنْ أُجِيزَتْ شَهَادَتُهُ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ ؛ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
وَقَالَ الْخَزْرَجُ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ : مِنَّا أَرْبَعَةٌ جَمَعُوا الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَجْمَعْهُ غَيْرُهُمْ : زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَأَبُو زَيْدٍ ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَطَاءٍ ، وَأَصْلُهُ فِي الْبُخَارِيِّ .
وَقَالَ الْخَزْرَجُ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ : مِنَّا أَرْبَعَةٌ جَمَعُوا الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَجْمَعْهُ غَيْرُهُمْ : زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَأَبُو زَيْدٍ ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَطَاءٍ ، وَأَصْلُهُ فِي الْبُخَارِيِّ .
ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کے دو قبیلوں، اوس اور خزرج نے ایک دوسرے کے سامنے اپنی فضیلتیں بیان کرتے ہوئے فخر کا اظہار کیا، تو قبیلہ اوس نے کہا: ”ہم میں وہ حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ عنہ ہیں جنہیں (شہادت کے بعد) فرشتوں نے غسل دیا، اور ہم ہی میں سے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ہیں جن کی وفات پر عرشِ رحمن جھوم اٹھا، اور ہم ہی میں عاصم بن ثابت بن ابی اقلح رضی اللہ عنہ ہیں جن کے (جسدِ اطہر کی کفار سے) حفاظت بھڑوں کے جھنڈ نے کی، اور ہم میں وہ خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ ہیں جن کی تنہا گواہی کو رسول اللہ ﷺ نے دو مردوں کی گواہی کے برابر قرار دیا تھا۔“ اس کے جواب میں قبیلہ خزرج رضی اللہ عنہم نے کہا: ”ہم میں وہ چار جلیل القدر شخصیات ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں مکمل قرآنِ کریم کو (سینہ بہ سینہ اور تحریری طور پر) یکجا جمع کیا اور ان کے علاوہ کسی نے اسے (اس صورت میں) جمع نہیں کیا تھا، وہ زید بن ثابت، ابو زید، ابی بن کعب اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم ہیں۔“
اسے امام بزار نے عبد الوہاب بن عطا کے طریق سے روایت کیا ہے اور اس کی اصل صحیح بخاری میں موجود ہے۔
اسے امام بزار نے عبد الوہاب بن عطا کے طریق سے روایت کیا ہے اور اس کی اصل صحیح بخاری میں موجود ہے۔
وَقَالَ مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى فِي زِيَادَاتِ مُسْنَدِ مُسَدَّدٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَمَرَ بِالشُّورَى دَخَلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - فَقَالَتْ : يَا أَبَةِ ، إِنَّ النَّاسَ يَزْعُمُونَ أَنَّ هَؤُلَاءِ السِّتَّةَ لَيْسُوا بِرِضًا .
فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَسْنِدُونِي ، فَأَسْنَدُوهُ ، قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا عَسَى أَنْ يَقُولُوا فِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟! سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : يَا عَلِيُّ ، يَدُكَ فِي يَدِي ، تَدْخُلُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَيْثُ أَدْخُلُ ، مَا عَسَى أَنْ يَقُولُوا فِي عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟! سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : يَوْمَ يَمُوتُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَلَائِكَةُ السَّمَاءِ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، لِعُثْمَانَ خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَاصَّةً " ، مَا عَسَى أَنْ يَقُولُوا فِي طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟! سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْلَةً وَقَدْ سَقَطَ رَحْلُهُ ، فَقَالَ : مَنْ يُسَوِّي لِي رَحْلِي وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ ؟ " فَبَدَرَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَوَّاهُ لَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَكِبَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا طَلْحَةُ ، هَذَا جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - يُقْرِيكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ : أَنَا مَعَكَ فِي أَهْوَالِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَتَّى أُنْجِيَكَ مِنْهَا " .
مَا عَسَى أَنْ يَقُولُوا فِي الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟! رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ نَامَ فَجَلَسَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَذُبُّ عَنْ وَجْهِهِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ ، فَقَالَ لَهُ : " يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ ، لَمْ تَزَلْ ؟ " قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لَمْ أَزَلْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - يُقْرِيكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ : أَنَا مَعَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى أَذُبَّ عَنْ وَجْهِكَ شَرَرَ النَّارِ .
مَا عَسَى أَنْ يَقُولُوا فِي سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟! سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ بَدْرٍ وَقَدْ أَوْتَرَ قَوْسَهُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مَرَّةً ، يَدْفَعُهَا إِلَيْهِ وَيَقُولُ : " ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي " .
وَمَا عَسَى أَنْ يَقُولُوا فِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟! رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ فِي مَنْزِلِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - يَبْكِيَانِ جُوعًا وَيَتَضَوَّرَانِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَصِلُنَا بِشَيْءٍ ؟ " فَطَلَعَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِصَفْحَةٍ فِيهَا حَيْسَةٌ وَرَغِيفَانِ بَيْنَهُمَا إِهَالَةٌ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَفَاكَ اللهُ تَعَالَى أَمْرَ دُنْيَاكَ ، وَأَمَّا أَمْرُ آخِرَتِكَ فَأَنَا لَهَا ضَامِنٌ .
فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَسْنِدُونِي ، فَأَسْنَدُوهُ ، قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا عَسَى أَنْ يَقُولُوا فِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟! سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : يَا عَلِيُّ ، يَدُكَ فِي يَدِي ، تَدْخُلُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَيْثُ أَدْخُلُ ، مَا عَسَى أَنْ يَقُولُوا فِي عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟! سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : يَوْمَ يَمُوتُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَلَائِكَةُ السَّمَاءِ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، لِعُثْمَانَ خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَاصَّةً " ، مَا عَسَى أَنْ يَقُولُوا فِي طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟! سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْلَةً وَقَدْ سَقَطَ رَحْلُهُ ، فَقَالَ : مَنْ يُسَوِّي لِي رَحْلِي وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ ؟ " فَبَدَرَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَوَّاهُ لَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَكِبَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا طَلْحَةُ ، هَذَا جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - يُقْرِيكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ : أَنَا مَعَكَ فِي أَهْوَالِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَتَّى أُنْجِيَكَ مِنْهَا " .
مَا عَسَى أَنْ يَقُولُوا فِي الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟! رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ نَامَ فَجَلَسَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَذُبُّ عَنْ وَجْهِهِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ ، فَقَالَ لَهُ : " يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ ، لَمْ تَزَلْ ؟ " قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لَمْ أَزَلْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - يُقْرِيكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ : أَنَا مَعَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى أَذُبَّ عَنْ وَجْهِكَ شَرَرَ النَّارِ .
مَا عَسَى أَنْ يَقُولُوا فِي سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟! سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ بَدْرٍ وَقَدْ أَوْتَرَ قَوْسَهُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مَرَّةً ، يَدْفَعُهَا إِلَيْهِ وَيَقُولُ : " ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي " .
وَمَا عَسَى أَنْ يَقُولُوا فِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟! رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ فِي مَنْزِلِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - يَبْكِيَانِ جُوعًا وَيَتَضَوَّرَانِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَصِلُنَا بِشَيْءٍ ؟ " فَطَلَعَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِصَفْحَةٍ فِيهَا حَيْسَةٌ وَرَغِيفَانِ بَيْنَهُمَا إِهَالَةٌ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَفَاكَ اللهُ تَعَالَى أَمْرَ دُنْيَاكَ ، وَأَمَّا أَمْرُ آخِرَتِكَ فَأَنَا لَهَا ضَامِنٌ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ (پر قاتلانہ حملہ ہوا اور انہیں) زخمی کر دیا گیا اور انہوں نے (خلافت کے فیصلے کے لیے) مجلسِ شوریٰ بنانے کا حکم دیا، تو ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس تشریف لائیں اور عرض گزار ہوئیں: ”اے ابا جان! لوگ یہ گمان کر رہے ہیں کہ یہ چھ افراد (خلافت کے لیے) پسندیدہ نہیں ہیں۔“
اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے ٹیک لگا کر بٹھاؤ۔“ پس لوگوں نے انہیں سہارا دے کر بٹھایا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بھلا وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا (اعتراض) کر سکتے ہیں؟! میں نے خود نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اے علی! تمہارا ہاتھ میرے ہاتھ میں ہے، تم قیامت کے دن میرے ساتھ وہیں داخل ہو گے جہاں میں داخل ہوں گا۔“ وہ عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں؟! میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس دن عثمان رضی اللہ عنہ وفات پائیں گے، آسمان کے فرشتے ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ فضیلت خاص طور پر عثمان کے لیے ہے یا سب لوگوں کے لیے عام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ خاص طور پر عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے ہے۔“ وہ طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں؟! میں نے ایک رات نبی کریم ﷺ کو اس وقت فرماتے سنا جب آپ ﷺ کا کجاوہ گر گیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کون ہے جو میرے لیے میرا کجاوہ درست کر دے اور اس کے عوض وہ جنت کا حقدار ہو جائے؟“ پس طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ فوراً لپکے اور انہوں نے آپ ﷺ کے لیے اسے درست کر دیا یہاں تک کہ آپ ﷺ سوار ہو گئے، تب نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے طلحہ! یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں، وہ تمہیں سلام کہہ رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ میں قیامت کی ہولناکیوں میں تمہارے ساتھ رہوں گا یہاں تک کہ تمہیں ان سے نجات دلا دوں۔“
وہ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں؟! میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ آرام فرما رہے تھے اور زبیر رضی اللہ عنہ بیٹھ کر آپ ﷺ کے چہرے سے (مکھیاں وغیرہ) ہٹا رہے تھے یہاں تک کہ جب آپ ﷺ بیدار ہوئے تو ان سے فرمایا: ”اے ابو عبداللہ! کیا تم مسلسل یہیں بیٹھے رہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں مسلسل یہیں رہا۔ تب آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں، تمہیں سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میں قیامت کے دن تمہارے ساتھ ہوں گا یہاں تک کہ تمہارے چہرے سے آگ کی چنگاریوں کو دور ہٹاؤں گا۔“
وہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں؟! میں نے نبی کریم ﷺ کو غزوۂ بدر کے دن فرماتے سنا جبکہ آپ ﷺ نے اپنی کمان کی چودہ مرتبہ تانت چڑھائی تھی، آپ ﷺ وہ کمان انہیں تھماتے جاتے اور فرماتے تھے: «ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» ”تم تیر چلاؤ، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں!“
اور وہ عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں؟! میں نے نبی کریم ﷺ کو اس وقت دیکھا جب آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تشریف فرما تھے اور حسن و حسین رضی اللہ عنہما بھوک کی شدت سے رو رہے تھے اور تڑپ رہے تھے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کون ہے جو ہمیں کچھ پہنچائے (کھلائے)؟“ اسی اثنا میں عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ایک پیالہ لے کر حاضر ہوئے جس میں حیس (کھجور، گھی اور پنیر کا حلوہ) تھا اور دو روٹیاں تھیں جن کے درمیان سالن (پگھلی ہوئی چربی) تھا، تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہاری دنیا کے معاملات کے لیے کافی ہو جائے، اور رہی تمہاری آخرت کی بات، تو اس کا میں ضامن ہوں۔“
اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے ٹیک لگا کر بٹھاؤ۔“ پس لوگوں نے انہیں سہارا دے کر بٹھایا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بھلا وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا (اعتراض) کر سکتے ہیں؟! میں نے خود نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اے علی! تمہارا ہاتھ میرے ہاتھ میں ہے، تم قیامت کے دن میرے ساتھ وہیں داخل ہو گے جہاں میں داخل ہوں گا۔“ وہ عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں؟! میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس دن عثمان رضی اللہ عنہ وفات پائیں گے، آسمان کے فرشتے ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ فضیلت خاص طور پر عثمان کے لیے ہے یا سب لوگوں کے لیے عام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ خاص طور پر عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے ہے۔“ وہ طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں؟! میں نے ایک رات نبی کریم ﷺ کو اس وقت فرماتے سنا جب آپ ﷺ کا کجاوہ گر گیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کون ہے جو میرے لیے میرا کجاوہ درست کر دے اور اس کے عوض وہ جنت کا حقدار ہو جائے؟“ پس طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ فوراً لپکے اور انہوں نے آپ ﷺ کے لیے اسے درست کر دیا یہاں تک کہ آپ ﷺ سوار ہو گئے، تب نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے طلحہ! یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں، وہ تمہیں سلام کہہ رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ میں قیامت کی ہولناکیوں میں تمہارے ساتھ رہوں گا یہاں تک کہ تمہیں ان سے نجات دلا دوں۔“
وہ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں؟! میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ آرام فرما رہے تھے اور زبیر رضی اللہ عنہ بیٹھ کر آپ ﷺ کے چہرے سے (مکھیاں وغیرہ) ہٹا رہے تھے یہاں تک کہ جب آپ ﷺ بیدار ہوئے تو ان سے فرمایا: ”اے ابو عبداللہ! کیا تم مسلسل یہیں بیٹھے رہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں مسلسل یہیں رہا۔ تب آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں، تمہیں سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میں قیامت کے دن تمہارے ساتھ ہوں گا یہاں تک کہ تمہارے چہرے سے آگ کی چنگاریوں کو دور ہٹاؤں گا۔“
وہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں؟! میں نے نبی کریم ﷺ کو غزوۂ بدر کے دن فرماتے سنا جبکہ آپ ﷺ نے اپنی کمان کی چودہ مرتبہ تانت چڑھائی تھی، آپ ﷺ وہ کمان انہیں تھماتے جاتے اور فرماتے تھے: «ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» ”تم تیر چلاؤ، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں!“
اور وہ عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں؟! میں نے نبی کریم ﷺ کو اس وقت دیکھا جب آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تشریف فرما تھے اور حسن و حسین رضی اللہ عنہما بھوک کی شدت سے رو رہے تھے اور تڑپ رہے تھے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کون ہے جو ہمیں کچھ پہنچائے (کھلائے)؟“ اسی اثنا میں عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ایک پیالہ لے کر حاضر ہوئے جس میں حیس (کھجور، گھی اور پنیر کا حلوہ) تھا اور دو روٹیاں تھیں جن کے درمیان سالن (پگھلی ہوئی چربی) تھا، تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہاری دنیا کے معاملات کے لیے کافی ہو جائے، اور رہی تمہاری آخرت کی بات، تو اس کا میں ضامن ہوں۔“
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنْ سَعْدٍ الْإِسْكَافِ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : أَتَى جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ اللهَ تَعَالَى يُحِبُّ مِنْ أَصْحَابِكَ ثَلَاثَةً فَأَحِبَّهُمْ : عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَأَبُو ذَرٍّ ، وَالْمِقْدَادُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - قَالَ : وَأَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ الْجَنَّةَ لَتَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْ أَصْحَابِكَ ، وَعِنْدَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَرَجَا أَنْ يَكُونَ لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : فَأَرَادَ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمْ فَهَابَهُ ، فَخَرَجَ فَلَقِيَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آنِفًا فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - فَقَالَ : إِنَّ الْجَنَّةَ تَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْ أَصْحَابِكَ ، فَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ ، فَهِبْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَهَلْ لَكَ أَنْ تَدْخُلَ فَتَسْأَلَهُ ؟ فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَسْأَلَهُ فَلَا أَكُونُ مِنْهُمْ ، فَيَشْمَتُ بِي قَوْمِي .
ثُمَّ لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ قَوْلِهِ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ قَوْلِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَلَقِيَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : نَعَمْ أَنَا أَسْأَلُهُ ، فَإِنْ كُنْتُ مِنْهُمْ فَأَحْمَدُ اللهَ تَعَالَى ، وَإِنْ لَمْ أَكُنْ مِنْهُمْ ، يَعْنِي فَلَا يَضُرُّ . فَدَخَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : إِنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَنِي أَنَّهُ كَانَ عِنْدَكَ آنِفًا ، وَأَنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - أَتَاكَ فَقَالَ : إِنَّ الْجَنَّةَ لَتَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْ أَصْحَابِكَ ، فَمَنْ هُمْ يَا نَبِيَّ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْتَ مِنْهُمْ يَا عَلِيُّ ، وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَسَيَشْهَدُ مَعَكَ مَشَاهِدَ بَيِّنٌ فَضْلُهَا عَظِيمٌ خَيْرُهَا ، وَسَلْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ ، وَهُوَ نَاصِحٌ فَاتَّخِذْهُ لِنَفْسِكَ .
3993 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَالِكٍ الْقُشَيْرِيُّ ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ .. فَذَكَرَهُ .
وَقَالَ : النَّضْرُ وَسَعْدٌ لَمْ يَكُونَا قَوِيَّيْنِ ، وَمَا رَوَاهُ إِلَّا جَعْفَرٌ .
ثُمَّ لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ قَوْلِهِ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ قَوْلِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَلَقِيَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : نَعَمْ أَنَا أَسْأَلُهُ ، فَإِنْ كُنْتُ مِنْهُمْ فَأَحْمَدُ اللهَ تَعَالَى ، وَإِنْ لَمْ أَكُنْ مِنْهُمْ ، يَعْنِي فَلَا يَضُرُّ . فَدَخَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : إِنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَنِي أَنَّهُ كَانَ عِنْدَكَ آنِفًا ، وَأَنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - أَتَاكَ فَقَالَ : إِنَّ الْجَنَّةَ لَتَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْ أَصْحَابِكَ ، فَمَنْ هُمْ يَا نَبِيَّ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْتَ مِنْهُمْ يَا عَلِيُّ ، وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَسَيَشْهَدُ مَعَكَ مَشَاهِدَ بَيِّنٌ فَضْلُهَا عَظِيمٌ خَيْرُهَا ، وَسَلْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ ، وَهُوَ نَاصِحٌ فَاتَّخِذْهُ لِنَفْسِكَ .
3993 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَالِكٍ الْقُشَيْرِيُّ ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ .. فَذَكَرَهُ .
وَقَالَ : النَّضْرُ وَسَعْدٌ لَمْ يَكُونَا قَوِيَّيْنِ ، وَمَا رَوَاهُ إِلَّا جَعْفَرٌ .
ترجمہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”اے محمد! بے شک اللہ تعالیٰ آپ کے صحابہ میں سے تین افراد سے محبت فرماتا ہے، پس آپ بھی ان سے محبت کیجیے: (وہ ہیں) علی بن ابی طالب، ابوذر اور مقداد رضی اللہ عنہم۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر جبریل علیہ السلام دوبارہ تشریف لائے اور عرض کی: ”اے محمد! بلاشبہ جنت آپ کے صحابہ میں سے تین افراد کی بے حد مشتاق ہے۔“ اس وقت نبی کریم ﷺ کے پاس سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ موجود تھے، تو انہوں نے دل میں تمنا کی کہ کاش یہ فضیلت کسی انصاری صحابی کے لیے ہو، وہ چاہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ سے ان خوش نصیبوں کے بارے میں دریافت کریں لیکن آپ ﷺ کی ہیبت و جلال کی وجہ سے سوال نہ کر سکے۔ چنانچہ وہ وہاں سے نکلے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملے اور کہا: ”اے ابوبکر! ابھی میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ جبریل علیہ السلام آئے اور بتایا کہ جنت آپ ﷺ کے تین صحابہ کی مشتاق ہے، مجھے امید تھی کہ وہ شاید انصار میں سے ہوں گے، مگر میں ہیبت کی وجہ سے آپ ﷺ سے دریافت نہ کر سکا، تو کیا آپ اندر جا کر ان کے متعلق پوچھ سکتے ہیں؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں میں سوال کروں اور ان میں میرا نام نہ ہو، تو اس طرح میری قوم مجھ پر طنز و ملامت کرے گی۔“
پھر سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی ملاقات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی، انہوں نے وہی بات کہی جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہی تھی، مگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی وہی جواب دیا جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ دے چکے تھے۔ پھر وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملے (اور وہی تذکرہ کیا) تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں، میں ضرور دریافت کروں گا، پس اگر میں ان میں شامل ہوا تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کروں گا، اور اگر میں ان میں نہ ہوا تو (اللہ کی رضا پر راضی رہوں گا) اس سے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اندر تشریف لے گئے اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! انس نے مجھے بتایا ہے کہ ابھی وہ آپ کے پاس تھے جب جبریل علیہ السلام آئے اور بتایا کہ جنت آپ کے تین صحابہ کی مشتاق ہے، تو اے اللہ کے نبی! وہ کون لوگ ہیں؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے علی! تم ان میں سے ہو، اور دوسرے عمار بن یاسر ہیں جو تمہارے ساتھ ایسے معرکوں میں شریک ہوں گے جن کی فضیلت عیاں اور جن کی خیر و برکت بہت بڑی ہوگی، اور تیسرے سلمان فارسی ہیں جو ہم اہل بیت میں سے ہیں، وہ ایک سچے خیر خواہ اور مخلص انسان ہیں، لہٰذا انہیں اپنے لیے (قریبی ساتھی) بنا لو۔“
امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے اس حدیث کو روایت کیا ہے اور امام بزار نے تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ نضر بن حمید اور سعد اسکاف قوی راوی نہیں ہیں، اور اس روایت کو صرف جعفر بن سلیمان ہی نے نقل کیا ہے۔
پھر سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی ملاقات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی، انہوں نے وہی بات کہی جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہی تھی، مگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی وہی جواب دیا جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ دے چکے تھے۔ پھر وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملے (اور وہی تذکرہ کیا) تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں، میں ضرور دریافت کروں گا، پس اگر میں ان میں شامل ہوا تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کروں گا، اور اگر میں ان میں نہ ہوا تو (اللہ کی رضا پر راضی رہوں گا) اس سے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اندر تشریف لے گئے اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! انس نے مجھے بتایا ہے کہ ابھی وہ آپ کے پاس تھے جب جبریل علیہ السلام آئے اور بتایا کہ جنت آپ کے تین صحابہ کی مشتاق ہے، تو اے اللہ کے نبی! وہ کون لوگ ہیں؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے علی! تم ان میں سے ہو، اور دوسرے عمار بن یاسر ہیں جو تمہارے ساتھ ایسے معرکوں میں شریک ہوں گے جن کی فضیلت عیاں اور جن کی خیر و برکت بہت بڑی ہوگی، اور تیسرے سلمان فارسی ہیں جو ہم اہل بیت میں سے ہیں، وہ ایک سچے خیر خواہ اور مخلص انسان ہیں، لہٰذا انہیں اپنے لیے (قریبی ساتھی) بنا لو۔“
امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے اس حدیث کو روایت کیا ہے اور امام بزار نے تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ نضر بن حمید اور سعد اسکاف قوی راوی نہیں ہیں، اور اس روایت کو صرف جعفر بن سلیمان ہی نے نقل کیا ہے۔
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ النُّعْمَانِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَجْتَمِعُ حُبُّ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعَةِ إِلَّا فِي قَلْبِ مُؤْمِنٍ : أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ ، وَعَلِيٌّ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ .
* هَذَا مُنْقَطِعٌ .
* هَذَا مُنْقَطِعٌ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ان چار عظیم المرتبت شخصیات کی محبت صرف ایک (کامل) مومن کے دل ہی میں جمع ہو سکتی ہے: ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم۔“
یہ روایت منقطع (سند کے اعتبار سے ٹوٹی ہوئی) ہے۔
یہ روایت منقطع (سند کے اعتبار سے ٹوٹی ہوئی) ہے۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنَّا مَعْشَرَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ مُتَوَافِرُونَ نَقُولُ : أَفْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ عُمَرُ ، ثُمَّ عُثْمَانُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - ثُمَّ نَسْكُتُ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی جماعت، جبکہ ہم کثیر تعداد میں موجود اور یکجا ہوتے تھے، آپس میں یہ کہا کرتے تھے: ”اپنے نبی ﷺ کے بعد اس امت کی سب سے افضل اور برگزیدہ شخصیت ابوبکر کی ہے، پھر عمر کی، پھر عثمان کی“ رضی اللہ عنہم، ”پھر اس کے بعد ہم خاموش ہو جایا کرتے تھے۔“
اس حدیث کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔
اس حدیث کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ : قَرَأَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ جَنَّاتُ عَدْنٍ ، فَقَالَ : لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا نَبِيٌّ ، هَنِيئًا لَكَ يَا صَاحِبَ الْقَبْرِ - وَأَشَارَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ صِدِّيقٌ ، هَنِيئًا لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ، أَوْ شَهِيدٌ ، وَأَنَّى لِعُمَرَ بِالشَّهَادَةِ ! وَإِنَّ الَّذِي أَخْرَجَنِي مِنْ مَنْزِلِي بِالْحَثْمَةِ لَقَادِرٌ عَلَى أَنْ يَسُوقَهَا إِلَيَّ .
ترجمہ
امام مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ﴿جَنَّاتِ عَدْنٍ﴾ [سورة مريم: 61] تلاوت فرمایا، پھر آپ نے فرمایا: ”اس میں وہی داخل ہوگا جو یا تو نبی ہو؛ «هَنِيئًا لَكَ يَا صَاحِبَ الْقَبْرِ» ”اے قبر والے (رسول اللہ ﷺ)! آپ کو یہ مقام مبارک ہو“—اور آپ نے رسول اللہ ﷺ کی قبرِ مبارک کی طرف اشارہ فرمایا—”یا پھر وہ جو صدیق ہو؛ «هَنِيئًا لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ» ”اے ابوبکر! آپ کو یہ فضیلت مبارک ہو“، یا پھر وہ جو شہید ہو؛ اور بھلا عمر کو شہادت کہاں نصیب ہو پائے گی! البتہ وہ ذات جس نے مجھے حثمہ کے مقام پر موجود میرے گھر سے نکالا ہے، وہ یقیناً اس بات پر قادر ہے کہ شہادت کو (خود چل کر) میرے پاس پہنچا دے۔“
اس اثر کی سند حسن ہے، اسے امام ابن ابی شیبہ نے ’المصنف‘ (34674) اور امام احمد نے ’فضائل الصحابہ‘ (573) میں روایت کیا ہے۔
اس اثر کی سند حسن ہے، اسے امام ابن ابی شیبہ نے ’المصنف‘ (34674) اور امام احمد نے ’فضائل الصحابہ‘ (573) میں روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ كُنَاسَةَ ، ثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ : ذَكَرْنَا عِنْدَهُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعَلِيًّا - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - فَقَالَ : نِعْمَ الرَّأْيُ ، وَإِنِّي لَأَجِدُ لِعَلِيٍّ فِي قَلْبِي مِنَ اللِّيطَةِ مَا لَا أَجِدُ لَهُمَا .
ترجمہ
ابوالبختری سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے ان (ایک بزرگ) کے پاس سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے فرمایا: ”یہ بہت ہی عمدہ رائے اور مستحسن بات ہے، اور یقیناً میں اپنے دل میں علی رضی اللہ عنہ کے لیے ایسی شدید قلبی وابستگی اور الفت محسوس کرتا ہوں جو ان دونوں (سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) کے لیے نہیں پاتا۔“
اس اثر کے تمام راوی ثقہ ہیں اور اسے امام ابن ابی شیبہ نے اپنی 'المصنف' (رقم: 32091) میں روایت کیا ہے۔
اس اثر کے تمام راوی ثقہ ہیں اور اسے امام ابن ابی شیبہ نے اپنی 'المصنف' (رقم: 32091) میں روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ وَاقِدٍ ، ثَنَا بَشِيرُ بْنُ زَاذَانَ ، عَنْ رُكَيْنٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَبُو بَكْرٍ أَرْأَفُ أُمَّتِي وَأَرْحَمُهَا ، وَعُمَرُ أَجْرَأُ أُمَّتِي وَأَعْدَلُهَا ، وَعُثْمَانُ أَحْيَا أُمَّتِي وَأَكْرَمُهَا ، وَعَلِيٌّ أَلَبُّ أُمَّتِي وَأَشْجَعُهَا ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ أَبَرُّ أُمَّتِي وَآمَنُهَا ، وَأَبُو ذَرٍّ أَزْهَدُ أُمَّتِي وَأَصْدَقُهَا ، وَأَبُو الدَّرْدَاءِ أَعْذَرُ أُمَّتِي وَأَتْقَاهَا ، وَمُعَاوِيَةُ أَحْلَمُ أُمَّتِي وَأَجْوَدُهَا .
ترجمہ
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ابوبکر میری امت میں سب سے زیادہ نرم دل اور سب سے زیادہ رحم دل ہیں، عمر میری امت میں سب سے زیادہ جرات مند اور سب سے زیادہ عدل و انصاف کرنے والے ہیں، عثمان میری امت میں سب سے زیادہ باحیا اور سب سے زیادہ سخی ہیں، علی میری امت میں سب سے زیادہ صاحبِ عقل و دانش اور سب سے زیادہ بہادر ہیں، عبداللہ بن مسعود میری امت میں سب سے زیادہ نیکوکار اور سب سے زیادہ امانت دار ہیں، ابو ذر میری امت میں سب سے زیادہ زہد اختیار کرنے والے اور سب سے زیادہ سچے ہیں، ابو الدرداء میری امت میں سب سے زیادہ درگزر کرنے والے اور سب سے زیادہ پرہیزگار ہیں، اور معاویہ میری امت میں سب سے زیادہ بردبار اور سب سے زیادہ فیاض ہیں۔“
اس حدیث کی تخریج امام ابن عساکر نے ’تاریخ دمشق‘ میں کی ہے، تاہم اس کی سند میں بشیر بن زاذان ضعیف راوی ہے جس کی وجہ سے یہ روایت سنداًا ضعیف ہے۔
اس حدیث کی تخریج امام ابن عساکر نے ’تاریخ دمشق‘ میں کی ہے، تاہم اس کی سند میں بشیر بن زاذان ضعیف راوی ہے جس کی وجہ سے یہ روایت سنداًا ضعیف ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، هُوَ ابْنُ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرْأَفُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَأَشَدُّهُمْ فِي الْإِسْلَامِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَأَفْضَلُهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَأَقْرَؤُهُمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ ، وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے افراد میں سے اپنی امت کے حق میں سب سے زیادہ شفیق و مہربان ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں، دینِ اسلام کے معاملے میں ان سب میں سب سے زیادہ سخت اور مضبوط عمر رضی اللہ عنہ ہیں، شرم و حیا کے معاملے میں سب سے زیادہ سچے اور پختہ عثمان رضی اللہ عنہ ہیں، ان سب میں سب سے زیادہ فضیلت کے حامل علی رضی اللہ عنہ ہیں، فرائض یعنی وراثت کے علم میں سب سے زیادہ مہارت رکھنے والے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہیں، حلال و حرام کے احکامات کا سب سے زیادہ علم رکھنے والے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں، قرآن مجید کے سب سے بڑے قاری ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں، اور یاد رکھو کہ ہر امت کا ایک امین یعنی نہایت معتبر و امانت دار ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہیں۔“
اس حدیث کی سند میں محمد بن عبد الرحمن بن البیلمانی نامی راوی ضعیف ہے، تاہم اس روایت کے اکثر حصے دیگر کتبِ حدیث میں صحیح اور معتبر اسناد کے ساتھ مروی ہیں۔
اس حدیث کی سند میں محمد بن عبد الرحمن بن البیلمانی نامی راوی ضعیف ہے، تاہم اس روایت کے اکثر حصے دیگر کتبِ حدیث میں صحیح اور معتبر اسناد کے ساتھ مروی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَكَتَبْتُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الرَّبِيعِ ، قَالَا : ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، ثَنَا النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ الْخَزَّازُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِرَاءٍ ، فَتَزَلْزَلَ الْجَبَلُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اثْبُتْ حِرَاءُ ، فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ . وَعَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ ، وَعَلِيٌّ ، وَطَلْحَةُ ، وَالزُّبَيْرُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، وَسَعْدٌ ، وَسَعِيدٌ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کوہِ حرا پر تشریف فرما تھے کہ اچانک وہ پہاڑ لرزنے لگا، تو آپ ﷺ نے اسے مخاطب کر کے فرمایا: «اثْبُتْ حِرَاءُ» ”اے حرا! ٹھہر جا، کیونکہ تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق یا ایک شہید کے سوا کوئی اور موجود نہیں ہے۔“ اس وقت پہاڑ پر رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر، سیدنا عبدالرحمن بن عوف، سیدنا سعد اور سیدنا سعید رضی اللہ عنہم اجمعین تشریف فرما تھے۔
اس حدیث کے متن کے شواہد سنن ابی داود (4648) اور سنن ترمذی (3703) میں موجود ہیں جن سے یہ روایت تقویت پا کر صحیح کے درجہ کو پہنچتی ہے، البتہ اس مخصوص سند میں نضر بن عمر الخزاز نامی راوی پایا جاتا ہے جس کے حافظے پر محدثین نے کلام کیا ہے۔
اس حدیث کے متن کے شواہد سنن ابی داود (4648) اور سنن ترمذی (3703) میں موجود ہیں جن سے یہ روایت تقویت پا کر صحیح کے درجہ کو پہنچتی ہے، البتہ اس مخصوص سند میں نضر بن عمر الخزاز نامی راوی پایا جاتا ہے جس کے حافظے پر محدثین نے کلام کیا ہے۔