المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ مَا اشترك فِيهِ جماعة مِنْ الصحابة رضي اللَّهُ عنهم باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مشترکہ فضیلتوں کا بیان۔
وَقَالَ مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى فِي زِيَادَاتِ مُسْنَدِ مُسَدَّدٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَمَرَ بِالشُّورَى دَخَلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - فَقَالَتْ : يَا أَبَةِ ، إِنَّ النَّاسَ يَزْعُمُونَ أَنَّ هَؤُلَاءِ السِّتَّةَ لَيْسُوا بِرِضًا .
فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَسْنِدُونِي ، فَأَسْنَدُوهُ ، قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا عَسَى أَنْ يَقُولُوا فِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟! سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : يَا عَلِيُّ ، يَدُكَ فِي يَدِي ، تَدْخُلُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَيْثُ أَدْخُلُ ، مَا عَسَى أَنْ يَقُولُوا فِي عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟! سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : يَوْمَ يَمُوتُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَلَائِكَةُ السَّمَاءِ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، لِعُثْمَانَ خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَاصَّةً " ، مَا عَسَى أَنْ يَقُولُوا فِي طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟! سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْلَةً وَقَدْ سَقَطَ رَحْلُهُ ، فَقَالَ : مَنْ يُسَوِّي لِي رَحْلِي وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ ؟ " فَبَدَرَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَوَّاهُ لَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَكِبَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا طَلْحَةُ ، هَذَا جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - يُقْرِيكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ : أَنَا مَعَكَ فِي أَهْوَالِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَتَّى أُنْجِيَكَ مِنْهَا " .
مَا عَسَى أَنْ يَقُولُوا فِي الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟! رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ نَامَ فَجَلَسَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَذُبُّ عَنْ وَجْهِهِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ ، فَقَالَ لَهُ : " يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ ، لَمْ تَزَلْ ؟ " قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لَمْ أَزَلْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - يُقْرِيكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ : أَنَا مَعَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى أَذُبَّ عَنْ وَجْهِكَ شَرَرَ النَّارِ .
مَا عَسَى أَنْ يَقُولُوا فِي سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟! سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ بَدْرٍ وَقَدْ أَوْتَرَ قَوْسَهُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مَرَّةً ، يَدْفَعُهَا إِلَيْهِ وَيَقُولُ : " ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي " .
وَمَا عَسَى أَنْ يَقُولُوا فِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟! رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ فِي مَنْزِلِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - يَبْكِيَانِ جُوعًا وَيَتَضَوَّرَانِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَصِلُنَا بِشَيْءٍ ؟ " فَطَلَعَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِصَفْحَةٍ فِيهَا حَيْسَةٌ وَرَغِيفَانِ بَيْنَهُمَا إِهَالَةٌ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَفَاكَ اللهُ تَعَالَى أَمْرَ دُنْيَاكَ ، وَأَمَّا أَمْرُ آخِرَتِكَ فَأَنَا لَهَا ضَامِنٌ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ (پر قاتلانہ حملہ ہوا اور انہیں) زخمی کر دیا گیا اور انہوں نے (خلافت کے فیصلے کے لیے) مجلسِ شوریٰ بنانے کا حکم دیا، تو ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس تشریف لائیں اور عرض گزار ہوئیں: ”اے ابا جان! لوگ یہ گمان کر رہے ہیں کہ یہ چھ افراد (خلافت کے لیے) پسندیدہ نہیں ہیں۔“
اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے ٹیک لگا کر بٹھاؤ۔“ پس لوگوں نے انہیں سہارا دے کر بٹھایا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بھلا وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا (اعتراض) کر سکتے ہیں؟! میں نے خود نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اے علی! تمہارا ہاتھ میرے ہاتھ میں ہے، تم قیامت کے دن میرے ساتھ وہیں داخل ہو گے جہاں میں داخل ہوں گا۔“ وہ عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں؟! میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس دن عثمان رضی اللہ عنہ وفات پائیں گے، آسمان کے فرشتے ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ فضیلت خاص طور پر عثمان کے لیے ہے یا سب لوگوں کے لیے عام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ خاص طور پر عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے ہے۔“ وہ طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں؟! میں نے ایک رات نبی کریم ﷺ کو اس وقت فرماتے سنا جب آپ ﷺ کا کجاوہ گر گیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کون ہے جو میرے لیے میرا کجاوہ درست کر دے اور اس کے عوض وہ جنت کا حقدار ہو جائے؟“ پس طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ فوراً لپکے اور انہوں نے آپ ﷺ کے لیے اسے درست کر دیا یہاں تک کہ آپ ﷺ سوار ہو گئے، تب نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے طلحہ! یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں، وہ تمہیں سلام کہہ رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ میں قیامت کی ہولناکیوں میں تمہارے ساتھ رہوں گا یہاں تک کہ تمہیں ان سے نجات دلا دوں۔“
وہ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں؟! میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ آرام فرما رہے تھے اور زبیر رضی اللہ عنہ بیٹھ کر آپ ﷺ کے چہرے سے (مکھیاں وغیرہ) ہٹا رہے تھے یہاں تک کہ جب آپ ﷺ بیدار ہوئے تو ان سے فرمایا: ”اے ابو عبداللہ! کیا تم مسلسل یہیں بیٹھے رہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں مسلسل یہیں رہا۔ تب آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں، تمہیں سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میں قیامت کے دن تمہارے ساتھ ہوں گا یہاں تک کہ تمہارے چہرے سے آگ کی چنگاریوں کو دور ہٹاؤں گا۔“
وہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں؟! میں نے نبی کریم ﷺ کو غزوۂ بدر کے دن فرماتے سنا جبکہ آپ ﷺ نے اپنی کمان کی چودہ مرتبہ تانت چڑھائی تھی، آپ ﷺ وہ کمان انہیں تھماتے جاتے اور فرماتے تھے: «ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» ”تم تیر چلاؤ، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں!“
اور وہ عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں؟! میں نے نبی کریم ﷺ کو اس وقت دیکھا جب آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تشریف فرما تھے اور حسن و حسین رضی اللہ عنہما بھوک کی شدت سے رو رہے تھے اور تڑپ رہے تھے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کون ہے جو ہمیں کچھ پہنچائے (کھلائے)؟“ اسی اثنا میں عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ایک پیالہ لے کر حاضر ہوئے جس میں حیس (کھجور، گھی اور پنیر کا حلوہ) تھا اور دو روٹیاں تھیں جن کے درمیان سالن (پگھلی ہوئی چربی) تھا، تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہاری دنیا کے معاملات کے لیے کافی ہو جائے، اور رہی تمہاری آخرت کی بات، تو اس کا میں ضامن ہوں۔“