المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ مَا اشترك فِيهِ جماعة مِنْ الصحابة رضي اللَّهُ عنهم باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مشترکہ فضیلتوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ : قَرَأَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ جَنَّاتُ عَدْنٍ ، فَقَالَ : لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا نَبِيٌّ ، هَنِيئًا لَكَ يَا صَاحِبَ الْقَبْرِ - وَأَشَارَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ صِدِّيقٌ ، هَنِيئًا لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ، أَوْ شَهِيدٌ ، وَأَنَّى لِعُمَرَ بِالشَّهَادَةِ ! وَإِنَّ الَّذِي أَخْرَجَنِي مِنْ مَنْزِلِي بِالْحَثْمَةِ لَقَادِرٌ عَلَى أَنْ يَسُوقَهَا إِلَيَّ .امام مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ﴿جَنَّاتِ عَدْنٍ﴾ [سورة مريم: 61] تلاوت فرمایا، پھر آپ نے فرمایا: ”اس میں وہی داخل ہوگا جو یا تو نبی ہو؛ «هَنِيئًا لَكَ يَا صَاحِبَ الْقَبْرِ» ”اے قبر والے (رسول اللہ ﷺ)! آپ کو یہ مقام مبارک ہو“—اور آپ نے رسول اللہ ﷺ کی قبرِ مبارک کی طرف اشارہ فرمایا—”یا پھر وہ جو صدیق ہو؛ «هَنِيئًا لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ» ”اے ابوبکر! آپ کو یہ فضیلت مبارک ہو“، یا پھر وہ جو شہید ہو؛ اور بھلا عمر کو شہادت کہاں نصیب ہو پائے گی! البتہ وہ ذات جس نے مجھے حثمہ کے مقام پر موجود میرے گھر سے نکالا ہے، وہ یقیناً اس بات پر قادر ہے کہ شہادت کو (خود چل کر) میرے پاس پہنچا دے۔“
اس اثر کی سند حسن ہے، اسے امام ابن ابی شیبہ نے ’المصنف‘ (34674) اور امام احمد نے ’فضائل الصحابہ‘ (573) میں روایت کیا ہے۔