کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: سسرالی رشتہ داروں اور دامادوں کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بِشْرٍ ، ثَنَا عَمَّارُ بْنُ سَيْفٍ الضَّبِّيُّ ، وَصِيُّ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ، أَوْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَأَلْتُ رَبِّي - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَنْ لَا أَتَزَوَّجَ إِلَى أَحَدٍ مِنْ أُمَّتِي وَلَا أُزَوِّجَ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِي إِلَّا كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ فَأَعْطَانِي ذَلِكَ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر یا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں نے اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے یہ التجا کی کہ میں اپنی امت میں سے جس خاندان میں خود نکاح کروں یا اپنی امت میں سے جس کسی کا نکاح (اپنے اہل خانہ سے) کروں، وہ لازماً جنت میں میرے ساتھ ہوں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول فرمائی اور مجھے یہ شرف عطا کر دیا۔“
اس روایت کو امام حارث نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں اسحاق بن بشر الکاہلی موجود ہے جو کہ محدثین کے نزدیک سخت ضعیف اور کذاب راوی ہے، لہذا یہ روایت سندا باطل اور من گھڑت ہے۔
اس روایت کو امام حارث نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں اسحاق بن بشر الکاہلی موجود ہے جو کہ محدثین کے نزدیک سخت ضعیف اور کذاب راوی ہے، لہذا یہ روایت سندا باطل اور من گھڑت ہے۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثَنَا جَرْوَلُ بْنُ جَنْدَلٍ ، ثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ بْنِ مَرْزُوقٍ أَوِ ابْنِ رِزْقٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَزِيمَةٌ مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ وَعَهْدٌ عَهِدَهُ إِلَيَّ - أَنْ لَا أَتَزَوَّجَ إِلَى أَهْلِ بَيْتٍ وَلَا أُزَوِّجَ شَيْئًا مِنْ بَنَاتِي إِلَّا كَانُوا رُفَقَائِي فِي الْجَنَّةِ .
ترجمہ
ابو عبد اللہ بن مرزوق یا ابنِ رزق سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میرے رب عزوجل کی طرف سے یہ ایک حتمی فیصلہ ہے اور ایک ایسا پختہ عہد ہے جو اس نے مجھ سے کر رکھا ہے کہ میں جس خاندان میں بھی نکاح کروں یا اپنی صاحبزادیوں میں سے کسی کا نکاح (جس سے بھی) کروں، وہ سب جنت میں میرے رفقاء ہوں گے۔“
اس حدیث کو امام طبرانی نے المعجم الکبیر (4004) میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں موجود راوی جرول بن جندل کے تفرد کی وجہ سے محدثین نے اس کی استنادی حیثیت پر کلام کیا ہے۔
اس حدیث کو امام طبرانی نے المعجم الکبیر (4004) میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں موجود راوی جرول بن جندل کے تفرد کی وجہ سے محدثین نے اس کی استنادی حیثیت پر کلام کیا ہے۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَمَّا تَزَوَّجَ عُمَرُ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - قَالَ : أَلَا تُهَنُّونِي ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ مُنْقَطِعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غَيْرَ سَبَبِي وَنَسَبِي .
3989 \ 2 - قَالَ : وَأَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُرْوَةَ الْجُعْفِيِّ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : خَرَجَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَهْلِ الصُّفَّةِ ، فَقَالَ : أَلَا تُهَنُّونِي ؟ قَالُوا : وَمَا ذَاكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : تَزَوَّجْتُ أُمَّ كُلْثُومٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِفَاطِمَةَ ، وَلِعَلِيٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ .. فَذَكَرَهُ ، قَالَ : فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ .
هَذَا مُنْقَطِعٌ .
3989 \ 2 - قَالَ : وَأَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُرْوَةَ الْجُعْفِيِّ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : خَرَجَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَهْلِ الصُّفَّةِ ، فَقَالَ : أَلَا تُهَنُّونِي ؟ قَالُوا : وَمَا ذَاكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : تَزَوَّجْتُ أُمَّ كُلْثُومٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِفَاطِمَةَ ، وَلِعَلِيٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ .. فَذَكَرَهُ ، قَالَ : فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ .
هَذَا مُنْقَطِعٌ .
ترجمہ
امام جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما سے نکاح کیا تو لوگوں سے فرمایا: ”کیا تم مجھے مبارکباد نہیں دیتے؟ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قیامت کے دن ہر سبب (تعلق و واسطہ) اور ہر نسب منقطع ہو جائے گا سوائے میرے سبب اور میرے نسب کے۔““
امام ابو جعفر محمد بن علی سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اہل صفہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”کیا تم مجھے مبارکباد نہیں دو گے؟“ انہوں نے عرض کی: اے امیر المؤمنین! وہ کس لیے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ (کی نواسی) اور سیدنا علی و سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کی صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا ہے، اور بلا شبہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے...“ پھر انہوں نے وہی حدیث ذکر کی، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”پس میں نے یہ پسند کیا کہ میرا بھی (آپ ﷺ سے ایسا ہی قلبی و نسبی) تعلق قائم ہو جائے۔“
یہ روایت منقطع ہے۔
امام ابو جعفر محمد بن علی سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اہل صفہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”کیا تم مجھے مبارکباد نہیں دو گے؟“ انہوں نے عرض کی: اے امیر المؤمنین! وہ کس لیے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ (کی نواسی) اور سیدنا علی و سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کی صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا ہے، اور بلا شبہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے...“ پھر انہوں نے وہی حدیث ذکر کی، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”پس میں نے یہ پسند کیا کہ میرا بھی (آپ ﷺ سے ایسا ہی قلبی و نسبی) تعلق قائم ہو جائے۔“
یہ روایت منقطع ہے۔