المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ مَا اشترك فِيهِ جماعة مِنْ الصحابة رضي اللَّهُ عنهم باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مشترکہ فضیلتوں کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرُّزْمِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : افْتَخَرَ الْحَيَّانِ مِنَ الْأَنْصَارِ ; الْأَوْسُ وَالْخَزْرَجُ ، فَقَالَتِ الْأَوْسُ : مِنَّا غَسِيلُ الْمَلَائِكَةِ حَنْظَلَةُ الرَّاهِبُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَمِنَّا مَنِ اهْتَزَّ لَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَمِنَّا مَنْ حَمَتْهُ الدَّبْرُ ؛ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ أَبِي الْأَقْلَحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَمِنَّا مَنْ أُجِيزَتْ شَهَادَتُهُ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ ؛ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
وَقَالَ الْخَزْرَجُ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ : مِنَّا أَرْبَعَةٌ جَمَعُوا الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَجْمَعْهُ غَيْرُهُمْ : زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَأَبُو زَيْدٍ ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَطَاءٍ ، وَأَصْلُهُ فِي الْبُخَارِيِّ .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کے دو قبیلوں، اوس اور خزرج نے ایک دوسرے کے سامنے اپنی فضیلتیں بیان کرتے ہوئے فخر کا اظہار کیا، تو قبیلہ اوس نے کہا: ”ہم میں وہ حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ عنہ ہیں جنہیں (شہادت کے بعد) فرشتوں نے غسل دیا، اور ہم ہی میں سے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ہیں جن کی وفات پر عرشِ رحمن جھوم اٹھا، اور ہم ہی میں عاصم بن ثابت بن ابی اقلح رضی اللہ عنہ ہیں جن کے (جسدِ اطہر کی کفار سے) حفاظت بھڑوں کے جھنڈ نے کی، اور ہم میں وہ خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ ہیں جن کی تنہا گواہی کو رسول اللہ ﷺ نے دو مردوں کی گواہی کے برابر قرار دیا تھا۔“ اس کے جواب میں قبیلہ خزرج رضی اللہ عنہم نے کہا: ”ہم میں وہ چار جلیل القدر شخصیات ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں مکمل قرآنِ کریم کو (سینہ بہ سینہ اور تحریری طور پر) یکجا جمع کیا اور ان کے علاوہ کسی نے اسے (اس صورت میں) جمع نہیں کیا تھا، وہ زید بن ثابت، ابو زید، ابی بن کعب اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم ہیں۔“
اسے امام بزار نے عبد الوہاب بن عطا کے طریق سے روایت کیا ہے اور اس کی اصل صحیح بخاری میں موجود ہے۔