المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ مَا اشترك فِيهِ جماعة مِنْ الصحابة رضي اللَّهُ عنهم باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مشترکہ فضیلتوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ وَاقِدٍ ، ثَنَا بَشِيرُ بْنُ زَاذَانَ ، عَنْ رُكَيْنٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَبُو بَكْرٍ أَرْأَفُ أُمَّتِي وَأَرْحَمُهَا ، وَعُمَرُ أَجْرَأُ أُمَّتِي وَأَعْدَلُهَا ، وَعُثْمَانُ أَحْيَا أُمَّتِي وَأَكْرَمُهَا ، وَعَلِيٌّ أَلَبُّ أُمَّتِي وَأَشْجَعُهَا ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ أَبَرُّ أُمَّتِي وَآمَنُهَا ، وَأَبُو ذَرٍّ أَزْهَدُ أُمَّتِي وَأَصْدَقُهَا ، وَأَبُو الدَّرْدَاءِ أَعْذَرُ أُمَّتِي وَأَتْقَاهَا ، وَمُعَاوِيَةُ أَحْلَمُ أُمَّتِي وَأَجْوَدُهَا .سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ابوبکر میری امت میں سب سے زیادہ نرم دل اور سب سے زیادہ رحم دل ہیں، عمر میری امت میں سب سے زیادہ جرات مند اور سب سے زیادہ عدل و انصاف کرنے والے ہیں، عثمان میری امت میں سب سے زیادہ باحیا اور سب سے زیادہ سخی ہیں، علی میری امت میں سب سے زیادہ صاحبِ عقل و دانش اور سب سے زیادہ بہادر ہیں، عبداللہ بن مسعود میری امت میں سب سے زیادہ نیکوکار اور سب سے زیادہ امانت دار ہیں، ابو ذر میری امت میں سب سے زیادہ زہد اختیار کرنے والے اور سب سے زیادہ سچے ہیں، ابو الدرداء میری امت میں سب سے زیادہ درگزر کرنے والے اور سب سے زیادہ پرہیزگار ہیں، اور معاویہ میری امت میں سب سے زیادہ بردبار اور سب سے زیادہ فیاض ہیں۔“
اس حدیث کی تخریج امام ابن عساکر نے ’تاریخ دمشق‘ میں کی ہے، تاہم اس کی سند میں بشیر بن زاذان ضعیف راوی ہے جس کی وجہ سے یہ روایت سنداًا ضعیف ہے۔