❮
❯
حدیث نمبر: 3990
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، ثَنَا أَبُو حَرْبِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، قَالَا : بَيْنَا النَّاسُ ذَاتَ يَوْمٍ عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذْ وَافَقُوا مِنْهُ طِيبَ نَفْسٍ ، فَقَالُوا : حَدِّثْنَا عَنْ أَصْحَابِكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : عَنْ أَيِّ أَصْحَابِي ؟ قَالُوا : أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : كُلُّ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابِي ، فَأَيُّهُمْ تُرِيدُونَ ؟ قَالُوا : النَّفَرُ الَّذِي رَأَيْنَاكَ تُلَطِّفُهُمْ بِذِكْرِكَ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِمْ دُونَ الْقَوْمِ ، قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَيُّهُمْ ؟ قَالُوا : عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : عَلِمَ السُّنَّةَ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ ، وَكَفَى بِهِ عِلْمًا .
ثُمَّ خَتَمَ بِهِ عِنْدَهُ فَلَمْ يَدْرُوا عَلَى مَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ "كَفَى بِهِ عِلْمًا" ، كَفَى بِعَبْدِ اللهِ أَمْ كَفَى بِالْقُرْآنِ ؟
قَالُوا : فَحُذَيْفَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : عَلِمَ أَوْ عُلِّمَ أَسْمَاءَ الْمُنَافِقِينَ ، وَسَأَلَ عَنِ الْمُعْضِلَاتِ حَتَّى عَقَلَ عَنْهَا ، فَإِنْ سَأَلْتُمُوهُ عَنْهَا تَجِدُونَهُ بِهَا عَالِمًا .
قَالُوا : فَأَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : وِعَاءٌ مُلِئَ عِلْمًا ، وَكَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ شَحِيحًا حَرِيصًا ، شَحِيحًا عَلَى دِينِهِ ، حَرِيصًا عَلَى الْعِلْمِ ، وَكَانَ يُكْثِرُ السُّؤَالَ فَيُعْطَى وَيُمْنَعُ ، أَمَا إِنَّهُ قَدْ مُلِئَ لَهُ فِي وِعَائِهِ حَتَّى امْتَلَأَ .
قَالُوا : فَسَلْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : امْرُؤٌ مِنَّا وَإِلَيْنَا أَهْلَ الْبَيْتِ ، مَنْ لَكُمْ بِمِثْلِ لُقْمَانَ الْحَكِيمِ ، عَلِمَ الْعِلْمَ الْأَوَّلَ ، وَأَدْرَكَ الْعِلْمَ الْآخِرَ ، وَقَرَأَ الْكِتَابَ الْأَوَّلَ وَالْكِتَابَ الْآخِرَ ، وَكَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَحْرًا لَا يُنْزَفُ .
قَالُوا : فَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : ذَاكَ امْرُؤٌ خَلَطَ اللهُ تَعَالَى الْإِيمَانَ بِلَحْمِهِ وَدَمِهِ وَعَظْمِهِ وَشَعَرِهِ وَبَشَرِهِ ، لَا يُفَارِقُ الْحَقَّ سَاعَةً ، حَيْثُ زَالَ زَالَ مَعَهُ ، لَا يَنْبَغِي لِلنَّارِ أَنْ تَأْكُلَ مِنْهُ شَيْئًا .
قَالُوا : فَحَدِّثْنَا عَنْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟
قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَهْلًا ، نَهَى اللهُ عَنِ التَّزْكِيَةِ .
قَالَ : فَقَالَ قَائِلٌ : فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ : وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ ، قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَإِنِّي أُحَدِّثُكُمْ بِنِعْمَةِ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، كُنْتُ إِذَا سَأَلْتُ أُعْطِيتُ ، وَإِذَا سَكَتُّ ابْتُدِيتُ ، وَبَيْنَ الْجَوَارِحِ مِنِّي مُلِئَ عِلْمًا جَمًّا .
ترجمہ

زاذان اور ابوحرب بن ابی الاسود سے روایت ہے کہ ایک روز کچھ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھے اور انہیں خوشگوار موڈ میں پایا، تو انہوں نے عرض کیا: ”اے امیر المومنین! ہمیں اپنے ساتھیوں کے بارے میں کچھ بتایئے“۔ انہوں نے فرمایا: ”میرے کن ساتھیوں کے بارے میں؟“ لوگوں نے کہا: ”نبی کریم ﷺ کے صحابہ کے بارے میں“۔ انہوں نے فرمایا: ”نبی کریم ﷺ کے تمام صحابہ میرے بھی ساتھی ہیں، تو تم ان میں سے کن کے متعلق پوچھنا چاہتے ہو؟“ لوگوں نے عرض کیا: ”ان مخصوص افراد کے بارے میں جنہیں ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ان کا ذکر خیر کرنے اور ان کے حق میں دعا کرنے میں دیگر لوگوں کے مقابلے میں زیادہ شفقت و خصوصیت برتتے ہیں“۔ انہوں نے پوچھا: ”وہ کون ہیں؟“ لوگوں نے عرض کیا: ”سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ“۔ آپ نے فرمایا: ”انہوں نے سنت کا علم حاصل کیا اور قرآن کی قراءت کی، اور علم کے لحاظ سے یہی ان کے لیے کافی ہے“۔
راوی کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی بات اسی جملے پر ختم کی تو لوگ سمجھ نہ پائے کہ آپ کی مراد «كَفَى بِهِ عِلْمًا» ”علم کے لحاظ سے یہی کافی ہے“ سے کیا ہے؟ آیا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا علم کافی ہے یا قرآن علم حاصل کرنے کے لیے کافی ہے؟
لوگوں نے پوچھا: ”اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”وہ منافقین کے ناموں سے واقف تھے یا انہیں سکھائے گئے تھے، اور وہ پیچیدہ و مشکل مسائل کے بارے میں اس وقت تک سوال کرتے رہتے تھے جب تک انہیں مکمل طور پر سمجھ نہ لیتے، پس اگر تم ان سے ان مسائل کے بارے میں پوچھو گے تو انہیں ان کا ماہر عالم پاؤ گے“۔
لوگوں نے پوچھا: ”اور سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ؟“ انہوں نے فرمایا: ”وہ علم سے بھرا ہوا ایک برتن تھے، وہ اپنے دین کے معاملے میں نہایت بخیل و محتاط اور علم کے حصول کے انتہائی حریص تھے، وہ کثرت سے سوالات کیا کرتے تھے تو کبھی انہیں علم عطا کر دیا جاتا اور کبھی روک لیا جاتا، آگاہ رہو کہ ان کا ظرف علم سے اس قدر لبریز کر دیا گیا کہ وہ مکمل بھر گیا“۔
لوگوں نے پوچھا: ”اور سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ؟“ انہوں نے فرمایا: ”وہ ایک ایسے مردِ حق ہیں جو ہم اہل بیت میں سے اور ہم ہی میں شامل ہیں، تمہیں لقمانِ حکیم جیسی شخصیت اور کہاں ملے گی؟ انہوں نے اولین علم بھی سیکھا اور آخری علم بھی پایا، انہوں نے پہلی کتابیں بھی پڑھیں اور آخری کتاب بھی، اور وہ ایک ایسا سمندر تھے جو کبھی ختم نہیں ہوتا“۔
لوگوں نے پوچھا: ”اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ؟“ انہوں نے فرمایا: ”وہ ایسی شخصیت ہیں جن کے گوشت، خون، ہڈیوں، بالوں اور جلد میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو رچا بسا دیا ہے، وہ ایک لمحے کے لیے بھی حق سے جدا نہیں ہوتے، حق جہاں بھی مڑتا ہے وہ بھی اسی کے ساتھ مڑ جاتے ہیں، جہنم کی آگ کے لیے یہ جائز نہیں کہ ان کے جسم کا کوئی حصہ کھائے“۔
لوگوں نے عرض کیا: ”اے امیر المومنین! اب اپنے بارے میں کچھ ارشاد فرمائیے؟“
انہوں نے فرمایا: ”ٹھہر جاؤ! اللہ تعالیٰ نے خود اپنی تعریف کرنے سے منع فرمایا ہے“۔
راوی کہتے ہیں کہ اس پر کسی کہنے والے نے عرض کیا: ”اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے: ﴿وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ﴾ [سورة الضحى: 11] یعنی اور اپنے رب کی نعمت کا خوب تذکرہ کریں“، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”پھر میں اپنے رب تبارک و تعالیٰ کی نعمت کا تذکرہ کرتے ہوئے تمہیں بتاتا ہوں کہ میرا حال یہ تھا کہ جب میں سوال کرتا تو مجھے علم عطا کیا جاتا، اور جب میں خاموش رہتا تو مجھ سے گفتگو کی ابتدا کی جاتی، اور میرے دونوں پہلوؤں کے درمیان یعنی سینے میں بہت زیادہ علم بھر دیا گیا ہے“۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 3990
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، منقطع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف منقطع »
«أخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 494، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 4431، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 8450، وأخرجه جامع الترمذي برقم: 3722، وأخرجه مسند الطيالسي برقم: 176، وأخرجه مسند البزار برقم: 575، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 3728 / 3، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 32732، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 6041»