المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ مَا اشترك فِيهِ جماعة مِنْ الصحابة رضي اللَّهُ عنهم باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مشترکہ فضیلتوں کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، هُوَ ابْنُ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرْأَفُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَأَشَدُّهُمْ فِي الْإِسْلَامِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَأَفْضَلُهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَأَقْرَؤُهُمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ ، وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے افراد میں سے اپنی امت کے حق میں سب سے زیادہ شفیق و مہربان ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں، دینِ اسلام کے معاملے میں ان سب میں سب سے زیادہ سخت اور مضبوط عمر رضی اللہ عنہ ہیں، شرم و حیا کے معاملے میں سب سے زیادہ سچے اور پختہ عثمان رضی اللہ عنہ ہیں، ان سب میں سب سے زیادہ فضیلت کے حامل علی رضی اللہ عنہ ہیں، فرائض یعنی وراثت کے علم میں سب سے زیادہ مہارت رکھنے والے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہیں، حلال و حرام کے احکامات کا سب سے زیادہ علم رکھنے والے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں، قرآن مجید کے سب سے بڑے قاری ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں، اور یاد رکھو کہ ہر امت کا ایک امین یعنی نہایت معتبر و امانت دار ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہیں۔“
اس حدیث کی سند میں محمد بن عبد الرحمن بن البیلمانی نامی راوی ضعیف ہے، تاہم اس روایت کے اکثر حصے دیگر کتبِ حدیث میں صحیح اور معتبر اسناد کے ساتھ مروی ہیں۔