المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ مَا اشترك فِيهِ جماعة مِنْ الصحابة رضي اللَّهُ عنهم باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مشترکہ فضیلتوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَكَتَبْتُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الرَّبِيعِ ، قَالَا : ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، ثَنَا النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ الْخَزَّازُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِرَاءٍ ، فَتَزَلْزَلَ الْجَبَلُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اثْبُتْ حِرَاءُ ، فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ . وَعَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ ، وَعَلِيٌّ ، وَطَلْحَةُ ، وَالزُّبَيْرُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، وَسَعْدٌ ، وَسَعِيدٌ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کوہِ حرا پر تشریف فرما تھے کہ اچانک وہ پہاڑ لرزنے لگا، تو آپ ﷺ نے اسے مخاطب کر کے فرمایا: «اثْبُتْ حِرَاءُ» ”اے حرا! ٹھہر جا، کیونکہ تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق یا ایک شہید کے سوا کوئی اور موجود نہیں ہے۔“ اس وقت پہاڑ پر رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر، سیدنا عبدالرحمن بن عوف، سیدنا سعد اور سیدنا سعید رضی اللہ عنہم اجمعین تشریف فرما تھے۔
اس حدیث کے متن کے شواہد سنن ابی داود (4648) اور سنن ترمذی (3703) میں موجود ہیں جن سے یہ روایت تقویت پا کر صحیح کے درجہ کو پہنچتی ہے، البتہ اس مخصوص سند میں نضر بن عمر الخزاز نامی راوی پایا جاتا ہے جس کے حافظے پر محدثین نے کلام کیا ہے۔