❮
❯
حدیث نمبر: 3993
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنْ سَعْدٍ الْإِسْكَافِ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : أَتَى جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ اللهَ تَعَالَى يُحِبُّ مِنْ أَصْحَابِكَ ثَلَاثَةً فَأَحِبَّهُمْ : عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَأَبُو ذَرٍّ ، وَالْمِقْدَادُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - قَالَ : وَأَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ الْجَنَّةَ لَتَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْ أَصْحَابِكَ ، وَعِنْدَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَرَجَا أَنْ يَكُونَ لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : فَأَرَادَ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمْ فَهَابَهُ ، فَخَرَجَ فَلَقِيَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آنِفًا فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - فَقَالَ : إِنَّ الْجَنَّةَ تَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْ أَصْحَابِكَ ، فَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ ، فَهِبْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَهَلْ لَكَ أَنْ تَدْخُلَ فَتَسْأَلَهُ ؟ فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَسْأَلَهُ فَلَا أَكُونُ مِنْهُمْ ، فَيَشْمَتُ بِي قَوْمِي .
ثُمَّ لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ قَوْلِهِ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ قَوْلِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَلَقِيَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : نَعَمْ أَنَا أَسْأَلُهُ ، فَإِنْ كُنْتُ مِنْهُمْ فَأَحْمَدُ اللهَ تَعَالَى ، وَإِنْ لَمْ أَكُنْ مِنْهُمْ ، يَعْنِي فَلَا يَضُرُّ . فَدَخَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : إِنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَنِي أَنَّهُ كَانَ عِنْدَكَ آنِفًا ، وَأَنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - أَتَاكَ فَقَالَ : إِنَّ الْجَنَّةَ لَتَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْ أَصْحَابِكَ ، فَمَنْ هُمْ يَا نَبِيَّ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْتَ مِنْهُمْ يَا عَلِيُّ ، وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَسَيَشْهَدُ مَعَكَ مَشَاهِدَ بَيِّنٌ فَضْلُهَا عَظِيمٌ خَيْرُهَا ، وَسَلْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ ، وَهُوَ نَاصِحٌ فَاتَّخِذْهُ لِنَفْسِكَ .
3993 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَالِكٍ الْقُشَيْرِيُّ ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ .. فَذَكَرَهُ .
وَقَالَ : النَّضْرُ وَسَعْدٌ لَمْ يَكُونَا قَوِيَّيْنِ ، وَمَا رَوَاهُ إِلَّا جَعْفَرٌ .
ترجمہ

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”اے محمد! بے شک اللہ تعالیٰ آپ کے صحابہ میں سے تین افراد سے محبت فرماتا ہے، پس آپ بھی ان سے محبت کیجیے: (وہ ہیں) علی بن ابی طالب، ابوذر اور مقداد رضی اللہ عنہم۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر جبریل علیہ السلام دوبارہ تشریف لائے اور عرض کی: ”اے محمد! بلاشبہ جنت آپ کے صحابہ میں سے تین افراد کی بے حد مشتاق ہے۔“ اس وقت نبی کریم ﷺ کے پاس سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ موجود تھے، تو انہوں نے دل میں تمنا کی کہ کاش یہ فضیلت کسی انصاری صحابی کے لیے ہو، وہ چاہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ سے ان خوش نصیبوں کے بارے میں دریافت کریں لیکن آپ ﷺ کی ہیبت و جلال کی وجہ سے سوال نہ کر سکے۔ چنانچہ وہ وہاں سے نکلے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملے اور کہا: ”اے ابوبکر! ابھی میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ جبریل علیہ السلام آئے اور بتایا کہ جنت آپ ﷺ کے تین صحابہ کی مشتاق ہے، مجھے امید تھی کہ وہ شاید انصار میں سے ہوں گے، مگر میں ہیبت کی وجہ سے آپ ﷺ سے دریافت نہ کر سکا، تو کیا آپ اندر جا کر ان کے متعلق پوچھ سکتے ہیں؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں میں سوال کروں اور ان میں میرا نام نہ ہو، تو اس طرح میری قوم مجھ پر طنز و ملامت کرے گی۔“
پھر سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی ملاقات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی، انہوں نے وہی بات کہی جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہی تھی، مگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی وہی جواب دیا جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ دے چکے تھے۔ پھر وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملے (اور وہی تذکرہ کیا) تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں، میں ضرور دریافت کروں گا، پس اگر میں ان میں شامل ہوا تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کروں گا، اور اگر میں ان میں نہ ہوا تو (اللہ کی رضا پر راضی رہوں گا) اس سے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اندر تشریف لے گئے اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! انس نے مجھے بتایا ہے کہ ابھی وہ آپ کے پاس تھے جب جبریل علیہ السلام آئے اور بتایا کہ جنت آپ کے تین صحابہ کی مشتاق ہے، تو اے اللہ کے نبی! وہ کون لوگ ہیں؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے علی! تم ان میں سے ہو، اور دوسرے عمار بن یاسر ہیں جو تمہارے ساتھ ایسے معرکوں میں شریک ہوں گے جن کی فضیلت عیاں اور جن کی خیر و برکت بہت بڑی ہوگی، اور تیسرے سلمان فارسی ہیں جو ہم اہل بیت میں سے ہیں، وہ ایک سچے خیر خواہ اور مخلص انسان ہیں، لہٰذا انہیں اپنے لیے (قریبی ساتھی) بنا لو۔“
امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے اس حدیث کو روایت کیا ہے اور امام بزار نے تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ نضر بن حمید اور سعد اسکاف قوی راوی نہیں ہیں، اور اس روایت کو صرف جعفر بن سلیمان ہی نے نقل کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 3993
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 14688، وأخرجه البحر الزخار المعروف بمسند البزار 10 - 18 برقم: 6695، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 6666/1»