المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ مَا اشترك فِيهِ جماعة مِنْ الصحابة رضي اللَّهُ عنهم باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مشترکہ فضیلتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3995
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنَّا مَعْشَرَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ مُتَوَافِرُونَ نَقُولُ : أَفْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ عُمَرُ ، ثُمَّ عُثْمَانُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - ثُمَّ نَسْكُتُ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی جماعت، جبکہ ہم کثیر تعداد میں موجود اور یکجا ہوتے تھے، آپس میں یہ کہا کرتے تھے: ”اپنے نبی ﷺ کے بعد اس امت کی سب سے افضل اور برگزیدہ شخصیت ابوبکر کی ہے، پھر عمر کی، پھر عثمان کی“ رضی اللہ عنہم، ”پھر اس کے بعد ہم خاموش ہو جایا کرتے تھے۔“
اس حدیث کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔