کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: نبی کریم ﷺ کی دعا کی برکت کا بیان۔
( 159 ) فِيهِ حَدِيثُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فِي مَسْحِ بَطْنِهِ ، فَمَا اشْتَكَاهُ بَعْدُ .
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، مِنْ بَنِي سَلَامَانَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ : إِنَّ خَالَهَا حَبِيبَ بْنَ فُوَيْكٍ حَدَّثَهَا إِنَّ أَبَاهُ خَرَجَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَيْنَاهُ مُبْيَضَّتَانِ لَا يُبْصِرُ بِهِمَا شَيْئًا ، فَسَأَلَهُ : مَا أَصَابَكَ ؟ قَالَ : كُنْتُ أُمَرِّنُ جَمَلًا لِي فَوَضَعْتُ رِجْلِي عَلَى بَيْضَةِ حَيَّةٍ ، فَأُصِبْتُ ، فَنَفَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ ، فَأَبْصَرَ ، قَالَ : فَرَأَيْتُهُ يُدْخِلُ الْخَيْطَ فِي الْإِبْرَةِ ، وَإِنَّهُ لَابْنُ ثَمَانِينَ ، وَإِنَّ عَيْنَيْهِ لَمُبْيَضَّتَانِ .
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، مِنْ بَنِي سَلَامَانَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ : إِنَّ خَالَهَا حَبِيبَ بْنَ فُوَيْكٍ حَدَّثَهَا إِنَّ أَبَاهُ خَرَجَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَيْنَاهُ مُبْيَضَّتَانِ لَا يُبْصِرُ بِهِمَا شَيْئًا ، فَسَأَلَهُ : مَا أَصَابَكَ ؟ قَالَ : كُنْتُ أُمَرِّنُ جَمَلًا لِي فَوَضَعْتُ رِجْلِي عَلَى بَيْضَةِ حَيَّةٍ ، فَأُصِبْتُ ، فَنَفَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ ، فَأَبْصَرَ ، قَالَ : فَرَأَيْتُهُ يُدْخِلُ الْخَيْطَ فِي الْإِبْرَةِ ، وَإِنَّهُ لَابْنُ ثَمَانِينَ ، وَإِنَّ عَيْنَيْهِ لَمُبْيَضَّتَانِ .
ترجمہ
اس باب میں سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث بھی مذکور ہے جس میں آپ ﷺ کے ان کے پیٹ پر دستِ مبارک پھیرنے کا تذکرہ ہے، جس کے بعد انہوں نے کبھی بھی پیٹ کی تکلیف کی شکایت نہیں کی۔
حبیب بن فُوَیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد انہیں نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں لے کر آئے جبکہ ان کی دونوں آنکھیں (سفید موتیے کی طرح) بالکل سفید ہو چکی تھیں اور وہ کسی چیز کو دیکھ نہیں سکتے تھے، تو آپ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا: ”تمہیں کیا حادثہ پیش آیا؟“ انہوں نے عرض کیا: ”میں اپنے ایک اونٹ کو سدھا رہا تھا کہ میرا پاؤں سانپ کے انڈے پر پڑ گیا، جس کے نتیجے میں میری یہ حالت ہو گئی۔“ تب نبی کریم ﷺ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعابِ دہن مبارک ڈالا تو وہ بینا ہو گئے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے انہیں دیکھا کہ وہ سوئی میں دھاگہ پرو لیتے تھے جبکہ ان کی عمر اسی برس ہو چکی تھی، اور (خلافِ معمول) ان کی آنکھیں اب بھی سفید ہی دکھائی دیتی تھیں۔
حبیب بن فُوَیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد انہیں نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں لے کر آئے جبکہ ان کی دونوں آنکھیں (سفید موتیے کی طرح) بالکل سفید ہو چکی تھیں اور وہ کسی چیز کو دیکھ نہیں سکتے تھے، تو آپ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا: ”تمہیں کیا حادثہ پیش آیا؟“ انہوں نے عرض کیا: ”میں اپنے ایک اونٹ کو سدھا رہا تھا کہ میرا پاؤں سانپ کے انڈے پر پڑ گیا، جس کے نتیجے میں میری یہ حالت ہو گئی۔“ تب نبی کریم ﷺ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعابِ دہن مبارک ڈالا تو وہ بینا ہو گئے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے انہیں دیکھا کہ وہ سوئی میں دھاگہ پرو لیتے تھے جبکہ ان کی عمر اسی برس ہو چکی تھی، اور (خلافِ معمول) ان کی آنکھیں اب بھی سفید ہی دکھائی دیتی تھیں۔
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مَرْوَانَ ، ثَنَا أَبُو عَائِشَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ ، فَقَالَ : رَأَيْتُ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ كَأَنَّمَا أُعْطِيتُ الْمَقَالِيدَ وَالْمَوَازِينَ ، فَأَمَّا الْمَقَالِيدُ فَهَذِهِ الْمَفَاتِيحُ ، وَأَمَّا الْمَوَازِينُ فَهِيَ الَّتِي يُوزَنُ بِهَا ، وُضِعْتُ فِي إِحْدَى الْكِفَّتَيْنِ ، وَوُضِعَتْ أُمَّتِي فِي الْأُخْرَى ، فَوُزِنْتُ فَرَجَحْتُهُمْ ، فَجِيءَ بِأَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَوُزِنَ فَوَزَنَهُمْ ، ثُمَّ جِيءَ بِعُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَوُزِنَ فَوَزَنَهُمْ ، ثُمَّ جِيءَ بِعُثْمَانَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَوُزِنَ فَوَزَنَهُمْ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظْتُ ، فَرُفِعَتْ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک صبح تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: ”میں نے آج نمازِ فجر سے پہلے (خواب میں) دیکھا کہ گویا مجھے «الْمَقَالِيدَ» ”چابیاں“ اور «الْمَوَازِينَ» ”ترازو“ عطا کیے گئے ہیں۔ رہے «الْمَقَالِيدُ» تو ان سے مراد یہی کنجیاں ہیں، اور رہے «الْمَوَازِينُ» تو یہ وہ ترازو ہیں جن سے وزن کیا جاتا ہے۔ چنانچہ مجھے ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا گیا اور میری پوری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا، تو میرا وزن کیا گیا اور میں اپنی امت پر بھاری رہا۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لایا گیا اور ان کا وزن کیا گیا تو وہ بھی ان سب پر بھاری رہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لایا گیا اور ان کا وزن کیا گیا تو وہ بھی ان سب پر بھاری رہے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو لایا گیا اور ان کا وزن کیا گیا تو وہ بھی ان سب پر بھاری ثابت ہوئے، پھر میں بیدار ہو گیا اور وہ (ترازو و چابیاں) اٹھا لیے گئے۔“
اس حدیث کو امام احمد نے اپنی مسند (5361) اور امام بزار نے (2460) میں روایت کیا ہے، اور اس کی سند حسن درجے کی ہے۔
اس حدیث کو امام احمد نے اپنی مسند (5361) اور امام بزار نے (2460) میں روایت کیا ہے، اور اس کی سند حسن درجے کی ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : أُصِيبَتْ عَيْنُ أَبِي ذَرٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - يَوْمَ أُحُدٍ ، فَبَزَقَ فِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَتْ أَصَحَّ عَيْنَيْهِ .
ترجمہ
سیدنا عبدالرحیم بن حارث بن عبیدہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ غزوہِ احد کے دن سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی آنکھ مبارک زخمی ہوگئی تھی، پس نبی کریم ﷺ نے اس میں اپنا لعابِ دہن ڈالا، تو وہ ان کی دونوں آنکھوں میں سے زیادہ درست اور صحت مند ہوگئی۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں موجود راوی عبد العزیز بن عمران متروک الحدیث ہے۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں موجود راوی عبد العزیز بن عمران متروک الحدیث ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رِفَاعَةَ أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَا خَارِجَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ : إِنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، حَدَّثَهُ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ الَّتِي حَجَّهَا ، فَلَمَّا هَبَطْنَا بَطْنَ الرَّوْحَاءِ ، عَارَضَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ لَهَا صَبِيٌّ ، فَسَلَّمَتْ عَلَيْهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَقَفَ لَهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، هَذَا ابْنِي فُلَانٌ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا زَالَ فِي حَنَقٍ وَاحِدٍ مُنْذُ وَلَدْتُهُ إِلَى السَّاعَةِ - أَوْ كَلِمَةً تُشْبِهُهَا - فَأَكْسَعَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَسَطَ يَدَهُ ، فَجَعَلَهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الرَّحْلِ ، ثُمَّ تَفَلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : اخْرُجْ عَدُوَّ اللهِ ، فَإِنِّي رَسُولُ اللهِ ثُمَّ نَاوَلَهَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُ ، فَقَالَ : خُذِيهِ ، فَلَنْ تَرَيْ مَعَهُ شَيْئًا يَرِيبُكِ بَعْدَ الْيَوْمِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى . قَالَ أُسَامَةُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : وَقَضَيْنَا حَجَّتَنَا ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا ، فَلَمَّا نَزَلْنَا بِالرَّوْحَاءِ ، فَإِذَا تِلْكَ الْمَرْأَةُ أُمُّ الصَّبِيِّ ، فَجَاءَتْ ، وَمَعَهَا شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَنَا أُمُّ الصَّبِيِّ الَّذِي أَتَيْتُكَ بِهِ ، قَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا رَأَيْتُ مِنْهُ شَيْئًا يَرِيبُنِي إِلَى هَذِهِ السَّاعَةِ ، قَالَ أُسَامَةُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أُسَيْمُ - قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَهَكَذَا كَانَ يَدْعُو بِهِ تَحَشُّمَةً - نَاوِلْنِي ذِرَاعَهَا ، قَالَ : فَامْتَلَخْتُ الذِّرَاعَ ، فَنَاوَلْتُهُ إِيَّاهَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَكَلَهَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا أُسَيْمُ ، نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ ، فَامْتَلَخْتُ الذِّرَاعَ ، فَنَاوَلْتُهُ إِيَّاهَا ، فَأَكَلَهَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا أُسَيْمُ ، نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّكَ قَدْ قُلْتَ : نَاوِلْنِي ، فَنَاوَلْتُكَهَا ، فَأَكَلْتَهَا ، ثُمَّ قُلْتَ : نَاوِلْنِي ، فَنَاوَلْتُكَهَا فَأَكَلْتَهَا ، ثُمَّ قُلْتَ : نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ ، وَإِنَّمَا لِلشَّاةِ ذِرَاعَانِ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَهْوَيْتَ إِلَيْهَا مَا زِلْتَ تَجِدُ فِيهَا ذِرَاعًا مَا قُلْتُ لَكَ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أُسَيْمُ ، قُمْ ، فَاخْرُجْ ، فَانْظُرْ هَلْ تَرَى مَكَانًا يُوَارِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَخَرَجْتُ ، فَمَشَيْتُ حَتَّى حَسِرْتُ ، وَمَا قَطَعْتُ النَّاسَ ، وَمَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَرَى أَنَّهُ يُوَارِي أَحَدًا ، وَقَدْ مَلَأَ النَّاسُ مَا بَيْنَ السَّدَّيْنِ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَهَلْ رَأَيْتَ شَجَرًا ، أَوْ رُجَمًا ؟ قُلْتُ : بَلَى ، قَدْ رَأَيْتُ نَخَلَاتٍ صِغَارًا ، إِلَى جَانِبِهِنَّ رُجَمٌ مِنْ حِجَارَةٍ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أُسَيْمُ ، اذْهَبْ إِلَى النَّخَلَاتِ ، فَقُلْ لَهُنَّ : يَأْمُرُكُنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْحَقَ بَعْضُكُنَّ بِبَعْضٍ ; حَتَّى تَكُنَّ سُتْرَةً لِمَخْرَجِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقُلْ كَذَلِكَ لِلرُّجَمِ ، فَأَتَيْتُ النَّخَلَاتِ ، فَقُلْتُ لَهُنَّ الَّذِي أَمَرَنِي بِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ تَفَاقُرَهُنَّ بِعُرُوقِهِنَّ وَتُرَابِهِنَّ ، حَتَّى لَصِقَ بَعْضُهُنَّ بِبَعْضٍ ، فَكُنَّ كَأَنَّهُنَّ نَخْلَةٌ وَاحِدَةٌ ، وَقُلْتُ ذَلِكَ لِلْحِجَارَةِ ، فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى تَفَاقُرِهِنَّ حَجَرًا حَجَرًا حَتَّى عَلَا بَعْضُهُنَّ بَعْضًا ، فَكُنَّ كَأَنَّهُنَّ جِدَارٌ .
فَأَتَيْتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُذِ الْإِدَاوَةَ فَأَخَذْتُهَا ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا نَمْشِي ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْهُنَّ سَبَقْتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَضَعْتُ الْإِدَاوَةَ ، ثُمَّ انْصَرَفْتُ إِلَيْهِ ، فَانْصَرَفَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَضَى حَاجَتَهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وَهُوَ يَحْمِلُ الْإِدَاوَةَ ، فَأَخَذْتُهَا مِنْهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ رَجَعْنَا ، فَلَمَّا دَخَلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخِبَاءَ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أُسَيْمُ ، انْطَلِقْ إِلَى النَّخَلَاتِ ، فَقُلْ لَهُنَّ : يَأْمُرُكُنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَرْجِعَ كُلُّ نَخْلَةٍ إِلَى مَكَانِهَا ، وَقُلْ ذَلِكَ لِلْحِجَارَةِ فَأَتَيْتُ النَّخَلَاتِ ، فَقُلْتُ لَهُنَّ ، قَالَ : فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى تَفَاقُرِهِنَّ وَتُرَابِهِنَّ ، حَتَّى عَادَتْ كُلُّ نَخْلَةٍ إِلَى مَكَانِهَا ، وَقُلْتُ ذَلِكَ لِلْحِجَارَةِ ، فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى تَفَاقُرِهِنَّ حَجَرًا حَجَرًا ، حَتَّى عَادَ كُلُّ حَجَرٍ إِلَى مَكَانِهِ ، فَأَتَيْتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ .
هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ ضَعِيفٌ ، وَلَكِنْ لِحَدِيثِهِ شَاهِدٌ مِنْ طَرِيقِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ .
فَأَتَيْتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُذِ الْإِدَاوَةَ فَأَخَذْتُهَا ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا نَمْشِي ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْهُنَّ سَبَقْتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَضَعْتُ الْإِدَاوَةَ ، ثُمَّ انْصَرَفْتُ إِلَيْهِ ، فَانْصَرَفَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَضَى حَاجَتَهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وَهُوَ يَحْمِلُ الْإِدَاوَةَ ، فَأَخَذْتُهَا مِنْهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ رَجَعْنَا ، فَلَمَّا دَخَلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخِبَاءَ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أُسَيْمُ ، انْطَلِقْ إِلَى النَّخَلَاتِ ، فَقُلْ لَهُنَّ : يَأْمُرُكُنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَرْجِعَ كُلُّ نَخْلَةٍ إِلَى مَكَانِهَا ، وَقُلْ ذَلِكَ لِلْحِجَارَةِ فَأَتَيْتُ النَّخَلَاتِ ، فَقُلْتُ لَهُنَّ ، قَالَ : فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى تَفَاقُرِهِنَّ وَتُرَابِهِنَّ ، حَتَّى عَادَتْ كُلُّ نَخْلَةٍ إِلَى مَكَانِهَا ، وَقُلْتُ ذَلِكَ لِلْحِجَارَةِ ، فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى تَفَاقُرِهِنَّ حَجَرًا حَجَرًا ، حَتَّى عَادَ كُلُّ حَجَرٍ إِلَى مَكَانِهِ ، فَأَتَيْتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ .
هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ ضَعِيفٌ ، وَلَكِنْ لِحَدِيثِهِ شَاهِدٌ مِنْ طَرِيقِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ .
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ آپ ﷺ کے اس حج (حجۃ الوداع) میں نکلے جو آپ ﷺ نے ادا فرمایا، پھر جب ہم ”روحاء“ کی وادی میں اترے تو رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک عورت آئی جس کے ساتھ ایک بچہ تھا، اس نے آپ ﷺ کو سلام کیا تو آپ ﷺ اس کے لیے رک گئے، اس عورت نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! یہ میرا بیٹا فلاں ہے، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! جب سے یہ پیدا ہوا ہے اس گھڑی تک یہ ایک ہی حالت (دیوانگی یا مرگی کی کیفیت) میں مبتلا ہے“، یا اسی جیسا کوئی کلمہ کہا، پس رسول اللہ ﷺ اس کی طرف جھکے، اپنا ہاتھ پھیلایا اور بچے کو اپنے اور زین کے درمیان بٹھا لیا، پھر آپ ﷺ نے اس کے منہ میں اپنا لعابِ دہن مبارک ڈالا اور فرمایا: «اخْرُجْ عَدُوَّ اللهِ ، فَإِنِّي رَسُولُ اللهِ» ”اے اللہ کے دشمن نکل جا! کیونکہ میں اللہ کا رسول ہوں“، پھر آپ ﷺ نے وہ بچہ اس عورت کے حوالے کر دیا اور فرمایا: ”اسے لے لو، آج کے بعد تم ان شاء اللہ اس میں کوئی ایسی بات نہیں دیکھو گی جو تمہیں پریشان کرے“۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر ہم نے اپنا حج مکمل کیا اور واپس لوٹے، جب ہم دوبارہ ”روحاء“ کے مقام پر اترے تو وہی عورت جو بچے کی ماں تھی، سامنے آئی، اس کے پاس بھنی ہوئی بکری تھی، اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں اسی بچے کی ماں ہوں جسے میں آپ کے پاس لائی تھی، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا! میں نے اس میں اس گھڑی تک کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جو مجھے پریشان کرے“۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے اسیم! (امام زہری کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کمالِ شفقت و محبت کی بنا پر انہیں اسی چھوٹے نام سے پکارا کرتے تھے) مجھے اس کی دستی (بکری کا بازو) پکڑا“، کہتے ہیں کہ میں نے دستی نکالی اور آپ ﷺ کو پکڑا دی، آپ ﷺ نے اسے نوش فرمایا، پھر فرمایا: ”اے اسیم! مجھے دستی پکڑا“، میں نے دوسری دستی نکالی اور آپ ﷺ کو پیش کی، آپ ﷺ نے اسے بھی تناول فرمایا، پھر فرمایا: ”اے اسیم! مجھے دستی پکڑاؤ“، تو میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ نے دستی مانگی میں نے پیش کر دی، آپ نے اسے نوش فرمایا، پھر آپ نے دوبارہ مانگی میں نے پھر پیش کر دی اور آپ نے اسے بھی کھا لیا، پھر آپ نے اب دوبارہ دستی مانگی ہے جبکہ بکری کی تو صرف دو ہی دستیاں ہوتی ہیں؟“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”آگاہ رہو! اگر تم خاموش رہتے (اور ہاتھ بڑھاتے) تو جب تک میں تم سے مانگتا رہتا تمہیں اس میں دستی ملتی رہتی“۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اسیم! اٹھو اور باہر جا کر دیکھو کیا تمہیں کوئی ایسی جگہ نظر آتی ہے جو رسول اللہ ﷺ کی پردہ پوشی کر سکے؟“ میں نکلا اور کافی دور تک چلا یہاں تک کہ تھک گیا، لیکن مجھے لوگوں کی کثرت کی وجہ سے کوئی ایسی چیز نظر نہ آئی جو پردہ پوشی کر سکے، کیونکہ لوگوں نے دونوں پہاڑوں کے درمیان کی جگہ بھر دی تھی، میں نے آپ ﷺ کو آ کر خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے کوئی درخت یا پتھروں کا ڈھیر دیکھا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”جی ہاں، میں نے کھجور کے کچھ چھوٹے درخت دیکھے ہیں جن کے پہلو میں پتھروں کا ایک ڈھیر ہے“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اسیم! ان درختوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو: تمہیں رسول اللہ ﷺ حکم دیتے ہیں کہ تم ایک دوسرے کے ساتھ مل جاؤ تاکہ رسول اللہ ﷺ کے قضائے حاجت کے لیے اوٹ بن جاؤ، اور اسی طرح پتھروں کے ڈھیر سے بھی کہہ دو“، چنانچہ میں ان درختوں کے پاس آیا اور انہیں وہی بات کہی جس کا رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا تھا، پس اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! گویا میں ان درختوں کو دیکھ رہا تھا کہ وہ اپنی جڑوں اور مٹی سمیت اکھڑ کر اس طرح ایک دوسرے سے جڑ گئے کہ وہ ایک ہی درخت محسوس ہونے لگے، اور یہی بات میں نے پتھروں سے کہی، پس قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا! میں انہیں دیکھ رہا تھا کہ وہ ایک ایک پتھر کر کے ایک دوسرے کے اوپر چڑھ گئے یہاں تک کہ وہ ایک دیوار کی مانند ہو گئے۔
پھر میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو مطلع کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانی کا برتن اٹھاؤ“، میں نے اسے اٹھایا اور ہم چل دیے، جب ہم ان کے قریب پہنچے تو میں آپ ﷺ سے آگے بڑھ گیا اور پانی کا برتن رکھ کر پیچھے ہٹ گیا، پس آپ ﷺ تشریف لے گئے اور اپنی حاجت پوری کی، پھر آپ ﷺ واپس تشریف لائے جبکہ میں نے برتن اٹھا لیا، پھر ہم واپس پلٹے، جب آپ ﷺ خیمے میں داخل ہوئے تو فرمایا: ”اے اسیم! ان کھجور کے درختوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو: تمہیں رسول اللہ ﷺ حکم دیتے ہیں کہ ہر درخت اپنی اپنی جگہ پر واپس چلا جائے، اور پتھروں سے بھی یہی کہہ دو“، میں نے درختوں کے پاس جا کر انہیں حکم سنایا، سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پس اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا! گویا میں انہیں ان کی مٹی سمیت حرکت کرتے دیکھ رہا تھا یہاں تک کہ ہر درخت اپنی جگہ پر واپس لوٹ گیا، اور میں نے پتھروں سے بھی یہی کہا تو اللہ کی قسم! میں ان کے ایک ایک پتھر کو دیکھ رہا تھا یہاں تک کہ ہر پتھر اپنی جگہ پر واپس چلا گیا، پھر میں نے آ کر رسول اللہ ﷺ کو اس کی خبر دی۔
اس کی سند حسن ہے، معاویہ بن یحییٰ الصدفی اگرچہ ضعیف ہیں لیکن ان کی حدیث کا شاہد یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ کے طریق سے موجود ہے جسے امام احمد اور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے۔
پھر میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو مطلع کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانی کا برتن اٹھاؤ“، میں نے اسے اٹھایا اور ہم چل دیے، جب ہم ان کے قریب پہنچے تو میں آپ ﷺ سے آگے بڑھ گیا اور پانی کا برتن رکھ کر پیچھے ہٹ گیا، پس آپ ﷺ تشریف لے گئے اور اپنی حاجت پوری کی، پھر آپ ﷺ واپس تشریف لائے جبکہ میں نے برتن اٹھا لیا، پھر ہم واپس پلٹے، جب آپ ﷺ خیمے میں داخل ہوئے تو فرمایا: ”اے اسیم! ان کھجور کے درختوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو: تمہیں رسول اللہ ﷺ حکم دیتے ہیں کہ ہر درخت اپنی اپنی جگہ پر واپس چلا جائے، اور پتھروں سے بھی یہی کہہ دو“، میں نے درختوں کے پاس جا کر انہیں حکم سنایا، سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پس اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا! گویا میں انہیں ان کی مٹی سمیت حرکت کرتے دیکھ رہا تھا یہاں تک کہ ہر درخت اپنی جگہ پر واپس لوٹ گیا، اور میں نے پتھروں سے بھی یہی کہا تو اللہ کی قسم! میں ان کے ایک ایک پتھر کو دیکھ رہا تھا یہاں تک کہ ہر پتھر اپنی جگہ پر واپس چلا گیا، پھر میں نے آ کر رسول اللہ ﷺ کو اس کی خبر دی۔
اس کی سند حسن ہے، معاویہ بن یحییٰ الصدفی اگرچہ ضعیف ہیں لیکن ان کی حدیث کا شاہد یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ کے طریق سے موجود ہے جسے امام احمد اور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِيَّ ، صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - يُحَدِّثُ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَايَعْتُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ ، فَأُخْبِرْتُ أَنَّهُ بَعَثَ جَيْشًا إِلَى قَوْمِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، ارْدُدِ الْجَيْشَ ، وَأَنَا لَكَ بِإِسْلَامِ قَوْمِي وَطَاعَتِهِمْ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي : اذْهَبْ ، فَارْدُدْهُمْ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ رَاحِلَتِي قَدْ كَلَّتْ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَخَا صُدَاءٍ ، إِنَّكَ لَمُطَاعٌ فِي قَوْمِكَ فَقُلْتُ : بَلِ اللهُ تَعَالَى هَدَاهُمْ بِكَ لِلْإِسْلَامِ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفَلَا أُؤَمِّرُكَ عَلَيْهِمْ ؟ فَقُلْتُ : بَلَى ، يَا رَسُولَ اللهِ ، فَكَتَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا لِي ، فَأَمَّرَنِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مُرْ لِي بِشَيْءٍ مِنْ صَدَقَاتِهِمْ فَكَتَبَ لِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا آخَرَ ، قَالَ الصُّدَائِيُّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : وَكَانَ ذَلِكَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، فَنَزَلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا ، فَأَتَاهُ أَهْلُ الْمَنْزِلِ يَشْكُونَ عَامِلَهُمْ ، وَيَقُولُونَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَخَذَنَا بِشَيْءٍ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفَعَلَ ذَلِكَ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، وَأَنَا فِيهِمْ ، فَقَالَ : لَا خَيْرَ فِي الْإِمَارَةِ لِرَجُلٍ مُؤْمِنٍ ، قَالَ الصُّدَائِيُّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : فَدَخَلَ قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفْسِي ، ثُمَّ أَتَاهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَرُ ، فَسَأَلَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَعْطِنِي ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ سَأَلَ النَّاسَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، فَصُدَاعٌ فِي الرَّأْسِ ، وَدَاءٌ فِي الْبَطْنِ فَقَالَ الرَّجُلُ : أَعْطِنِي مِنَ الصَّدَقَاتِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللهَ جَلَّ وَعَلَا لَمْ يَرْضَ فِيهَا بِحُكْمِ نَبِيٍّ وَلَا غَيْرِهِ ، حَتَّى حَكَمَ فِيهَا بِنَفْسِهِ ، فَجَزَّأَهَا ، فَإِنْ كُنْتَ مِنْ تِلْكَ الْأَجْزَاءِ أَعْطَيْتُكَ - أَوْ أَعْطَيْنَاكَ بِحَقِّكَ ، قَالَ الصُّدَائِيُّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : فَدَخَلَ ذَلِكَ فِي نَفْسِي ، أَنِّي سَأَلْتُهُ وَأَنَا غَنِيٌّ ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَارَ بِنَا مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ ، فَلَزِمْتُهُ - وَكُنْتُ قَوِيًّا - وَكَانَ أَصْحَابُهُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - يَنْقَطِعُونَ عَنْهُ وَيَسْتَأْخِرُونَ ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ مَعَهُ أَحَدٌ غَيْرِي ، فَلَمَّا كَانَ أَوَانُ أَذَانِ الصُّبْحِ أَمَرَنِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَذَّنْتُ ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ : أُقِيمُ يَا رَسُولَ اللهِ ، فَيَنْظُرُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى نَاحِيَةِ الْمَشْرِقِ إِلَى الْفَجْرِ ، فَيَقُولُ : لَا ، حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ ، نَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَبَرَّزَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيَّ ، وَقَدْ تَلَاحَقَ أَصْحَابُهُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ مِنْ مَاءٍ يَا أَخَا صُدَاءٍ ؟ قُلْتُ : لَا ، إِلَّا شَيْءٌ قَلِيلٌ لَا يَكْفِيكَ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اجْعَلْهُ فِي إِنَاءٍ ، ثُمَّ ائْتِنِي بِهِ فَفَعَلْتُ ، فَوَضَعَ كَفَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِنَاءِ ، فَرَأَيْتُ بَيْنَ كُلِّ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَيْنًا تَفُورُ ، فَقَالَ : يَا أَخَا صُدَاءٍ ، لَوْلَا أَنِّي أَسْتَحْيِي مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ لَسَقَيْنَا وَاسْتَقَيْنَا ، فَنَادِ فِي أَصْحَابِي : مَنْ كَانَ لَهُ حَاجَةٌ فِي الْمَاءِ ، فَنَادَيْتُ ، فَأَخَذَ مَنْ أَرَادَ مِنْهُمْ ، ثُمَّ قَامَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَأَرَادَ بِلَالٌ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - أَنْ يُقِيمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ أَذَّنَ ، فَهُوَ يُقِيمُ ، قَالَ الصُّدَائِيُّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : فَأَقَمْتُ الصَّلَاةَ ، فَلَمَّا قَضَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ أَتَيْتُهُ بِالْكِتَابَيْنِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَعْفِنِي مِنْ هَذَيْنِ الْكِتَابَيْنِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَا بَدَا لَكَ ؟ فَقُلْتُ : سَمِعْتُكَ يَا نَبِيَّ اللهِ تَقُولُ : لَا خَيْرَ فِي الْإِمَارَةِ لِرَجُلٍ مُؤْمِنٍ ، وَأَنَا أُؤْمِنُ بِاللهِ وَرَسُولِهِ .
وَسَمِعْتُكَ تَقُولُ لِلسَّائِلِ : مَنْ سَأَلَ النَّاسَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، فَهُوَ صُدَاعٌ فِي الرَّأْسِ ، وَدَاءٌ فِي الْبَطْنِ ، وَقَدْ سَأَلْتُكَ وَأَنَا غَنِيٌّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَهُوَ ذَاكَ ، فَإِنْ شِئْتَ فَاقْبَلْ ، وَإِنْ شِئْتَ فَدَعْ ، فَقُلْتُ : بَلْ أَدَعُ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَدُلَّنِي عَلَى رَجُلٍ أُؤَمِّرْهُ عَلَيْكُمْ ، فَدَلَلْتُهُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْوَفْدِ الَّذِينَ قَدِمُوا عَلَيْهِ ، فَأَمَّرَهُ عَلَيْنَا ، ثُمَّ قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللهِ ، إِنَّ لَنَا بِئْرًا ، إِذَا كَانَ الشِّتَاءُ وَسِعَنَا مَاؤُهَا ، وَاجْتَمَعْنَا عَلَيْهَا ، وَإِذَا كَانَ الصَّيْفُ قَلَّ مَاؤُهَا ، فَتَفَرَّقْنَا عَلَى مِيَاهٍ حَوْلَنَا ، وَقَدْ أَسْلَمْنَا ، وَكُلُّ مَنْ حَوْلَنَا عَدُوٌّ ، فَادْعُ اللهَ تَعَالَى لَنَا فِي بِئْرِنَا أَنْ يَسَعَنَا مَاؤُهَا ، فَنَجْتَمِعَ عَلَيْهَا ، وَلَا نَتَفَرَّقَ ، فَدَعَا بِسِتِّ حَصَيَاتٍ ، فَفَرَكَهُنَّ فِي يَدِهِ ، وَدَعَا فِيهِنَّ ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اذْهَبُوا بِهَذِهِ الْحَصَيَاتِ ، فَإِذَا أَتَيْتُمُ الْبِئْرَ ، فَأَلْقُوهَا وَاحِدَةً وَاحِدَةً ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللهِ تَعَالَى ، قَالَ الصُّدَائِيُّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : فَفَعَلْنَا ، قَالَ : فَمَا اسْتَطَعْنَا بَعْدُ أَنْ نَنْظُرَ إِلَى قَعْرِهَا .
أَخْرَجَ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ بَعْضَهُ مُفَرَّقًا .
وَسَمِعْتُكَ تَقُولُ لِلسَّائِلِ : مَنْ سَأَلَ النَّاسَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، فَهُوَ صُدَاعٌ فِي الرَّأْسِ ، وَدَاءٌ فِي الْبَطْنِ ، وَقَدْ سَأَلْتُكَ وَأَنَا غَنِيٌّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَهُوَ ذَاكَ ، فَإِنْ شِئْتَ فَاقْبَلْ ، وَإِنْ شِئْتَ فَدَعْ ، فَقُلْتُ : بَلْ أَدَعُ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَدُلَّنِي عَلَى رَجُلٍ أُؤَمِّرْهُ عَلَيْكُمْ ، فَدَلَلْتُهُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْوَفْدِ الَّذِينَ قَدِمُوا عَلَيْهِ ، فَأَمَّرَهُ عَلَيْنَا ، ثُمَّ قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللهِ ، إِنَّ لَنَا بِئْرًا ، إِذَا كَانَ الشِّتَاءُ وَسِعَنَا مَاؤُهَا ، وَاجْتَمَعْنَا عَلَيْهَا ، وَإِذَا كَانَ الصَّيْفُ قَلَّ مَاؤُهَا ، فَتَفَرَّقْنَا عَلَى مِيَاهٍ حَوْلَنَا ، وَقَدْ أَسْلَمْنَا ، وَكُلُّ مَنْ حَوْلَنَا عَدُوٌّ ، فَادْعُ اللهَ تَعَالَى لَنَا فِي بِئْرِنَا أَنْ يَسَعَنَا مَاؤُهَا ، فَنَجْتَمِعَ عَلَيْهَا ، وَلَا نَتَفَرَّقَ ، فَدَعَا بِسِتِّ حَصَيَاتٍ ، فَفَرَكَهُنَّ فِي يَدِهِ ، وَدَعَا فِيهِنَّ ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اذْهَبُوا بِهَذِهِ الْحَصَيَاتِ ، فَإِذَا أَتَيْتُمُ الْبِئْرَ ، فَأَلْقُوهَا وَاحِدَةً وَاحِدَةً ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللهِ تَعَالَى ، قَالَ الصُّدَائِيُّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : فَفَعَلْنَا ، قَالَ : فَمَا اسْتَطَعْنَا بَعْدُ أَنْ نَنْظُرَ إِلَى قَعْرِهَا .
أَخْرَجَ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ بَعْضَهُ مُفَرَّقًا .
ترجمہ
سیدنا زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے دستِ مبارک پر اسلام کی بیعت کی، پھر مجھے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے میری قوم کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا ہے، تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس لشکر کو واپس بلا لیں، میں آپ کے سامنے اپنی قوم کے اسلام قبول کرنے اور ان کی اطاعت گزاری کی ضمانت دیتا ہوں۔ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”جاؤ اور انہیں واپس بلا لاؤ“، میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میری سواری تھک کر چور ہو چکی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے صدائی کے بھائی! تم تو اپنی قوم میں بڑے بااثر اور مطاع ہو“، میں نے عرض کی: بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے آپ کے ذریعے انہیں اسلام کی ہدایت عطا فرمائی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”کیا میں تمہیں ان پر امیر مقرر نہ کر دوں؟“ میں نے عرض کی: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! ضرور۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے ایک حکمنامہ تحریر فرمایا اور مجھے امیر مقرر کر دیا، پھر میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ﷺ! ان کے صدقات میں سے کچھ میرے لیے بھی مقرر فرما دیں، تو آپ ﷺ نے میرے لیے ایک دوسرا حکمنامہ بھی لکھ دیا۔ سیدنا صدائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہ واقعہ آپ ﷺ کے کسی سفر کے دوران پیش آیا، آپ ﷺ نے ایک مقام پر پڑاؤ کیا تو وہاں کے رہنے والے آپ کے پاس اپنے عامل کی شکایت لے کر آئے اور عرض کرنے لگے: اے اللہ کے رسول! اس نے ہمیں ان دشمنیوں کی بنیاد پر سزا دی ہے جو جاہلیت کے دور میں اس کے اور اس کی قوم کے درمیان تھیں، رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا اس نے واقعی ایسا کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں۔ تب رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے، جن میں میں بھی موجود تھا، اور فرمایا: ”کسی مومن شخص کے لیے امارت میں کوئی خیر و بھلائی نہیں ہے“۔ سیدنا صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کا یہ فرمان میرے دل میں گھر کر گیا، پھر آپ ﷺ کے پاس ایک اور شخص آیا اور آپ سے سوال کرتے ہوئے کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے کچھ عطا فرمائیے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے غنا اور بے نیازی کے باوجود لوگوں سے سوال کیا، تو وہ سر میں درد اور پیٹ کی بیماری (کا باعث) ہے“۔ اس آدمی نے پھر کہا: مجھے صدقات میں سے کچھ عطا کریں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ جل وعلا نے صدقات کے معاملے میں کسی نبی یا غیر نبی کے فیصلے کو قبول نہیں فرمایا، یہاں تک کہ خود اس کے متعلق حکم صادر فرمایا اور اسے آٹھ حصوں میں تقسیم کر دیا، ﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾ [سورة التوبة: 60]، پس اگر تم ان حصوں میں شامل ہو تو میں تمہیں تمہارا حق دے دوں گا“۔ سیدنا صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ بات بھی میرے دل میں اثر کر گئی کہ میں نے بھی آپ ﷺ سے سوال کیا ہے حالانکہ میں مالدار ہوں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے رات کے ابتدائی حصے میں ہمارے ساتھ سفر شروع کیا، میں آپ کے ساتھ رہا کیونکہ میں توانا تھا، جب کہ آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم تھک کر پیچھے رہ گئے یہاں تک کہ میرے علاوہ آپ کے ساتھ کوئی نہ رہا۔ جب فجر کی اذان کا وقت ہوا تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا اور میں نے اذان کہی، پھر میں عرض کرنے لگا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اقامت کہوں؟ آپ ﷺ مشرق کی جانب فجر کے طلوع ہونے کا انتظار کرتے رہے اور فرماتے: ”ابھی نہیں“، یہاں تک کہ جب پو پھٹ گئی تو رسول اللہ ﷺ سواری سے اترے، قضاے حاجت فرمائی اور پھر میری طرف واپس آئے، اس دوران صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی پہنچ چکے تھے۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے صدائی کے بھائی! کیا تمہارے پاس پانی ہے؟“ میں نے عرض کی: نہیں، سوائے تھوڑے سے پانی کے جو آپ کے لیے کافی نہیں ہوگا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے ایک برتن میں ڈالو اور میرے پاس لاؤ“، میں نے ایسا ہی کیا، تو آپ ﷺ نے اپنی ہتھیلی اس برتن میں رکھی، میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کی ہر دو انگلیوں کے درمیان سے ایک چشمہ ابل رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے صدائی کے بھائی! اگر مجھے اپنے رب عزوجل سے حیا نہ آتی تو ہم خود بھی سیراب ہوتے اور سواریوں کو بھی پلاتے، اب میرے صحابہ میں منادی کر دو کہ جس کسی کو پانی کی ضرورت ہو وہ لے لے“، میں نے منادی کی اور جس نے چاہا پانی لے لیا۔ پھر آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنی چاہی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”صدائی کے بھائی نے اذان دی ہے، لہٰذا وہی اقامت کہے گا“۔ سیدنا صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اقامت کہی، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو میں وہ دونوں حکمنامے لے کر حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے ان دونوں ذمہ داریوں سے معاف فرما دیں، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا؟“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”کسی مومن شخص کے لیے امارت میں کوئی بھلائی نہیں ہے“، اور میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں، نیز میں نے آپ کو سائل سے یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ ”جس نے غنا کے باوجود لوگوں سے سوال کیا تو وہ سر کا درد اور پیٹ کی بیماری ہے“، اور میں نے آپ سے سوال کیا تھا حالانکہ میں غنی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بات تو وہی ہے، اب تمہاری مرضی ہے چاہو تو اسے قبول کرو یا چھوڑ دو“، میں نے عرض کی: بلکہ میں اسے چھوڑتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”پھر کسی ایسے شخص کی نشاندہی کرو جسے میں تم پر امیر مقرر کر دوں“، میں نے اس وفد میں سے ایک شخص کی نشاندہی کی جو آپ کے پاس آیا تھا، چنانچہ آپ ﷺ نے اسے ہم پر امیر مقرر کر دیا۔ پھر میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! ہمارا ایک کنواں ہے، سردیوں میں تو اس کا پانی ہمیں کافی ہوتا ہے اور ہم سب اسی پر جمع رہتے ہیں، لیکن جب گرمیاں آتی ہیں تو پانی کم ہو جاتا ہے اور ہمیں ارد گرد کے پانیوں پر بکھرنا پڑتا ہے، اب ہم اسلام لا چکے ہیں اور ہمارے گرد و نواح میں سب دشمن ہیں، آپ ہمارے کنویں کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ اس کا پانی ہمارے لیے کافی ہو جائے تاکہ ہم وہیں اکٹھے رہیں اور منتشر نہ ہوں، آپ ﷺ نے چھ کنکریاں طلب فرمائیں، انہیں اپنے مبارک ہاتھ میں رگڑا اور ان پر دعا فرمائی، پھر فرمایا: ”ان کنکریوں کو لے جاؤ، جب کنویں پر پہنچو تو ایک ایک کر کے اس میں ڈالنا اور اللہ تعالیٰ کا نام «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ لینا“۔ سیدنا صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایسا ہی کیا، تو اس کے بعد ہم کبھی اس کنویں کی گہرائی نہ دیکھ سکے (یعنی وہ پانی سے لبریز ہو گیا)۔
اس حدیث کے مختلف حصوں کو امام احمد اور امام ابو داود نے متفرق مقامات پر روایت کیا ہے۔
اس حدیث کے مختلف حصوں کو امام احمد اور امام ابو داود نے متفرق مقامات پر روایت کیا ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ - ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَا : ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ابْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : كَانَ فِيمَا دَعَا لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ ، آتِهِ مَالًا وَوَلَدًا ، فَمَا أَعْلَمُ أَحَدًا أَصَابَ مِنْ لِينِ الْعَيْشِ أَفْضَلَ مِمَّا أَصَبْتُ ، وَلَقَدْ دَفَنْتُ بِكَفَّيَّ هَاتَيْنِ مِنْ وَلَدِي أَكْثَرَ مِنْ مِائَةٍ ، لَا أَقُولُ لَكُمْ فِيهِ وَلَدُ وَلَدٍ ، وَلَا سِقْطٌ .
هَذَا الْحَدِيثُ مُخَرَّجٌ عِنْدَهُمْ بِغَيْرِ هَذَا اللَّفْظِ .
هَذَا الْحَدِيثُ مُخَرَّجٌ عِنْدَهُمْ بِغَيْرِ هَذَا اللَّفْظِ .
ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے میرے لیے جو دعائیں فرمائیں ان میں سے یہ بھی تھی: «اللَّهُمَّ ، آتِهِ مَالًا وَوَلَدًا» ”اے اللہ! اسے مال اور اولاد عطا فرما۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جس نے زندگی کی خوشحالی اور معیشت کی آسودگی کو مجھ سے بڑھ کر حاصل کیا ہو، اور بے شک میں نے اپنے ان دونوں ہاتھوں سے اپنی صلب سے پیدا ہونے والی اولاد میں سے ایک سو سے زائد افراد کو دفن کیا ہے، میں تمہارے سامنے اس شمار میں پوتوں (اولاد کی اولاد) اور نہ ہی ضائع ہو جانے والے حمل کا ذکر کر رہا ہوں۔
یہ حدیث دیگر محدثین کے ہاں ان الفاظ کے علاوہ دوسرے الفاظ کے ساتھ تخریج کی گئی ہے۔
یہ حدیث دیگر محدثین کے ہاں ان الفاظ کے علاوہ دوسرے الفاظ کے ساتھ تخریج کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : ذَكَرَ أَبِي - وَلَا أُرَانِي سَمِعْتُهُ مِنْهُ ، - عَنْ يُوسُفَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ ، إِذِ امْرَأَةٌ قَدْ أَخَذَتْ بِعِنَانِ دَابَّتِهِ ، وَهُوَ عَلَى حِمَارٍ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ زَوْجِي لَا يَقْرَبُنِي ; فَفَرِّقْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَنْ زَوْجُهَا ، فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا لَكَ وَلَهَا ؟ جَاءَتْ تَشْكُو مِنْكَ جَفَاءً ، تَشْكُو مِنْكَ أَنَّكَ لَا تَقْرَبُهَا ؟ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَالَّذِي أَكْرَمَكَ إِنَّ عَهْدِي بِهَا لَهَذِهِ اللَّيْلَةُ ، فَبَكَتِ الْمَرْأَةُ ، وَقَالَتْ : كَذَبَ ، فَفَرِّقْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، فَإِنَّهُ مِنْ أَبْغَضِ خَلْقِ اللهِ إِلَيَّ ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَخَذَ بِرَأْسِهِ وَرَأْسِهَا ، وَجَمَعَ بَيْنَهُمَا ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ ادْنُ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِلَى صَاحِبِهِ ، قَالَ جَابِرٌ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : فَلَبِثْنَا مَا شَاءَ اللهُ أَنْ نَلْبَثَ ، ثُمَّ مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسُّوقِ ، فَإِذَا بِامْرَأَةٍ تَحْمِلُ أُدْمًا ، فَلَمَّا رَأَتْهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَحَتِ الْأُدْمَ ، وَأَقْبَلَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا خَلَقَ اللهُ مِنْ شَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهُ إِلَّا أَنْتَ .
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ بازار میں موجود تھے کہ اچانک ایک خاتون سامنے آئی جس نے آپ ﷺ کی سواری کی لگام تھام لی، جبکہ آپ ﷺ ایک گدھے پر سوار تھے۔ اس عورت نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرا شوہر میرے قریب نہیں آتا؛ لہٰذا آپ میرے اور اس کے درمیان جدائی (علیحدگی) کروا دیں۔“ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اس کا شوہر کون ہے؟“ پھر نبی کریم ﷺ نے اس کے شوہر کو بلوایا اور اس سے دریافت فرمایا: ”تمہارا اس کے ساتھ کیا معاملہ ہے؟ یہ تمہاری جانب سے بے رخی اور بے توجہی کی شکایت لے کر آئی ہے کہ تم اس کے قریب نہیں جاتے؟“ اس شخص نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت و تکریم عطا فرمائی ہے! میرا تو ابھی اسی گزشتہ رات اس سے تعلق (ملاپ) قائم ہوا ہے۔“ یہ سن کر وہ عورت رونے لگی اور کہنے لگی: ”اس نے جھوٹ بولا ہے، آپ میرے اور اس کے درمیان علیحدگی فرما دیں کیونکہ یہ اللہ کی مخلوق میں مجھے سب سے زیادہ ناپسند ہے۔“ تب رسول اللہ ﷺ (اس صورتحال پر) تبسم فرمانے لگے، پھر آپ ﷺ نے ان دونوں کے سروں کو (قریب کر کے) تھاما اور ان کو ایک دوسرے کے قریب کیا اور یہ دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ ادْنُ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِلَى صَاحِبِهِ» ”اے اللہ! ان میں سے ہر ایک کو اس کے ساتھی کے قریب (اور باہم مانوس) فرما دے۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر جتنا عرصہ اللہ نے چاہا ہم ٹھہرے رہے، ایک مدت بعد جب رسول اللہ ﷺ کا دوبارہ بازار سے گزر ہوا تو وہی خاتون چمڑے کا سامان اٹھائے جا رہی تھی۔ جب اس نے آپ ﷺ کو دیکھا تو فوراً چمڑا نیچے ڈال دیا اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں دوڑتی ہوئی حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی: ”اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! اب اللہ کی پیدا کردہ مخلوقات میں آپ ﷺ کے علاوہ مجھے اپنے شوہر سے بڑھ کر کوئی اور محبوب نہیں ہے۔“
تخریج: مسند احمد: 14502، مسند ابویعلی: 2061؛ اس کی سند میں یوسف بن محمد بن منکدر ضعیف راوی ہے، تاہم دیگر شواہد کی بنا پر اس قصے کی اصل ثابت ہے۔
تخریج: مسند احمد: 14502، مسند ابویعلی: 2061؛ اس کی سند میں یوسف بن محمد بن منکدر ضعیف راوی ہے، تاہم دیگر شواہد کی بنا پر اس قصے کی اصل ثابت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، ثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي مُزَرِّدٍ - ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُوعَ ، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ أُمَّ سُلَيْمٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، كَانَتْ تَحْتَ مَالِكٍ أَبِي أَنَسٍ - فَقُلْتُ : يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِنِّي عَرَفْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُوعَ ، فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ ؟ فَقَالَتْ : عِنْدِي شَيْءٌ وَأَشَارَتْ بِكَفِّهَا ، فَقَالَ لَهَا : اصْنَعِي وَانْعَمِي ، فَأَرْسَلْتُ أَنَسًا - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : سَارِّهِ فِي أُذُنِهِ ، وَادْعُهُ فَلَمَّا أَقْبَلَ أَنَسٌ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرْسَلَكَ أَبُوكَ يَدْعُونَا يَا بُنَيَّ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمُ - : اذْهَبُوا بِاسْمِ اللهِ ، قَالَ : فَأَدْبَرَ أَنَسٌ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - يَشْتَدُّ حَتَّى أَتَى أَبَا طَلْحَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَقَالَ : هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَتَاكَ فِي النَّاسِ ، قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : فَخَرَجْتُ أَنَا وَهُوَ حَتَّى لَقِينَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْبَابِ عَلَى مُسْتَرَاحِ الدَّرَجَةِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَاذَا صَنَعْتَ بِنَا ؟ إِنَّمَا عَرَفْتُ فِي وَجْهِكَ الْجُوعَ ، فَصَنَعْنَا لَكَ شَيْئًا تَأْكُلُهُ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ادْخُلْ ، وَأَبْشِرْ ، قَالَ : فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَمَعَهَا فِي الصَّحْفَةِ بِيَدِهِ ، ثُمَّ أَصْلَحَهَا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ مِنْ ؟ كَأَنَّهُ يَعْنِي الْأُدْمَ ، قَالَ : فَأَتَوْهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُكَّةٍ فِيهَا شَيْءٌ - أَوْ لَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ - فَقَالَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، فَأَسْلَتَ مِنْهَا السَّمْنَ ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَدْخِلْ عَلَيَّ عَشَرَةً عَشَرَةً ، فَأَكَلُوا كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْفَضْلِ الَّذِي فَضَلَ : كُلُوا أَنْتُمْ وَعِيَالُكُمْ فَأَكَلُوا وَشَبِعُوا .
وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ .
وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ .
ترجمہ
سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کے رخِ انور پر بھوک کے آثار پہچان لیے، چنانچہ میں وہاں سے نکلا اور (اپنی زوجہ) ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، میں نے کہا: ”اے ام سلیم! میں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرہِ مبارک پر بھوک کی شدت محسوس کی ہے، کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز موجود ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں، میرے پاس کچھ ہے“ اور اپنی ہتھیلی کے اشارے سے اس کی قلیل مقدار بتائی، پھر انہوں نے (ابو طلحہ سے) کہا: ”آپ اسے تیار کریں اور خوب عمدہ بنائیں“۔ پھر میں نے انس رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کی جانب روانہ کیا اور انہیں ہدایت دی کہ ”آپ ﷺ کے کان میں چپکے سے عرض کرنا اور انہیں کھانے کی دعوت دینا“۔ جب انس رضی اللہ عنہ پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے (انہیں دیکھ کر) دریافت فرمایا: ”اے میرے پیارے بیٹے! کیا تمہارے والد نے ہمیں دعوت پر بلایا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”جی ہاں“، تو آپ ﷺ نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: «بِاسْمِ اللهِ» ”اللہ کا نام لے کر چلو“۔ انس رضی اللہ عنہ تیزی سے دوڑتے ہوئے واپس مڑے یہاں تک کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ کر بتایا کہ ”یہ دیکھیے، رسول اللہ ﷺ تو بہت سے لوگوں کے ساتھ آپ کے پاس تشریف لا رہے ہیں“۔ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور انس دونوں باہر نکلے یہاں تک کہ ہماری ملاقات رسول اللہ ﷺ سے دروازے کے پاس سیڑھیوں کے پاس ہوئی، میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! آپ نے ہمارے ساتھ کیا کیا؟ میں نے تو محض آپ کے چہرہِ انور پر بھوک کے آثار دیکھ کر صرف آپ کی خاطر کچھ تیار کیا تھا“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اندر داخل ہو جاؤ اور خوشخبری قبول کرو“۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے وہ کھانا لیا اور اسے اپنے دستِ مبارک سے پیالے میں جمع کر کے درست کیا، پھر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا کوئی سالن وغیرہ ہے؟“ پس لوگ ایک کپی لائے جس میں تھوڑا سا گھی تھا، رسول اللہ ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے اسے دبایا اور اس میں سے گھی نچوڑا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اب میرے پاس دس دس کر کے آدمیوں کو اندر بلاؤ“، پس ان سب نے کھانا کھایا اور وہ سیر ہو گئے، پھر رسول اللہ ﷺ نے بچے ہوئے کھانے کے متعلق فرمایا: ”اب تم خود اور تمہارے اہل و عیال بھی کھاؤ“، چنانچہ ان سب نے بھی کھایا اور وہ مکمل طور پر سیر ہو گئے۔
اور یہ روایت صحیح (بخاری و مسلم) میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث سے مروی ہے۔
اور یہ روایت صحیح (بخاری و مسلم) میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث سے مروی ہے۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الْبُرْجُمِيُّ ، عَنْ أَبِي ظِلَالٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أُمِّهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، قَالَتْ : كَانَتْ لِي شَاةٌ ، فَجَمَعْتُ مِنْ سَمْنِهَا فِي عُكَّةٍ ، فَمَلَأْتُ الْعُكَّةَ ، ثُمَّ بَعَثْتُ بِهَا مَعَ رَبِيبَةَ ، فَقُلْتُ : يَا رَبِيبَةُ ، أَبْلِغِي هَذِهِ الْعُكَّةَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتَدِمُ بِهَا فَانْطَلَقَتْ بِهَا رَبِيبَةُ ، حَتَّى أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، هَذَا سَمْنٌ بَعَثَتْ بِهِ إِلَيْكَ أُمُّ سُلَيْمٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَرِّغُوا لَهَا عُكَّتَهَا ، فَفُرِّغَتِ الْعُكَّةُ ، فَدُفِعَتْ إِلَيْهَا ، فَانْطَلَقَتْ ، فَجَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - ، فَرَأَتِ الْعُكَّةَ مُمْتَلِئَةً تَقْطُرُ ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : يَا رَبِيبَةُ ، أَلَيْسَ أَمَرْتُكِ أَنْ تَنْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا ؟ قَالَتْ : قَدْ فَعَلْتُ ، فَإِنْ لَمْ تُصَدِّقِينِي فَانْطَلِقِي ، فَسَلِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، وَمَعَهَا رَبِيبَةُ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَعَثْتُ إِلَيْكَ مَعَهَا بِعُكَّةٍ فِيهَا سَمْنٌ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ فَعَلَتْ ، جَاءَتْ بِهَا ، فَقَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ وَدِينِ الْحَقِّ ، إِنَّهَا لَمُمْتَلِئَةٌ تَقْطُرُ سَمْنًا ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَعْجَبِينَ إِنْ كَانَ اللهُ أَطْعَمَكِ كَمَا أَطْعَمْتِ نَبِيَّهُ ؟ كُلِي ، وَأَطْعِمِي ، قَالَتْ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - : فَجِئْتُ الْبَيْتَ ، فَقِسْتُ فِي قَعْبٍ لَنَا كَذَا وَكَذَا ، وَتَرَكْتُهَا فِيهَا مَا ائْتَدَمْنَا بِهِ شَهْرًا أَوْ شَهْرَيْنِ .
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی والدہ (سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا: میری ایک بکری تھی، میں نے اس کے دودھ سے حاصل ہونے والا مکھن تپا کر گھی کی صورت میں ایک کُپے (چمڑے کا برتن) میں جمع کیا یہاں تک کہ میں نے اس کُپے کو بھر دیا، پھر میں نے وہ کُپا اپنی خادمہ ربیبہ کے ہاتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں بھیجا اور ہدایت کی کہ اے ربیبہ! یہ کُپا اللہ کے رسول ﷺ تک پہنچا دو تاکہ وہ اسے سالن کے طور پر استعمال فرمائیں۔ ربیبہ وہ ہدیہ لے کر چلی یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ گھی ہے جو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آپ کے لیے بھیجا ہے۔ آپ ﷺ نے (اپنے خدام سے) ارشاد فرمایا: ”ان کا یہ کُپا خالی کر کے انہیں واپس دے دو۔“ چنانچہ وہ کُپا خالی کر کے اسے واپس کر دیا گیا اور وہ اسے لے کر لوٹ آئی۔ جب سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اسے دیکھا تو وہ گھی سے لبالب بھرا ہوا تھا اور اس سے قطرے ٹپک رہے تھے، ام سلیم رضی اللہ عنہا نے (حیرت زدہ ہو کر) کہا: اے ربیبہ! کیا میں نے تمہیں یہ حکم نہیں دیا تھا کہ اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے جاؤ؟ اس نے جواب دیا: میں تو لے کر گئی تھی، اور اگر آپ کو میری بات کی تصدیق نہیں ہو رہی تو خود تشریف لے چلیں اور رسول اللہ ﷺ سے دریافت فرما لیں۔ چنانچہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ربیبہ کو ساتھ لے کر روانہ ہوئیں اور عرض گزار ہوئیں: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا میں نے اس خادمہ کے ہاتھ آپ کی خدمت میں گھی کا بھرا ہوا کُپا نہیں بھیجا تھا؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں! بے شک یہ لے کر آئی تھی۔“ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق اور دینِ حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! وہ کُپا تو اس وقت بھی بھرا ہوا ہے اور اس سے گھی ٹپک رہا ہے۔ تب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم اس بات پر حیران ہو رہی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ویسے ہی کھلایا ہے جیسے تم نے اس کے نبی کو کھلایا؟ اسے خود بھی کھاؤ اور دوسروں کو بھی کھلاؤ۔“ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں گھر واپس آئی اور میں نے اپنے ایک پیالے میں اس سے کتنا ہی گھی انڈیلا اور پھر اسے (برکت کے لیے) ویسے ہی رہنے دیا، ہم ایک یا دو ماہ تک اسی سے اپنا سالن (گھی) حاصل کرتے رہے۔
اس حدیث کی سند میں موجود راوی ابو ظلال القسملي ضعیف ہیں، تاہم معجزاتِ نبوی ﷺ کے باب میں اس طرح کے کثیر شواہد کتبِ احادیث میں موجود ہیں۔
اس حدیث کی سند میں موجود راوی ابو ظلال القسملي ضعیف ہیں، تاہم معجزاتِ نبوی ﷺ کے باب میں اس طرح کے کثیر شواہد کتبِ احادیث میں موجود ہیں۔