المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ بركة دعائه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ کی دعا کی برکت کا بیان۔
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مَرْوَانَ ، ثَنَا أَبُو عَائِشَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ ، فَقَالَ : رَأَيْتُ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ كَأَنَّمَا أُعْطِيتُ الْمَقَالِيدَ وَالْمَوَازِينَ ، فَأَمَّا الْمَقَالِيدُ فَهَذِهِ الْمَفَاتِيحُ ، وَأَمَّا الْمَوَازِينُ فَهِيَ الَّتِي يُوزَنُ بِهَا ، وُضِعْتُ فِي إِحْدَى الْكِفَّتَيْنِ ، وَوُضِعَتْ أُمَّتِي فِي الْأُخْرَى ، فَوُزِنْتُ فَرَجَحْتُهُمْ ، فَجِيءَ بِأَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَوُزِنَ فَوَزَنَهُمْ ، ثُمَّ جِيءَ بِعُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَوُزِنَ فَوَزَنَهُمْ ، ثُمَّ جِيءَ بِعُثْمَانَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَوُزِنَ فَوَزَنَهُمْ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظْتُ ، فَرُفِعَتْ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک صبح تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: ”میں نے آج نمازِ فجر سے پہلے (خواب میں) دیکھا کہ گویا مجھے «الْمَقَالِيدَ» ”چابیاں“ اور «الْمَوَازِينَ» ”ترازو“ عطا کیے گئے ہیں۔ رہے «الْمَقَالِيدُ» تو ان سے مراد یہی کنجیاں ہیں، اور رہے «الْمَوَازِينُ» تو یہ وہ ترازو ہیں جن سے وزن کیا جاتا ہے۔ چنانچہ مجھے ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا گیا اور میری پوری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا، تو میرا وزن کیا گیا اور میں اپنی امت پر بھاری رہا۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لایا گیا اور ان کا وزن کیا گیا تو وہ بھی ان سب پر بھاری رہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لایا گیا اور ان کا وزن کیا گیا تو وہ بھی ان سب پر بھاری رہے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو لایا گیا اور ان کا وزن کیا گیا تو وہ بھی ان سب پر بھاری ثابت ہوئے، پھر میں بیدار ہو گیا اور وہ (ترازو و چابیاں) اٹھا لیے گئے۔“
اس حدیث کو امام احمد نے اپنی مسند (5361) اور امام بزار نے (2460) میں روایت کیا ہے، اور اس کی سند حسن درجے کی ہے۔