المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ بركة دعائه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ کی دعا کی برکت کا بیان۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الْبُرْجُمِيُّ ، عَنْ أَبِي ظِلَالٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أُمِّهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، قَالَتْ : كَانَتْ لِي شَاةٌ ، فَجَمَعْتُ مِنْ سَمْنِهَا فِي عُكَّةٍ ، فَمَلَأْتُ الْعُكَّةَ ، ثُمَّ بَعَثْتُ بِهَا مَعَ رَبِيبَةَ ، فَقُلْتُ : يَا رَبِيبَةُ ، أَبْلِغِي هَذِهِ الْعُكَّةَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتَدِمُ بِهَا فَانْطَلَقَتْ بِهَا رَبِيبَةُ ، حَتَّى أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، هَذَا سَمْنٌ بَعَثَتْ بِهِ إِلَيْكَ أُمُّ سُلَيْمٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَرِّغُوا لَهَا عُكَّتَهَا ، فَفُرِّغَتِ الْعُكَّةُ ، فَدُفِعَتْ إِلَيْهَا ، فَانْطَلَقَتْ ، فَجَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - ، فَرَأَتِ الْعُكَّةَ مُمْتَلِئَةً تَقْطُرُ ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : يَا رَبِيبَةُ ، أَلَيْسَ أَمَرْتُكِ أَنْ تَنْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا ؟ قَالَتْ : قَدْ فَعَلْتُ ، فَإِنْ لَمْ تُصَدِّقِينِي فَانْطَلِقِي ، فَسَلِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، وَمَعَهَا رَبِيبَةُ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَعَثْتُ إِلَيْكَ مَعَهَا بِعُكَّةٍ فِيهَا سَمْنٌ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ فَعَلَتْ ، جَاءَتْ بِهَا ، فَقَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ وَدِينِ الْحَقِّ ، إِنَّهَا لَمُمْتَلِئَةٌ تَقْطُرُ سَمْنًا ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَعْجَبِينَ إِنْ كَانَ اللهُ أَطْعَمَكِ كَمَا أَطْعَمْتِ نَبِيَّهُ ؟ كُلِي ، وَأَطْعِمِي ، قَالَتْ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - : فَجِئْتُ الْبَيْتَ ، فَقِسْتُ فِي قَعْبٍ لَنَا كَذَا وَكَذَا ، وَتَرَكْتُهَا فِيهَا مَا ائْتَدَمْنَا بِهِ شَهْرًا أَوْ شَهْرَيْنِ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی والدہ (سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا: میری ایک بکری تھی، میں نے اس کے دودھ سے حاصل ہونے والا مکھن تپا کر گھی کی صورت میں ایک کُپے (چمڑے کا برتن) میں جمع کیا یہاں تک کہ میں نے اس کُپے کو بھر دیا، پھر میں نے وہ کُپا اپنی خادمہ ربیبہ کے ہاتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں بھیجا اور ہدایت کی کہ اے ربیبہ! یہ کُپا اللہ کے رسول ﷺ تک پہنچا دو تاکہ وہ اسے سالن کے طور پر استعمال فرمائیں۔ ربیبہ وہ ہدیہ لے کر چلی یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ گھی ہے جو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آپ کے لیے بھیجا ہے۔ آپ ﷺ نے (اپنے خدام سے) ارشاد فرمایا: ”ان کا یہ کُپا خالی کر کے انہیں واپس دے دو۔“ چنانچہ وہ کُپا خالی کر کے اسے واپس کر دیا گیا اور وہ اسے لے کر لوٹ آئی۔ جب سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اسے دیکھا تو وہ گھی سے لبالب بھرا ہوا تھا اور اس سے قطرے ٹپک رہے تھے، ام سلیم رضی اللہ عنہا نے (حیرت زدہ ہو کر) کہا: اے ربیبہ! کیا میں نے تمہیں یہ حکم نہیں دیا تھا کہ اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے جاؤ؟ اس نے جواب دیا: میں تو لے کر گئی تھی، اور اگر آپ کو میری بات کی تصدیق نہیں ہو رہی تو خود تشریف لے چلیں اور رسول اللہ ﷺ سے دریافت فرما لیں۔ چنانچہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ربیبہ کو ساتھ لے کر روانہ ہوئیں اور عرض گزار ہوئیں: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا میں نے اس خادمہ کے ہاتھ آپ کی خدمت میں گھی کا بھرا ہوا کُپا نہیں بھیجا تھا؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں! بے شک یہ لے کر آئی تھی۔“ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق اور دینِ حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! وہ کُپا تو اس وقت بھی بھرا ہوا ہے اور اس سے گھی ٹپک رہا ہے۔ تب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم اس بات پر حیران ہو رہی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ویسے ہی کھلایا ہے جیسے تم نے اس کے نبی کو کھلایا؟ اسے خود بھی کھاؤ اور دوسروں کو بھی کھلاؤ۔“ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں گھر واپس آئی اور میں نے اپنے ایک پیالے میں اس سے کتنا ہی گھی انڈیلا اور پھر اسے (برکت کے لیے) ویسے ہی رہنے دیا، ہم ایک یا دو ماہ تک اسی سے اپنا سالن (گھی) حاصل کرتے رہے۔
اس حدیث کی سند میں موجود راوی ابو ظلال القسملي ضعیف ہیں، تاہم معجزاتِ نبوی ﷺ کے باب میں اس طرح کے کثیر شواہد کتبِ احادیث میں موجود ہیں۔