المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ بركة دعائه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ کی دعا کی برکت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رِفَاعَةَ أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَا خَارِجَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ : إِنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، حَدَّثَهُ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ الَّتِي حَجَّهَا ، فَلَمَّا هَبَطْنَا بَطْنَ الرَّوْحَاءِ ، عَارَضَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ لَهَا صَبِيٌّ ، فَسَلَّمَتْ عَلَيْهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَقَفَ لَهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، هَذَا ابْنِي فُلَانٌ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا زَالَ فِي حَنَقٍ وَاحِدٍ مُنْذُ وَلَدْتُهُ إِلَى السَّاعَةِ - أَوْ كَلِمَةً تُشْبِهُهَا - فَأَكْسَعَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَسَطَ يَدَهُ ، فَجَعَلَهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الرَّحْلِ ، ثُمَّ تَفَلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : اخْرُجْ عَدُوَّ اللهِ ، فَإِنِّي رَسُولُ اللهِ ثُمَّ نَاوَلَهَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُ ، فَقَالَ : خُذِيهِ ، فَلَنْ تَرَيْ مَعَهُ شَيْئًا يَرِيبُكِ بَعْدَ الْيَوْمِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى . قَالَ أُسَامَةُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : وَقَضَيْنَا حَجَّتَنَا ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا ، فَلَمَّا نَزَلْنَا بِالرَّوْحَاءِ ، فَإِذَا تِلْكَ الْمَرْأَةُ أُمُّ الصَّبِيِّ ، فَجَاءَتْ ، وَمَعَهَا شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَنَا أُمُّ الصَّبِيِّ الَّذِي أَتَيْتُكَ بِهِ ، قَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا رَأَيْتُ مِنْهُ شَيْئًا يَرِيبُنِي إِلَى هَذِهِ السَّاعَةِ ، قَالَ أُسَامَةُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أُسَيْمُ - قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَهَكَذَا كَانَ يَدْعُو بِهِ تَحَشُّمَةً - نَاوِلْنِي ذِرَاعَهَا ، قَالَ : فَامْتَلَخْتُ الذِّرَاعَ ، فَنَاوَلْتُهُ إِيَّاهَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَكَلَهَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا أُسَيْمُ ، نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ ، فَامْتَلَخْتُ الذِّرَاعَ ، فَنَاوَلْتُهُ إِيَّاهَا ، فَأَكَلَهَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا أُسَيْمُ ، نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّكَ قَدْ قُلْتَ : نَاوِلْنِي ، فَنَاوَلْتُكَهَا ، فَأَكَلْتَهَا ، ثُمَّ قُلْتَ : نَاوِلْنِي ، فَنَاوَلْتُكَهَا فَأَكَلْتَهَا ، ثُمَّ قُلْتَ : نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ ، وَإِنَّمَا لِلشَّاةِ ذِرَاعَانِ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَهْوَيْتَ إِلَيْهَا مَا زِلْتَ تَجِدُ فِيهَا ذِرَاعًا مَا قُلْتُ لَكَ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أُسَيْمُ ، قُمْ ، فَاخْرُجْ ، فَانْظُرْ هَلْ تَرَى مَكَانًا يُوَارِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَخَرَجْتُ ، فَمَشَيْتُ حَتَّى حَسِرْتُ ، وَمَا قَطَعْتُ النَّاسَ ، وَمَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَرَى أَنَّهُ يُوَارِي أَحَدًا ، وَقَدْ مَلَأَ النَّاسُ مَا بَيْنَ السَّدَّيْنِ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَهَلْ رَأَيْتَ شَجَرًا ، أَوْ رُجَمًا ؟ قُلْتُ : بَلَى ، قَدْ رَأَيْتُ نَخَلَاتٍ صِغَارًا ، إِلَى جَانِبِهِنَّ رُجَمٌ مِنْ حِجَارَةٍ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أُسَيْمُ ، اذْهَبْ إِلَى النَّخَلَاتِ ، فَقُلْ لَهُنَّ : يَأْمُرُكُنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْحَقَ بَعْضُكُنَّ بِبَعْضٍ ; حَتَّى تَكُنَّ سُتْرَةً لِمَخْرَجِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقُلْ كَذَلِكَ لِلرُّجَمِ ، فَأَتَيْتُ النَّخَلَاتِ ، فَقُلْتُ لَهُنَّ الَّذِي أَمَرَنِي بِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ تَفَاقُرَهُنَّ بِعُرُوقِهِنَّ وَتُرَابِهِنَّ ، حَتَّى لَصِقَ بَعْضُهُنَّ بِبَعْضٍ ، فَكُنَّ كَأَنَّهُنَّ نَخْلَةٌ وَاحِدَةٌ ، وَقُلْتُ ذَلِكَ لِلْحِجَارَةِ ، فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى تَفَاقُرِهِنَّ حَجَرًا حَجَرًا حَتَّى عَلَا بَعْضُهُنَّ بَعْضًا ، فَكُنَّ كَأَنَّهُنَّ جِدَارٌ .
فَأَتَيْتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُذِ الْإِدَاوَةَ فَأَخَذْتُهَا ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا نَمْشِي ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْهُنَّ سَبَقْتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَضَعْتُ الْإِدَاوَةَ ، ثُمَّ انْصَرَفْتُ إِلَيْهِ ، فَانْصَرَفَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَضَى حَاجَتَهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وَهُوَ يَحْمِلُ الْإِدَاوَةَ ، فَأَخَذْتُهَا مِنْهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ رَجَعْنَا ، فَلَمَّا دَخَلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخِبَاءَ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أُسَيْمُ ، انْطَلِقْ إِلَى النَّخَلَاتِ ، فَقُلْ لَهُنَّ : يَأْمُرُكُنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَرْجِعَ كُلُّ نَخْلَةٍ إِلَى مَكَانِهَا ، وَقُلْ ذَلِكَ لِلْحِجَارَةِ فَأَتَيْتُ النَّخَلَاتِ ، فَقُلْتُ لَهُنَّ ، قَالَ : فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى تَفَاقُرِهِنَّ وَتُرَابِهِنَّ ، حَتَّى عَادَتْ كُلُّ نَخْلَةٍ إِلَى مَكَانِهَا ، وَقُلْتُ ذَلِكَ لِلْحِجَارَةِ ، فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى تَفَاقُرِهِنَّ حَجَرًا حَجَرًا ، حَتَّى عَادَ كُلُّ حَجَرٍ إِلَى مَكَانِهِ ، فَأَتَيْتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ .
هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ ضَعِيفٌ ، وَلَكِنْ لِحَدِيثِهِ شَاهِدٌ مِنْ طَرِيقِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ .سیدنا اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ آپ ﷺ کے اس حج (حجۃ الوداع) میں نکلے جو آپ ﷺ نے ادا فرمایا، پھر جب ہم ”روحاء“ کی وادی میں اترے تو رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک عورت آئی جس کے ساتھ ایک بچہ تھا، اس نے آپ ﷺ کو سلام کیا تو آپ ﷺ اس کے لیے رک گئے، اس عورت نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! یہ میرا بیٹا فلاں ہے، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! جب سے یہ پیدا ہوا ہے اس گھڑی تک یہ ایک ہی حالت (دیوانگی یا مرگی کی کیفیت) میں مبتلا ہے“، یا اسی جیسا کوئی کلمہ کہا، پس رسول اللہ ﷺ اس کی طرف جھکے، اپنا ہاتھ پھیلایا اور بچے کو اپنے اور زین کے درمیان بٹھا لیا، پھر آپ ﷺ نے اس کے منہ میں اپنا لعابِ دہن مبارک ڈالا اور فرمایا: «اخْرُجْ عَدُوَّ اللهِ ، فَإِنِّي رَسُولُ اللهِ» ”اے اللہ کے دشمن نکل جا! کیونکہ میں اللہ کا رسول ہوں“، پھر آپ ﷺ نے وہ بچہ اس عورت کے حوالے کر دیا اور فرمایا: ”اسے لے لو، آج کے بعد تم ان شاء اللہ اس میں کوئی ایسی بات نہیں دیکھو گی جو تمہیں پریشان کرے“۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر ہم نے اپنا حج مکمل کیا اور واپس لوٹے، جب ہم دوبارہ ”روحاء“ کے مقام پر اترے تو وہی عورت جو بچے کی ماں تھی، سامنے آئی، اس کے پاس بھنی ہوئی بکری تھی، اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں اسی بچے کی ماں ہوں جسے میں آپ کے پاس لائی تھی، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا! میں نے اس میں اس گھڑی تک کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جو مجھے پریشان کرے“۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے اسیم! (امام زہری کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کمالِ شفقت و محبت کی بنا پر انہیں اسی چھوٹے نام سے پکارا کرتے تھے) مجھے اس کی دستی (بکری کا بازو) پکڑا“، کہتے ہیں کہ میں نے دستی نکالی اور آپ ﷺ کو پکڑا دی، آپ ﷺ نے اسے نوش فرمایا، پھر فرمایا: ”اے اسیم! مجھے دستی پکڑا“، میں نے دوسری دستی نکالی اور آپ ﷺ کو پیش کی، آپ ﷺ نے اسے بھی تناول فرمایا، پھر فرمایا: ”اے اسیم! مجھے دستی پکڑاؤ“، تو میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ نے دستی مانگی میں نے پیش کر دی، آپ نے اسے نوش فرمایا، پھر آپ نے دوبارہ مانگی میں نے پھر پیش کر دی اور آپ نے اسے بھی کھا لیا، پھر آپ نے اب دوبارہ دستی مانگی ہے جبکہ بکری کی تو صرف دو ہی دستیاں ہوتی ہیں؟“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”آگاہ رہو! اگر تم خاموش رہتے (اور ہاتھ بڑھاتے) تو جب تک میں تم سے مانگتا رہتا تمہیں اس میں دستی ملتی رہتی“۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اسیم! اٹھو اور باہر جا کر دیکھو کیا تمہیں کوئی ایسی جگہ نظر آتی ہے جو رسول اللہ ﷺ کی پردہ پوشی کر سکے؟“ میں نکلا اور کافی دور تک چلا یہاں تک کہ تھک گیا، لیکن مجھے لوگوں کی کثرت کی وجہ سے کوئی ایسی چیز نظر نہ آئی جو پردہ پوشی کر سکے، کیونکہ لوگوں نے دونوں پہاڑوں کے درمیان کی جگہ بھر دی تھی، میں نے آپ ﷺ کو آ کر خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے کوئی درخت یا پتھروں کا ڈھیر دیکھا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”جی ہاں، میں نے کھجور کے کچھ چھوٹے درخت دیکھے ہیں جن کے پہلو میں پتھروں کا ایک ڈھیر ہے“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اسیم! ان درختوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو: تمہیں رسول اللہ ﷺ حکم دیتے ہیں کہ تم ایک دوسرے کے ساتھ مل جاؤ تاکہ رسول اللہ ﷺ کے قضائے حاجت کے لیے اوٹ بن جاؤ، اور اسی طرح پتھروں کے ڈھیر سے بھی کہہ دو“، چنانچہ میں ان درختوں کے پاس آیا اور انہیں وہی بات کہی جس کا رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا تھا، پس اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! گویا میں ان درختوں کو دیکھ رہا تھا کہ وہ اپنی جڑوں اور مٹی سمیت اکھڑ کر اس طرح ایک دوسرے سے جڑ گئے کہ وہ ایک ہی درخت محسوس ہونے لگے، اور یہی بات میں نے پتھروں سے کہی، پس قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا! میں انہیں دیکھ رہا تھا کہ وہ ایک ایک پتھر کر کے ایک دوسرے کے اوپر چڑھ گئے یہاں تک کہ وہ ایک دیوار کی مانند ہو گئے۔
پھر میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو مطلع کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانی کا برتن اٹھاؤ“، میں نے اسے اٹھایا اور ہم چل دیے، جب ہم ان کے قریب پہنچے تو میں آپ ﷺ سے آگے بڑھ گیا اور پانی کا برتن رکھ کر پیچھے ہٹ گیا، پس آپ ﷺ تشریف لے گئے اور اپنی حاجت پوری کی، پھر آپ ﷺ واپس تشریف لائے جبکہ میں نے برتن اٹھا لیا، پھر ہم واپس پلٹے، جب آپ ﷺ خیمے میں داخل ہوئے تو فرمایا: ”اے اسیم! ان کھجور کے درختوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو: تمہیں رسول اللہ ﷺ حکم دیتے ہیں کہ ہر درخت اپنی اپنی جگہ پر واپس چلا جائے، اور پتھروں سے بھی یہی کہہ دو“، میں نے درختوں کے پاس جا کر انہیں حکم سنایا، سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پس اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا! گویا میں انہیں ان کی مٹی سمیت حرکت کرتے دیکھ رہا تھا یہاں تک کہ ہر درخت اپنی جگہ پر واپس لوٹ گیا، اور میں نے پتھروں سے بھی یہی کہا تو اللہ کی قسم! میں ان کے ایک ایک پتھر کو دیکھ رہا تھا یہاں تک کہ ہر پتھر اپنی جگہ پر واپس چلا گیا، پھر میں نے آ کر رسول اللہ ﷺ کو اس کی خبر دی۔
اس کی سند حسن ہے، معاویہ بن یحییٰ الصدفی اگرچہ ضعیف ہیں لیکن ان کی حدیث کا شاہد یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ کے طریق سے موجود ہے جسے امام احمد اور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے۔