المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ بركة دعائه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ کی دعا کی برکت کا بیان۔
( 159 ) فِيهِ حَدِيثُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فِي مَسْحِ بَطْنِهِ ، فَمَا اشْتَكَاهُ بَعْدُ .
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، مِنْ بَنِي سَلَامَانَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ : إِنَّ خَالَهَا حَبِيبَ بْنَ فُوَيْكٍ حَدَّثَهَا إِنَّ أَبَاهُ خَرَجَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَيْنَاهُ مُبْيَضَّتَانِ لَا يُبْصِرُ بِهِمَا شَيْئًا ، فَسَأَلَهُ : مَا أَصَابَكَ ؟ قَالَ : كُنْتُ أُمَرِّنُ جَمَلًا لِي فَوَضَعْتُ رِجْلِي عَلَى بَيْضَةِ حَيَّةٍ ، فَأُصِبْتُ ، فَنَفَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ ، فَأَبْصَرَ ، قَالَ : فَرَأَيْتُهُ يُدْخِلُ الْخَيْطَ فِي الْإِبْرَةِ ، وَإِنَّهُ لَابْنُ ثَمَانِينَ ، وَإِنَّ عَيْنَيْهِ لَمُبْيَضَّتَانِ .اس باب میں سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث بھی مذکور ہے جس میں آپ ﷺ کے ان کے پیٹ پر دستِ مبارک پھیرنے کا تذکرہ ہے، جس کے بعد انہوں نے کبھی بھی پیٹ کی تکلیف کی شکایت نہیں کی۔
حبیب بن فُوَیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد انہیں نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں لے کر آئے جبکہ ان کی دونوں آنکھیں (سفید موتیے کی طرح) بالکل سفید ہو چکی تھیں اور وہ کسی چیز کو دیکھ نہیں سکتے تھے، تو آپ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا: ”تمہیں کیا حادثہ پیش آیا؟“ انہوں نے عرض کیا: ”میں اپنے ایک اونٹ کو سدھا رہا تھا کہ میرا پاؤں سانپ کے انڈے پر پڑ گیا، جس کے نتیجے میں میری یہ حالت ہو گئی۔“ تب نبی کریم ﷺ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعابِ دہن مبارک ڈالا تو وہ بینا ہو گئے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے انہیں دیکھا کہ وہ سوئی میں دھاگہ پرو لیتے تھے جبکہ ان کی عمر اسی برس ہو چکی تھی، اور (خلافِ معمول) ان کی آنکھیں اب بھی سفید ہی دکھائی دیتی تھیں۔