❮
❯
حدیث نمبر: 3809
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِيَّ ، صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - يُحَدِّثُ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَايَعْتُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ ، فَأُخْبِرْتُ أَنَّهُ بَعَثَ جَيْشًا إِلَى قَوْمِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، ارْدُدِ الْجَيْشَ ، وَأَنَا لَكَ بِإِسْلَامِ قَوْمِي وَطَاعَتِهِمْ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي : اذْهَبْ ، فَارْدُدْهُمْ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ رَاحِلَتِي قَدْ كَلَّتْ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَخَا صُدَاءٍ ، إِنَّكَ لَمُطَاعٌ فِي قَوْمِكَ فَقُلْتُ : بَلِ اللهُ تَعَالَى هَدَاهُمْ بِكَ لِلْإِسْلَامِ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفَلَا أُؤَمِّرُكَ عَلَيْهِمْ ؟ فَقُلْتُ : بَلَى ، يَا رَسُولَ اللهِ ، فَكَتَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا لِي ، فَأَمَّرَنِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مُرْ لِي بِشَيْءٍ مِنْ صَدَقَاتِهِمْ فَكَتَبَ لِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا آخَرَ ، قَالَ الصُّدَائِيُّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : وَكَانَ ذَلِكَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، فَنَزَلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا ، فَأَتَاهُ أَهْلُ الْمَنْزِلِ يَشْكُونَ عَامِلَهُمْ ، وَيَقُولُونَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَخَذَنَا بِشَيْءٍ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفَعَلَ ذَلِكَ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، وَأَنَا فِيهِمْ ، فَقَالَ : لَا خَيْرَ فِي الْإِمَارَةِ لِرَجُلٍ مُؤْمِنٍ ، قَالَ الصُّدَائِيُّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : فَدَخَلَ قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفْسِي ، ثُمَّ أَتَاهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَرُ ، فَسَأَلَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَعْطِنِي ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ سَأَلَ النَّاسَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، فَصُدَاعٌ فِي الرَّأْسِ ، وَدَاءٌ فِي الْبَطْنِ فَقَالَ الرَّجُلُ : أَعْطِنِي مِنَ الصَّدَقَاتِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللهَ جَلَّ وَعَلَا لَمْ يَرْضَ فِيهَا بِحُكْمِ نَبِيٍّ وَلَا غَيْرِهِ ، حَتَّى حَكَمَ فِيهَا بِنَفْسِهِ ، فَجَزَّأَهَا ، فَإِنْ كُنْتَ مِنْ تِلْكَ الْأَجْزَاءِ أَعْطَيْتُكَ - أَوْ أَعْطَيْنَاكَ بِحَقِّكَ ، قَالَ الصُّدَائِيُّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : فَدَخَلَ ذَلِكَ فِي نَفْسِي ، أَنِّي سَأَلْتُهُ وَأَنَا غَنِيٌّ ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَارَ بِنَا مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ ، فَلَزِمْتُهُ - وَكُنْتُ قَوِيًّا - وَكَانَ أَصْحَابُهُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - يَنْقَطِعُونَ عَنْهُ وَيَسْتَأْخِرُونَ ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ مَعَهُ أَحَدٌ غَيْرِي ، فَلَمَّا كَانَ أَوَانُ أَذَانِ الصُّبْحِ أَمَرَنِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَذَّنْتُ ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ : أُقِيمُ يَا رَسُولَ اللهِ ، فَيَنْظُرُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى نَاحِيَةِ الْمَشْرِقِ إِلَى الْفَجْرِ ، فَيَقُولُ : لَا ، حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ ، نَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَبَرَّزَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيَّ ، وَقَدْ تَلَاحَقَ أَصْحَابُهُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ مِنْ مَاءٍ يَا أَخَا صُدَاءٍ ؟ قُلْتُ : لَا ، إِلَّا شَيْءٌ قَلِيلٌ لَا يَكْفِيكَ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اجْعَلْهُ فِي إِنَاءٍ ، ثُمَّ ائْتِنِي بِهِ فَفَعَلْتُ ، فَوَضَعَ كَفَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِنَاءِ ، فَرَأَيْتُ بَيْنَ كُلِّ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَيْنًا تَفُورُ ، فَقَالَ : يَا أَخَا صُدَاءٍ ، لَوْلَا أَنِّي أَسْتَحْيِي مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ لَسَقَيْنَا وَاسْتَقَيْنَا ، فَنَادِ فِي أَصْحَابِي : مَنْ كَانَ لَهُ حَاجَةٌ فِي الْمَاءِ ، فَنَادَيْتُ ، فَأَخَذَ مَنْ أَرَادَ مِنْهُمْ ، ثُمَّ قَامَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَأَرَادَ بِلَالٌ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - أَنْ يُقِيمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ أَذَّنَ ، فَهُوَ يُقِيمُ ، قَالَ الصُّدَائِيُّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : فَأَقَمْتُ الصَّلَاةَ ، فَلَمَّا قَضَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ أَتَيْتُهُ بِالْكِتَابَيْنِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَعْفِنِي مِنْ هَذَيْنِ الْكِتَابَيْنِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَا بَدَا لَكَ ؟ فَقُلْتُ : سَمِعْتُكَ يَا نَبِيَّ اللهِ تَقُولُ : لَا خَيْرَ فِي الْإِمَارَةِ لِرَجُلٍ مُؤْمِنٍ ، وَأَنَا أُؤْمِنُ بِاللهِ وَرَسُولِهِ .
وَسَمِعْتُكَ تَقُولُ لِلسَّائِلِ : مَنْ سَأَلَ النَّاسَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، فَهُوَ صُدَاعٌ فِي الرَّأْسِ ، وَدَاءٌ فِي الْبَطْنِ ، وَقَدْ سَأَلْتُكَ وَأَنَا غَنِيٌّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَهُوَ ذَاكَ ، فَإِنْ شِئْتَ فَاقْبَلْ ، وَإِنْ شِئْتَ فَدَعْ ، فَقُلْتُ : بَلْ أَدَعُ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَدُلَّنِي عَلَى رَجُلٍ أُؤَمِّرْهُ عَلَيْكُمْ ، فَدَلَلْتُهُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْوَفْدِ الَّذِينَ قَدِمُوا عَلَيْهِ ، فَأَمَّرَهُ عَلَيْنَا ، ثُمَّ قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللهِ ، إِنَّ لَنَا بِئْرًا ، إِذَا كَانَ الشِّتَاءُ وَسِعَنَا مَاؤُهَا ، وَاجْتَمَعْنَا عَلَيْهَا ، وَإِذَا كَانَ الصَّيْفُ قَلَّ مَاؤُهَا ، فَتَفَرَّقْنَا عَلَى مِيَاهٍ حَوْلَنَا ، وَقَدْ أَسْلَمْنَا ، وَكُلُّ مَنْ حَوْلَنَا عَدُوٌّ ، فَادْعُ اللهَ تَعَالَى لَنَا فِي بِئْرِنَا أَنْ يَسَعَنَا مَاؤُهَا ، فَنَجْتَمِعَ عَلَيْهَا ، وَلَا نَتَفَرَّقَ ، فَدَعَا بِسِتِّ حَصَيَاتٍ ، فَفَرَكَهُنَّ فِي يَدِهِ ، وَدَعَا فِيهِنَّ ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اذْهَبُوا بِهَذِهِ الْحَصَيَاتِ ، فَإِذَا أَتَيْتُمُ الْبِئْرَ ، فَأَلْقُوهَا وَاحِدَةً وَاحِدَةً ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللهِ تَعَالَى ، قَالَ الصُّدَائِيُّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : فَفَعَلْنَا ، قَالَ : فَمَا اسْتَطَعْنَا بَعْدُ أَنْ نَنْظُرَ إِلَى قَعْرِهَا .
أَخْرَجَ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ بَعْضَهُ مُفَرَّقًا .
ترجمہ

سیدنا زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے دستِ مبارک پر اسلام کی بیعت کی، پھر مجھے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے میری قوم کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا ہے، تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس لشکر کو واپس بلا لیں، میں آپ کے سامنے اپنی قوم کے اسلام قبول کرنے اور ان کی اطاعت گزاری کی ضمانت دیتا ہوں۔ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”جاؤ اور انہیں واپس بلا لاؤ“، میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میری سواری تھک کر چور ہو چکی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے صدائی کے بھائی! تم تو اپنی قوم میں بڑے بااثر اور مطاع ہو“، میں نے عرض کی: بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے آپ کے ذریعے انہیں اسلام کی ہدایت عطا فرمائی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”کیا میں تمہیں ان پر امیر مقرر نہ کر دوں؟“ میں نے عرض کی: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! ضرور۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے ایک حکمنامہ تحریر فرمایا اور مجھے امیر مقرر کر دیا، پھر میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ﷺ! ان کے صدقات میں سے کچھ میرے لیے بھی مقرر فرما دیں، تو آپ ﷺ نے میرے لیے ایک دوسرا حکمنامہ بھی لکھ دیا۔ سیدنا صدائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہ واقعہ آپ ﷺ کے کسی سفر کے دوران پیش آیا، آپ ﷺ نے ایک مقام پر پڑاؤ کیا تو وہاں کے رہنے والے آپ کے پاس اپنے عامل کی شکایت لے کر آئے اور عرض کرنے لگے: اے اللہ کے رسول! اس نے ہمیں ان دشمنیوں کی بنیاد پر سزا دی ہے جو جاہلیت کے دور میں اس کے اور اس کی قوم کے درمیان تھیں، رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا اس نے واقعی ایسا کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں۔ تب رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے، جن میں میں بھی موجود تھا، اور فرمایا: ”کسی مومن شخص کے لیے امارت میں کوئی خیر و بھلائی نہیں ہے“۔ سیدنا صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کا یہ فرمان میرے دل میں گھر کر گیا، پھر آپ ﷺ کے پاس ایک اور شخص آیا اور آپ سے سوال کرتے ہوئے کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے کچھ عطا فرمائیے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے غنا اور بے نیازی کے باوجود لوگوں سے سوال کیا، تو وہ سر میں درد اور پیٹ کی بیماری (کا باعث) ہے“۔ اس آدمی نے پھر کہا: مجھے صدقات میں سے کچھ عطا کریں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ جل وعلا نے صدقات کے معاملے میں کسی نبی یا غیر نبی کے فیصلے کو قبول نہیں فرمایا، یہاں تک کہ خود اس کے متعلق حکم صادر فرمایا اور اسے آٹھ حصوں میں تقسیم کر دیا، ﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾ [سورة التوبة: 60]، پس اگر تم ان حصوں میں شامل ہو تو میں تمہیں تمہارا حق دے دوں گا“۔ سیدنا صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ بات بھی میرے دل میں اثر کر گئی کہ میں نے بھی آپ ﷺ سے سوال کیا ہے حالانکہ میں مالدار ہوں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے رات کے ابتدائی حصے میں ہمارے ساتھ سفر شروع کیا، میں آپ کے ساتھ رہا کیونکہ میں توانا تھا، جب کہ آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم تھک کر پیچھے رہ گئے یہاں تک کہ میرے علاوہ آپ کے ساتھ کوئی نہ رہا۔ جب فجر کی اذان کا وقت ہوا تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا اور میں نے اذان کہی، پھر میں عرض کرنے لگا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اقامت کہوں؟ آپ ﷺ مشرق کی جانب فجر کے طلوع ہونے کا انتظار کرتے رہے اور فرماتے: ”ابھی نہیں“، یہاں تک کہ جب پو پھٹ گئی تو رسول اللہ ﷺ سواری سے اترے، قضاے حاجت فرمائی اور پھر میری طرف واپس آئے، اس دوران صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی پہنچ چکے تھے۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے صدائی کے بھائی! کیا تمہارے پاس پانی ہے؟“ میں نے عرض کی: نہیں، سوائے تھوڑے سے پانی کے جو آپ کے لیے کافی نہیں ہوگا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے ایک برتن میں ڈالو اور میرے پاس لاؤ“، میں نے ایسا ہی کیا، تو آپ ﷺ نے اپنی ہتھیلی اس برتن میں رکھی، میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کی ہر دو انگلیوں کے درمیان سے ایک چشمہ ابل رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے صدائی کے بھائی! اگر مجھے اپنے رب عزوجل سے حیا نہ آتی تو ہم خود بھی سیراب ہوتے اور سواریوں کو بھی پلاتے، اب میرے صحابہ میں منادی کر دو کہ جس کسی کو پانی کی ضرورت ہو وہ لے لے“، میں نے منادی کی اور جس نے چاہا پانی لے لیا۔ پھر آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنی چاہی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”صدائی کے بھائی نے اذان دی ہے، لہٰذا وہی اقامت کہے گا“۔ سیدنا صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اقامت کہی، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو میں وہ دونوں حکمنامے لے کر حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے ان دونوں ذمہ داریوں سے معاف فرما دیں، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا؟“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”کسی مومن شخص کے لیے امارت میں کوئی بھلائی نہیں ہے“، اور میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں، نیز میں نے آپ کو سائل سے یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ ”جس نے غنا کے باوجود لوگوں سے سوال کیا تو وہ سر کا درد اور پیٹ کی بیماری ہے“، اور میں نے آپ سے سوال کیا تھا حالانکہ میں غنی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بات تو وہی ہے، اب تمہاری مرضی ہے چاہو تو اسے قبول کرو یا چھوڑ دو“، میں نے عرض کی: بلکہ میں اسے چھوڑتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”پھر کسی ایسے شخص کی نشاندہی کرو جسے میں تم پر امیر مقرر کر دوں“، میں نے اس وفد میں سے ایک شخص کی نشاندہی کی جو آپ کے پاس آیا تھا، چنانچہ آپ ﷺ نے اسے ہم پر امیر مقرر کر دیا۔ پھر میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! ہمارا ایک کنواں ہے، سردیوں میں تو اس کا پانی ہمیں کافی ہوتا ہے اور ہم سب اسی پر جمع رہتے ہیں، لیکن جب گرمیاں آتی ہیں تو پانی کم ہو جاتا ہے اور ہمیں ارد گرد کے پانیوں پر بکھرنا پڑتا ہے، اب ہم اسلام لا چکے ہیں اور ہمارے گرد و نواح میں سب دشمن ہیں، آپ ہمارے کنویں کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ اس کا پانی ہمارے لیے کافی ہو جائے تاکہ ہم وہیں اکٹھے رہیں اور منتشر نہ ہوں، آپ ﷺ نے چھ کنکریاں طلب فرمائیں، انہیں اپنے مبارک ہاتھ میں رگڑا اور ان پر دعا فرمائی، پھر فرمایا: ”ان کنکریوں کو لے جاؤ، جب کنویں پر پہنچو تو ایک ایک کر کے اس میں ڈالنا اور اللہ تعالیٰ کا نام «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ لینا“۔ سیدنا صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایسا ہی کیا، تو اس کے بعد ہم کبھی اس کنویں کی گہرائی نہ دیکھ سکے (یعنی وہ پانی سے لبریز ہو گیا)۔
اس حدیث کے مختلف حصوں کو امام احمد اور امام ابو داود نے متفرق مقامات پر روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 3809
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 5285، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 9030، 9031، وأخرجه الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف برقم: 1213، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4172/2، وأخرجه الأموال لابن زنجويه برقم: 2041، 2093»