المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ بركة دعائه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ کی دعا کی برکت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، ثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي مُزَرِّدٍ - ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُوعَ ، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ أُمَّ سُلَيْمٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، كَانَتْ تَحْتَ مَالِكٍ أَبِي أَنَسٍ - فَقُلْتُ : يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِنِّي عَرَفْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُوعَ ، فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ ؟ فَقَالَتْ : عِنْدِي شَيْءٌ وَأَشَارَتْ بِكَفِّهَا ، فَقَالَ لَهَا : اصْنَعِي وَانْعَمِي ، فَأَرْسَلْتُ أَنَسًا - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : سَارِّهِ فِي أُذُنِهِ ، وَادْعُهُ فَلَمَّا أَقْبَلَ أَنَسٌ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرْسَلَكَ أَبُوكَ يَدْعُونَا يَا بُنَيَّ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمُ - : اذْهَبُوا بِاسْمِ اللهِ ، قَالَ : فَأَدْبَرَ أَنَسٌ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - يَشْتَدُّ حَتَّى أَتَى أَبَا طَلْحَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَقَالَ : هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَتَاكَ فِي النَّاسِ ، قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : فَخَرَجْتُ أَنَا وَهُوَ حَتَّى لَقِينَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْبَابِ عَلَى مُسْتَرَاحِ الدَّرَجَةِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَاذَا صَنَعْتَ بِنَا ؟ إِنَّمَا عَرَفْتُ فِي وَجْهِكَ الْجُوعَ ، فَصَنَعْنَا لَكَ شَيْئًا تَأْكُلُهُ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ادْخُلْ ، وَأَبْشِرْ ، قَالَ : فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَمَعَهَا فِي الصَّحْفَةِ بِيَدِهِ ، ثُمَّ أَصْلَحَهَا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ مِنْ ؟ كَأَنَّهُ يَعْنِي الْأُدْمَ ، قَالَ : فَأَتَوْهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُكَّةٍ فِيهَا شَيْءٌ - أَوْ لَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ - فَقَالَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، فَأَسْلَتَ مِنْهَا السَّمْنَ ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَدْخِلْ عَلَيَّ عَشَرَةً عَشَرَةً ، فَأَكَلُوا كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْفَضْلِ الَّذِي فَضَلَ : كُلُوا أَنْتُمْ وَعِيَالُكُمْ فَأَكَلُوا وَشَبِعُوا .
وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ .سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کے رخِ انور پر بھوک کے آثار پہچان لیے، چنانچہ میں وہاں سے نکلا اور (اپنی زوجہ) ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، میں نے کہا: ”اے ام سلیم! میں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرہِ مبارک پر بھوک کی شدت محسوس کی ہے، کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز موجود ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں، میرے پاس کچھ ہے“ اور اپنی ہتھیلی کے اشارے سے اس کی قلیل مقدار بتائی، پھر انہوں نے (ابو طلحہ سے) کہا: ”آپ اسے تیار کریں اور خوب عمدہ بنائیں“۔ پھر میں نے انس رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کی جانب روانہ کیا اور انہیں ہدایت دی کہ ”آپ ﷺ کے کان میں چپکے سے عرض کرنا اور انہیں کھانے کی دعوت دینا“۔ جب انس رضی اللہ عنہ پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے (انہیں دیکھ کر) دریافت فرمایا: ”اے میرے پیارے بیٹے! کیا تمہارے والد نے ہمیں دعوت پر بلایا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”جی ہاں“، تو آپ ﷺ نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: «بِاسْمِ اللهِ» ”اللہ کا نام لے کر چلو“۔ انس رضی اللہ عنہ تیزی سے دوڑتے ہوئے واپس مڑے یہاں تک کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ کر بتایا کہ ”یہ دیکھیے، رسول اللہ ﷺ تو بہت سے لوگوں کے ساتھ آپ کے پاس تشریف لا رہے ہیں“۔ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور انس دونوں باہر نکلے یہاں تک کہ ہماری ملاقات رسول اللہ ﷺ سے دروازے کے پاس سیڑھیوں کے پاس ہوئی، میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! آپ نے ہمارے ساتھ کیا کیا؟ میں نے تو محض آپ کے چہرہِ انور پر بھوک کے آثار دیکھ کر صرف آپ کی خاطر کچھ تیار کیا تھا“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اندر داخل ہو جاؤ اور خوشخبری قبول کرو“۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے وہ کھانا لیا اور اسے اپنے دستِ مبارک سے پیالے میں جمع کر کے درست کیا، پھر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا کوئی سالن وغیرہ ہے؟“ پس لوگ ایک کپی لائے جس میں تھوڑا سا گھی تھا، رسول اللہ ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے اسے دبایا اور اس میں سے گھی نچوڑا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اب میرے پاس دس دس کر کے آدمیوں کو اندر بلاؤ“، پس ان سب نے کھانا کھایا اور وہ سیر ہو گئے، پھر رسول اللہ ﷺ نے بچے ہوئے کھانے کے متعلق فرمایا: ”اب تم خود اور تمہارے اہل و عیال بھی کھاؤ“، چنانچہ ان سب نے بھی کھایا اور وہ مکمل طور پر سیر ہو گئے۔
اور یہ روایت صحیح (بخاری و مسلم) میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث سے مروی ہے۔