المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ إنصافه مِنْ نفسه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ کے اپنی ذات سے انصاف کرنے کا بیان۔
قَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ضَعِيفًا ، وَكَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرَادَ أَنْ يَلْقَاهُ عَلَى خَلَاءٍ ، فَيُبْدِيَ لَهُ حَاجَتَهُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَسْكِرًا بِالْبَطْحَاءِ ، وَكَانَ يَجِيءُ مِنَ اللَّيْلِ ، فَيَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، حَتَّى إِذَا كَانَ فِي وَجْهِ الْفَجْرِ رَجَعَ ، فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْغَدَاةِ .
قَالَ : فَحَبَسَهُ الطَّوَافُ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى أَصْبَحَ ، فَلَمَّا اسْتَوَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، عَرَضَ لَهُ الرَّجُلُ ، فَأَخَذَ بِخِطَامِ نَاقَتِهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّكَ سَتُدْرِكُ حَاجَتَكَ فَأَبَى ، فَلَمَّا خَشِيَ أَنْ يَحْبِسَهُ ، خَفَقَهُ بِالسَّوْطِ خَفْقَةً ، ثُمَّ مَضَى ، فَصَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الْغَدَاةِ .
فَلَمَّا انْفَتَلَ أَقْبَلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ عَلَى الْقَوْمِ - وَكَانَ إِذَا فَعَلَ ذَلِكَ عَرَفُوا أَنَّهُ حَدَثَ أَمْرٌ - فَاجْتَمَعَ الْقَوْمُ حَوْلَهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيْنَ الَّذِي خَفَقْتُ آنِفًا ؟ فَأَعَادَهَا : إِنْ كَانَ فِي الْقَوْمِ فَلْيَقُمْ ، قَالَ : فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَقُولُ : أَعُوذُ بِاللهِ ثُمَّ بِرَسُولِهِ ، وَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : ادْنُهْ ادْنُهْ ، حَتَّى دَنَا مِنْهُ ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَنَاوَلَهُ السَّوْطَ ، فَقَالَ : خُذْ بِمِجْلَدِكَ ، فَاقْتَصَّ ، فَقَالَ : أَعُوذُ بِاللهِ أَنْ أَجْلِدَ نَبِيَّهُ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُذْ بِمِجْلَدِكَ ، فَمَا بَأْسٌ عَلَيْكَ ، قَالَ : أَعُوذُ بِاللهِ أَنْ أَجْلِدَ نَبِيَّهُ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِلَّا أَنْ تَعْفُوَ ، قَالَ : فَأَلْقَى السَّوْطَ ، وَقَالَ : قَدْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللهِ .
فَقَامَ أَبُو ذَرٍّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، تَذْكُرُ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ ؟ كُنْتُ أَسُوقُ بِكَ ، وَكُنْتَ نَائِمًا ، وَكُنْتُ إِذَا أَبْطَأَتْ ، وَإِذَا أَخَذْتُ بِخِطَامِهَا ، أَعْرَضَتْ ، فَخَفَقْتُكَ خَفْقَةً بِالسَّوْطِ ، فَقُلْتُ : قَدْ أَتَاكَ الْقَوْمُ ، فَقُلْتَ : لَا بَأْسَ عَلَيْكَ .
خُذْ يَا رَسُولَ اللهِ ، فَاقْتَصَّ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ عَفَوْتُ قَالَ : اقْتَصَّ ; فَإِنَّهُ أَحَبُّ إِلَيَّ ، فَجَلَدَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَتَضَوَّرُ مِنْهَا ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، اتَّقُوا اللهَ ، فَوَاللهِ لَا يَظْلِمُ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنًا ، إِلَّا انْتَقَمَ اللهُ تَعَالَى لَهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مہاجرین میں سے ایک نادار اور کمزور شخص کو نبی کریم ﷺ سے کوئی حاجت پیش آئی، وہ چاہتا تھا کہ آپ ﷺ سے تنہائی میں ملاقات کر کے اپنی ضرورت پیش کرے، رسول اللہ ﷺ ان دنوں مقامِ بطحاء میں خیمہ زن تھے، آپ ﷺ رات کے وقت تشریف لاتے اور بیت اللہ کا طواف فرماتے، یہاں تک کہ جب صبح کا وقت قریب ہوتا تو واپس تشریف لے جاتے اور اپنے صحابہ کو صبح کی نماز پڑھاتے۔
راوی بیان کرتے ہیں کہ ایک رات طواف کی مشغولیت کی وجہ سے آپ ﷺ کو دیر ہو گئی یہاں تک کہ صبح ہو گئی، چنانچہ جب آپ ﷺ اپنی سواری پر درست انداز میں بیٹھ گئے تو وہی شخص آپ ﷺ کے سامنے آ گیا اور آپ ﷺ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ لی، پھر عرض گزار ہوا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے آپ سے ایک کام ہے۔“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمہاری حاجت جلد ہی پوری ہو جائے گی۔“ مگر اس نے نکیل چھوڑنے سے انکار کر دیا، جب آپ ﷺ کو اندیشہ ہوا کہ وہ شخص آپ ﷺ کو نماز سے روک لے گا، تو آپ ﷺ نے اسے کوڑے سے ایک ہلکی سی ضرب لگائی اور آگے بڑھ گئے، پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔
جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو اپنا رخِ انور لوگوں کی طرف پھیرا—اور آپ ﷺ جب ایسا کرتے تو صحابہ سمجھ جاتے کہ کوئی اہم معاملہ درپیش ہے—چنانچہ لوگ آپ ﷺ کے گرد جمع ہو گئے، پھر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”وہ شخص کہاں ہے جسے میں نے ابھی تھوڑی دیر پہلے کوڑا مارا تھا؟“ آپ ﷺ نے اپنی بات دہرائی کہ: ”اگر وہ لوگوں میں موجود ہے تو کھڑا ہو جائے۔“ راوی کہتے ہیں کہ وہ شخص (خوفزدہ ہو کر) کہنے لگا: «أَعُوذُ بِاللهِ ثُمَّ بِرَسُولِهِ» ”میں اللہ کی اور پھر اس کے رسول کی پناہ مانگتا ہوں۔“ مگر رسول اللہ ﷺ مسلسل فرماتے رہے: ”قریب آؤ، میرے قریب آؤ۔“ یہاں تک کہ وہ آپ ﷺ کے نزدیک آ گیا، پھر رسول اللہ ﷺ اس کے سامنے بیٹھ گئے اور اسے کوڑا تھماتے ہوئے فرمایا: ”اپنا کوڑا پکڑو اور قصاص (بدلہ) لو۔“ اس نے عرض کیا: ”میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں اس کے نبی کو کوڑا ماروں۔“ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”اپنا کوڑا لو، تم پر کوئی گناہ نہیں۔“ اس نے دوبارہ عرض کیا: ”میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں اس کے نبی کو کوڑا ماروں۔“ تب آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر یہ کہ تم مجھے معاف کر دو۔“ اس نے کوڑا پھینک دیا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو معاف کر دیا۔“
تب سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو لیلۃ العقبہ یاد ہے؟ میں آپ کی سواری ہانک رہا تھا اور آپ ﷺ اونگھ رہے تھے، جب سواری سست ہو جاتی اور میں اس کی نکیل پکڑتا تو وہ بدکنے لگتی، اس دوران مجھ سے آپ ﷺ کو کوڑے کی ایک ضرب لگ گئی تھی، تب میں نے عرض کیا تھا کہ لوگ آپ کے پاس آ پہنچے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ تم پر کوئی حرج نہیں۔ اب اے اللہ کے رسول! آپ مجھ سے بدلہ لے لیجیے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں معاف کیا۔“ انہوں نے اصرار کیا: ”آپ مجھ سے قصاص لیجیے کیونکہ یہ مجھے زیادہ پسند ہے۔“ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایک کوڑا مارا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ وہ (سیدنا ابو ذر) اس ضرب کی تکلیف سے تڑپ اٹھے، پھر آپ ﷺ نے (عام خطاب فرماتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! اللہ سے ڈرو، کیونکہ اللہ کی قسم! کوئی مومن کسی دوسرے مومن پر ظلم نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مظلوم کا بدلہ اس ظالم سے ضرور لیتا ہے۔“