❮
❯
حدیث نمبر: 3811
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : ذَكَرَ أَبِي - وَلَا أُرَانِي سَمِعْتُهُ مِنْهُ ، - عَنْ يُوسُفَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ ، إِذِ امْرَأَةٌ قَدْ أَخَذَتْ بِعِنَانِ دَابَّتِهِ ، وَهُوَ عَلَى حِمَارٍ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ زَوْجِي لَا يَقْرَبُنِي ; فَفَرِّقْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَنْ زَوْجُهَا ، فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا لَكَ وَلَهَا ؟ جَاءَتْ تَشْكُو مِنْكَ جَفَاءً ، تَشْكُو مِنْكَ أَنَّكَ لَا تَقْرَبُهَا ؟ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَالَّذِي أَكْرَمَكَ إِنَّ عَهْدِي بِهَا لَهَذِهِ اللَّيْلَةُ ، فَبَكَتِ الْمَرْأَةُ ، وَقَالَتْ : كَذَبَ ، فَفَرِّقْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، فَإِنَّهُ مِنْ أَبْغَضِ خَلْقِ اللهِ إِلَيَّ ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَخَذَ بِرَأْسِهِ وَرَأْسِهَا ، وَجَمَعَ بَيْنَهُمَا ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ ادْنُ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِلَى صَاحِبِهِ ، قَالَ جَابِرٌ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : فَلَبِثْنَا مَا شَاءَ اللهُ أَنْ نَلْبَثَ ، ثُمَّ مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسُّوقِ ، فَإِذَا بِامْرَأَةٍ تَحْمِلُ أُدْمًا ، فَلَمَّا رَأَتْهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَحَتِ الْأُدْمَ ، وَأَقْبَلَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا خَلَقَ اللهُ مِنْ شَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهُ إِلَّا أَنْتَ .
ترجمہ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ بازار میں موجود تھے کہ اچانک ایک خاتون سامنے آئی جس نے آپ ﷺ کی سواری کی لگام تھام لی، جبکہ آپ ﷺ ایک گدھے پر سوار تھے۔ اس عورت نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرا شوہر میرے قریب نہیں آتا؛ لہٰذا آپ میرے اور اس کے درمیان جدائی (علیحدگی) کروا دیں۔“ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اس کا شوہر کون ہے؟“ پھر نبی کریم ﷺ نے اس کے شوہر کو بلوایا اور اس سے دریافت فرمایا: ”تمہارا اس کے ساتھ کیا معاملہ ہے؟ یہ تمہاری جانب سے بے رخی اور بے توجہی کی شکایت لے کر آئی ہے کہ تم اس کے قریب نہیں جاتے؟“ اس شخص نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت و تکریم عطا فرمائی ہے! میرا تو ابھی اسی گزشتہ رات اس سے تعلق (ملاپ) قائم ہوا ہے۔“ یہ سن کر وہ عورت رونے لگی اور کہنے لگی: ”اس نے جھوٹ بولا ہے، آپ میرے اور اس کے درمیان علیحدگی فرما دیں کیونکہ یہ اللہ کی مخلوق میں مجھے سب سے زیادہ ناپسند ہے۔“ تب رسول اللہ ﷺ (اس صورتحال پر) تبسم فرمانے لگے، پھر آپ ﷺ نے ان دونوں کے سروں کو (قریب کر کے) تھاما اور ان کو ایک دوسرے کے قریب کیا اور یہ دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ ادْنُ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِلَى صَاحِبِهِ» ”اے اللہ! ان میں سے ہر ایک کو اس کے ساتھی کے قریب (اور باہم مانوس) فرما دے۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر جتنا عرصہ اللہ نے چاہا ہم ٹھہرے رہے، ایک مدت بعد جب رسول اللہ ﷺ کا دوبارہ بازار سے گزر ہوا تو وہی خاتون چمڑے کا سامان اٹھائے جا رہی تھی۔ جب اس نے آپ ﷺ کو دیکھا تو فوراً چمڑا نیچے ڈال دیا اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں دوڑتی ہوئی حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی: ”اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! اب اللہ کی پیدا کردہ مخلوقات میں آپ ﷺ کے علاوہ مجھے اپنے شوہر سے بڑھ کر کوئی اور محبوب نہیں ہے۔“
تخریج: مسند احمد: 14502، مسند ابویعلی: 2061؛ اس کی سند میں یوسف بن محمد بن منکدر ضعیف راوی ہے، تاہم دیگر شواہد کی بنا پر اس قصے کی اصل ثابت ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 3811
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، منقطع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف منقطع »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 13998، 13999، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 6485»