کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: برتنوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
❮
❯
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَخِيهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ قَالَ : " دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَرَأَيْتُ عِنْدَهُ قَدَحًا مِنْ خَشَبٍ . قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ مِنْهُ وَيَتَوَضَّأُ " .
ترجمہ
محمد بن اسماعیل سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے ان کے پاس لکڑی کا بنا ہوا ایک پیالہ دیکھا، جس کے متعلق انہوں نے بتایا کہ: ”رسول اللہ ﷺ اسی پیالے سے پانی نوش فرمایا کرتے تھے اور اسی سے وضو بھی کیا کرتے تھے۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطهارة / حدیث: 23
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه الضياء المقدسي فى “” الأحاديث المختارة “” ، 2583 ، 2584 ، وأورده ابن حجر فى “” المطالب العالية “” ، 23»
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو عُمَرَ الْحُلْوَانِيُّ ، ثَنَا دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا بُنَيَّ ، ادْعُ لِيَ مِنْ هَذِهِ الدَّارِ بِوَضُوءٍ " فَقُلْتُ : رَسُولُ اللهِ يَطْلُبُ وَضُوءًا ، فَقَالَ : أَخْبِرْهُ أَنَّ دَلْوَهُ جِلْدُ مَيْتَةٍ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَلْهُمْ : هَلْ دَبَغُوهُ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " فَإِنَّ دِبَاغَهُ طُهُورُهُ " .
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ چل رہا تھا کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے میرے پیارے بیٹے! میرے لیے اس گھر سے وضو کا پانی طلب کرو“، تو میں نے (گھر والوں سے جا کر) عرض کی کہ اللہ کے رسول ﷺ وضو کے لیے پانی طلب فرما رہے ہیں، جس پر اس (گھر کے مالک) نے کہا کہ آپ ﷺ کو خبر کر دیجیے کہ ان کا ڈول مردار جانور کی کھال سے بنا ہوا ہے، تب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ان سے دریافت کرو کہ کیا انہوں نے اسے دباغت دے کر (رنگ کر) پاک کر لیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بیشک اسے دباغت دینا ہی اس کی طہارت و پاکیزگی ہے“۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطهارة / حدیث: 24
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 490»
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، ثَنَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : مَاتَتْ شَاةٌ لَنَا كُنَّا نَحْتَلِبُهَا ، فَسَأَلَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا ، فَقَالَ : " مَا فَعَلَتْ شَاتُكُمْ يَا أُمَّ سَلَمَةَ ؟ " قَالَتْ : قُلْتُ : مَاتَتْ ، فَأَلْقَيْنَاهَا . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا كُنْتُمْ تَنْتَفِعُونَ بِإِهَابِهَا ؟ " قَالَتْ : فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ دِبَاغَهَا أَحَلَّهَا كَمَا أَحَلَّ الْخَمْرَ الْخَلُّ " .
قَالَ فَرَجٌ : يَعْنِي أَنَّ الْخَمْرَ إِذَا تَغَيَّرَتْ ، فَصَارَتْ خَلًّا - حَلَّتْ .
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہماری ایک بکری مر گئی جس کا ہم دودھ دوہا کرتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے ہم سے اس کے متعلق دریافت کرتے ہوئے پوچھا: ”اے ام سلمہ! تمہاری اس بکری کا کیا ہوا؟“ میں نے عرض کیا کہ وہ مر گئی تھی، اس لیے ہم نے اسے (بیکار سمجھ کر) پھینک دیا، تب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟“ تو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! وہ تو مردار تھی، اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً اس کی دباغت (کھال کو رنگ کر صاف کرنا) اسے اسی طرح حلال و پاک کر دیتا ہے جس طرح سرکہ شراب کو (ماہیت تبدیل کر کے) حلال کر دیتا ہے۔“ راویِ حدیث فرج بیان کرتے ہیں کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب شراب کی حقیقت بدل جائے اور وہ سرکہ بن جائے تو وہ حلال ہو جاتی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطهارة / حدیث: 25
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 419، 9386، وأخرجه معرفة السنن والآثار برقم: 11719، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 491»
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ الْخُزَاعِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : " كُنَّا نُصِيبُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَغَانِمِنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ الْأَسْقِيَةَ وَالْأَوْعِيَةَ فَنَقْسِمُهَا كُلَّهَا مَيْتَةً " .
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”ہم نبی کریم ﷺ کی معیت میں مشرکین سے حاصل ہونے والے اموالِ غنیمت میں پانی پینے کے مشکیزے اور چمڑے کے دیگر برتن پایا کرتے تھے، پھر ہم ان تمام اشیاء کو (باہم) تقسیم کر لیا کرتے تھے جبکہ وہ سب کے سب مردار (یعنی غیر ذبح شدہ جانوروں کی کھالوں سے بنے ہوئے) ہوتے تھے۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطهارة / حدیث: 26
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 14092، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 492»
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ ، ثَنَا حَبِيبُ بْنُ جُرَيٍّ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ قَالَ : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْجِبُهُ الْإِنَاءُ الْمُنْطَبِقُ " .
ترجمہ
امام ابوجعفر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا: ”نبی کریم ﷺ کو وہ برتن بہت پسند آتا تھا جو اوپر سے ڈھکا ہوا ہو (یعنی جس پر ڈھکن لگا ہوا ہو)۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطهارة / حدیث: 27
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 4»
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أُمِّ مُسْلِمٍ الْأَشْجَعِيَّةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي قُبَّةٍ فَقَالَ : " نِعْمَ الْقُبَّةُ ، إِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا مَيْتَةٌ " .
ترجمہ
سیدہ ام مسلم اشجعیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے جب کہ میں ایک قبہ (چمڑے کے بنے ہوئے گول خیمے) میں موجود تھی، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ کتنا ہی عمدہ خیمہ ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی مردار (یعنی کسی مردار جانور کی کھال وغیرہ) نہ ہو۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطهارة / حدیث: 28
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه أحمد فى «مسنده» برقم: 28109، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 28، وأخرجه الطبراني فى«الكبير» برقم: 375، 376»
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي جَدِّي رِيَاحُ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ : إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ نَاسٌ يُقْرِئُهُمْ ، فَدَعَا بِشَرَابٍ ، فَقَالَ : " أَمَا إِنَّ هَذَا الشَّرَابَ كَانَ فِي سِقَاءِ مَنِيحَةٍ لَنَا مَاتَتْ " .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں تشریف فرما تھے اور ان کے ساتھ کچھ لوگ موجود تھے جنہیں وہ (قرآنِ کریم کی) تعلیم دے رہے تھے، اسی اثناء میں انہوں نے پینے کے لیے کچھ منگوایا اور (اس کی شرعی حیثیت واضح کرنے کے لیے) ارشاد فرمایا: ”آگاہ رہو! یقیناً یہ پینے کی چیز (پانی یا مشروب) ہمارے اس دودھ دینے والے جانور کی کھال سے بنے مشکیزے میں تھی جو مر چکا تھا۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطهارة / حدیث: 29
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :موقوف، إسناده صحيح. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَحْرٍ ، ثَنَا سُلَيْمُ بْنُ مُسْلِمٍ ، ثَنَا النَّضْرُ بْنُ عَرَبِيٍّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الَّذِي يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ " .
وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ ، وَمُسْلِمٌ فِي صَحِيحَيْهِمَا عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ .
( 2 ) حَدِيثُ أَبِي عُثْمَانَ فِي آنِيَةِ الْمُشْرِكِينَ يَأْتِي فِي تَرْجَمَتِهِ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاقِبِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بیشک وہ شخص جو سونے اور چاندی کے برتنوں میں (پانی یا کوئی مشروب) پیتا ہے، وہ درحقیقت اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ ہی غٹاغٹ انڈیل رہا ہے۔“ اس حدیث کو امام بخاری اور امام مسلم نے اپنی صحیحین میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت کیا ہے، نیز مشرکین کے برتنوں کے متعلق ابوعثمان کی حدیث، ان شاء اللہ تعالیٰ، کتاب المناقب میں ان کے تذکرے کے ضمن میں آئے گی۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطهارة / حدیث: 30
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 12046، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 3357، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 8223»