❮
❯
حدیث نمبر: 29
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي جَدِّي رِيَاحُ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ : إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ نَاسٌ يُقْرِئُهُمْ ، فَدَعَا بِشَرَابٍ ، فَقَالَ : " أَمَا إِنَّ هَذَا الشَّرَابَ كَانَ فِي سِقَاءِ مَنِيحَةٍ لَنَا مَاتَتْ " .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں تشریف فرما تھے اور ان کے ساتھ کچھ لوگ موجود تھے جنہیں وہ (قرآنِ کریم کی) تعلیم دے رہے تھے، اسی اثناء میں انہوں نے پینے کے لیے کچھ منگوایا اور (اس کی شرعی حیثیت واضح کرنے کے لیے) ارشاد فرمایا: ”آگاہ رہو! یقیناً یہ پینے کی چیز (پانی یا مشروب) ہمارے اس دودھ دینے والے جانور کی کھال سے بنے مشکیزے میں تھی جو مر چکا تھا۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطهارة / حدیث: 29
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :موقوف، إسناده صحيح. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»