المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ طَهَارَةِ النُّخَامَةِ وَالدُّمُوعِ باب: بلغم اور آنسوؤں کی طہارت کا بیان۔
حدیث نمبر: 22
أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، ثَنَا ثَابِتُ بْنُ حَمَّادٍ أَبُو زَيْدٍ ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَمَّارٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : مَرَّ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَسْقِي نَاقَةً لِي بَيْنَ يَدَيَّ ، فَتَنَخَّمْتُ ، فَأَصَابَتْ نُخَامَتِي ثَوْبِي ، فَأَقْبَلْتُ أَغْسِلُ ثَوْبِي مِنَ الرَّكْوَةِ الَّتِي بَيْنَ يَدَيَّ ، فَقَالَ : " يَا عَمَّارُ " مَا نُخَامَتُكَ وَدُمُوعُ عَيْنَيْكَ إِلَّا بِمَنْزِلَةِ الْمَاءِ الَّذِي فِي رِكْوَتِكَ ، إِنَّمَا يُغْسَلُ مِنَ الْبَوْلِ وَالْغَائِطِ ، وَالْمَنِيِّ مِنَ الْمَاءِ الْأَعْظَمِ ، وَالدَّمِ وَالْقَيْءِ " .ترجمہ
سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ میرے پاس سے گزرے جبکہ میں اپنے سامنے موجود اپنی ایک اونٹنی کو پانی پلا رہا تھا، اسی اثنا میں مجھے بلغم آیا جو میرے کپڑے پر لگ گیا، چنانچہ میں اپنے سامنے رکھے ہوئے چمڑے کے ایک چھوٹے برتن (کوزے) سے اپنے کپڑے کو دھونے لگا، تو آپ ﷺ نے (یہ دیکھ کر) ارشاد فرمایا: ”اے عمار! تمہارا یہ بلغم اور تمہاری آنکھوں کے آنسو تو تمہارے اس برتن میں موجود پانی ہی کی طرح (پاک) ہیں، درحقیقت (جسم یا کپڑا) تو پیشاب، پاخانہ، منی، خون اور قے لگنے کی صورت میں ہی دھویا جاتا ہے۔“