المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْآنِيَةِ باب: برتنوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو عُمَرَ الْحُلْوَانِيُّ ، ثَنَا دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا بُنَيَّ ، ادْعُ لِيَ مِنْ هَذِهِ الدَّارِ بِوَضُوءٍ " فَقُلْتُ : رَسُولُ اللهِ يَطْلُبُ وَضُوءًا ، فَقَالَ : أَخْبِرْهُ أَنَّ دَلْوَهُ جِلْدُ مَيْتَةٍ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَلْهُمْ : هَلْ دَبَغُوهُ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " فَإِنَّ دِبَاغَهُ طُهُورُهُ " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ چل رہا تھا کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے میرے پیارے بیٹے! میرے لیے اس گھر سے وضو کا پانی طلب کرو“، تو میں نے (گھر والوں سے جا کر) عرض کی کہ اللہ کے رسول ﷺ وضو کے لیے پانی طلب فرما رہے ہیں، جس پر اس (گھر کے مالک) نے کہا کہ آپ ﷺ کو خبر کر دیجیے کہ ان کا ڈول مردار جانور کی کھال سے بنا ہوا ہے، تب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ان سے دریافت کرو کہ کیا انہوں نے اسے دباغت دے کر (رنگ کر) پاک کر لیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بیشک اسے دباغت دینا ہی اس کی طہارت و پاکیزگی ہے“۔