المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْآنِيَةِ باب: برتنوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 26
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ الْخُزَاعِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : " كُنَّا نُصِيبُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَغَانِمِنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ الْأَسْقِيَةَ وَالْأَوْعِيَةَ فَنَقْسِمُهَا كُلَّهَا مَيْتَةً " .ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”ہم نبی کریم ﷺ کی معیت میں مشرکین سے حاصل ہونے والے اموالِ غنیمت میں پانی پینے کے مشکیزے اور چمڑے کے دیگر برتن پایا کرتے تھے، پھر ہم ان تمام اشیاء کو (باہم) تقسیم کر لیا کرتے تھے جبکہ وہ سب کے سب مردار (یعنی غیر ذبح شدہ جانوروں کی کھالوں سے بنے ہوئے) ہوتے تھے۔“