المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْآنِيَةِ باب: برتنوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 30
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَحْرٍ ، ثَنَا سُلَيْمُ بْنُ مُسْلِمٍ ، ثَنَا النَّضْرُ بْنُ عَرَبِيٍّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الَّذِي يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ " .
وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ ، وَمُسْلِمٌ فِي صَحِيحَيْهِمَا عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ .
( 2 ) حَدِيثُ أَبِي عُثْمَانَ فِي آنِيَةِ الْمُشْرِكِينَ يَأْتِي فِي تَرْجَمَتِهِ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاقِبِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بیشک وہ شخص جو سونے اور چاندی کے برتنوں میں (پانی یا کوئی مشروب) پیتا ہے، وہ درحقیقت اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ ہی غٹاغٹ انڈیل رہا ہے۔“ اس حدیث کو امام بخاری اور امام مسلم نے اپنی صحیحین میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت کیا ہے، نیز مشرکین کے برتنوں کے متعلق ابوعثمان کی حدیث، ان شاء اللہ تعالیٰ، کتاب المناقب میں ان کے تذکرے کے ضمن میں آئے گی۔