❮
❯
حدیث نمبر: 25
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، ثَنَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : مَاتَتْ شَاةٌ لَنَا كُنَّا نَحْتَلِبُهَا ، فَسَأَلَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا ، فَقَالَ : " مَا فَعَلَتْ شَاتُكُمْ يَا أُمَّ سَلَمَةَ ؟ " قَالَتْ : قُلْتُ : مَاتَتْ ، فَأَلْقَيْنَاهَا . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا كُنْتُمْ تَنْتَفِعُونَ بِإِهَابِهَا ؟ " قَالَتْ : فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ دِبَاغَهَا أَحَلَّهَا كَمَا أَحَلَّ الْخَمْرَ الْخَلُّ " .
قَالَ فَرَجٌ : يَعْنِي أَنَّ الْخَمْرَ إِذَا تَغَيَّرَتْ ، فَصَارَتْ خَلًّا - حَلَّتْ .
ترجمہ

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہماری ایک بکری مر گئی جس کا ہم دودھ دوہا کرتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے ہم سے اس کے متعلق دریافت کرتے ہوئے پوچھا: ”اے ام سلمہ! تمہاری اس بکری کا کیا ہوا؟“ میں نے عرض کیا کہ وہ مر گئی تھی، اس لیے ہم نے اسے (بیکار سمجھ کر) پھینک دیا، تب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟“ تو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! وہ تو مردار تھی، اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً اس کی دباغت (کھال کو رنگ کر صاف کرنا) اسے اسی طرح حلال و پاک کر دیتا ہے جس طرح سرکہ شراب کو (ماہیت تبدیل کر کے) حلال کر دیتا ہے۔“ راویِ حدیث فرج بیان کرتے ہیں کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب شراب کی حقیقت بدل جائے اور وہ سرکہ بن جائے تو وہ حلال ہو جاتی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطهارة / حدیث: 25
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 419، 9386، وأخرجه معرفة السنن والآثار برقم: 11719، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 491»