کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: رات کے وقت برتن ڈھانپنے کے حکم کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ هُوَ ابْنُ الْحَجَّاجِ ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ : أَبُو حُمَيْدٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فِيهِ لَبَنٌ مِنَ النَّقِيعِ نَهَارًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا خَمَّرْتَهُ ؟ وَلَوْ أَنْ تَعْرُضَ عَلَيْهِ بِعُودٍ " . صَحِيحٌ ، وَالْمَحْفُوظُ مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوحمید نامی ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں ایک برتن لے کر آئے جس میں نقیع (مدینہ منورہ کی ایک چراگاہ) کا دودھ تھا اور یہ دن کا وقت تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم نے اسے کسی چیز سے ڈھانپ کیوں نہ لیا؟ تم اسے ضرور ڈھانپ دیتے خواہ اس کے اوپر (چوڑائی میں) کوئی لکڑی ہی رکھ دیتے“۔ یہ حدیث صحیح ہے اور اس متن کا محفوظ طریق سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ أَبِي وَدَاعَةَ قَالَ : اسْتَسْقَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : أَلَا آتِيكَ بِشَرَابٍ نَصْنَعُهُ ؟ قَالَ : " بَلَى " . قَالَ : فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ نَبِيذٌ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَهَلَّا أَكْبَبْتَ عَلَيْهِ إِنَاءً وَعَرَضْتَ عَلَيْهِ عُودًا ؟ " قَالَ : فَشَرِبَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَقَطَّبَ ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّ عَلَيْهِ ، ثُمَّ شَرِبَ وَسَقَاهُ " .
ترجمہ
آلِ ابی وداعہ کے ایک شخص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کا طواف فرما رہے تھے کہ آپ ﷺ نے پینے کے لیے کچھ طلب فرمایا، تو وہاں موجود لوگوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا: ”کیا میں آپ کی خدمت میں وہ مشروب پیش نہ کروں جو ہم (گھروں میں) تیار کرتے ہیں؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں (ضرور)۔“ وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ کی خدمت میں ایک برتن لایا گیا جس میں نبیذ تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے (حفاظتی تدبیر کی جانب توجہ دلاتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”تم نے اس برتن کو (اوپر سے) کسی چیز سے ڈھانپا کیوں نہیں یا اس پر کوئی لکڑی ہی عرض میں رکھ دیتے؟“ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے اس میں سے نوش فرمایا تو (اس کی حدت یا تیزی کی وجہ سے) آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار ظاہر ہوئے، پھر آپ ﷺ نے پانی منگوایا اور اسے اس (نبیذ) پر ڈالا (تاکہ اس کی شدت کم ہو جائے)، پھر آپ ﷺ نے خود بھی اسے نوش فرمایا اور دوسروں کو بھی پلایا۔