کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: پہلے قرن ، اور اس کے بعد والوں کے بارے میں ، جو منقول ہے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوَلَةَ قَالَ : بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ بِالْأَهْوَازِ إِذْ أَنَا بِرَجُلٍ يَسِيرُ بَيْنَ يَدِيَّ عَلَى بَغْلٍ أَوْ بَغْلَةٍ ، وَهُوَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ ذَهَبَ قَرْنِي مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ فَأَلْحِقْنِي بِهِمْ ، فَقُلْتُ : وَأَنَا أَدْخُلُ فِي دَعْوَتِكَ ؟ قَالَ : وَصَاحِبِي هَذَا إِنْ أَرَادَ ذَلِكَ ، ثُمَّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي مِنْهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ " . فَلَا أَدْرِي ذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا ؟ " ثُمَّ يَخْلُفُ قَوْمٌ يَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ ، يُهَرِيقُونَ الشَّهَادَةَ ، وَلَا يُسْأَلُونَهَا " . وَإِذَا هُوَ بُرَيْدَةُ الْأَسْلَمِيُّ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن مولہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں ” اہواز “ میں سفر کر رہا تھا ، ایک شخص میرے آگے جا رہا تھا ، وہ ایک خچر پر سوار تھا وہ یہ کہہ رہا تھا : اے اللہ ! اس امت میں سے میرا قرن رخصت ہونے لگا ہے ، تو مجھے ان لوگوں کے ساتھ ملا دے ، میں نے کہا: میں بھی آپ کی دعا میں شامل ہونا چاہتا ہوں ، تو اس نے کہا: میرا یہ ساتھی بھی اگر یہ ارادہ رکھتا ہے تو ایسا کر دے ، پھر انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میری امت میں سب سے بہتر ، میرے زمانے کے لوگ ہیں ، پھر اس کے بعد والے ہیں ، راوی کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے تیسری مرتبہ کا ذکر کیا تھا ، یا نہیں کیا تھا ؟ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) پھر وہ لوگ آئیں گے ، جن میں موٹاپا ظاہر ہو گا ، وہ گواہیاں دیں گے ، حالانکہ ان سے گواہیاں نہیں مانگی گئی ہوں گی ۔ “ راوی کہتے ہیں : وہ صاحب سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ تھے ۔
وَفِي رِوَايَةٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ أَنَا فِيهِمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَكُونُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ ، وَأَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ " . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس امت میں سب سے بہتر وہ زمانہ ہے جس میں مجھے مبعوث کیا گیا ، جس میں ، میں موجود ہوں ، پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ ہو گا ، پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ ہو گا ، پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ ہو گا ، پھر ایسے لوگ آئیں گے کہ جن کی گواہی ان کی قسم سے سبقت لے جائے گی اور ان کی قسم ان کی گواہی سے سبقت لے جائے گی ۔ “
وَفِي رِوَايَةٍ : " الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ " . ¤ رَوَاهَا كُلَّهَا أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” وہ زمانہ جس میں مجھے مبعوث کیا گیا ، پھر ان کے بعد والوں کا زمانہ ، پھر ان کے بعد والوں کا زمانہ ، پھر ان کے بعد والوں کا ، پھر اُن کے بعد والوں کا زمانہ ۔ “ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں اور امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہیں اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَأْتِي قَوْمٌ تَسْبِقُ أَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ ، وَشَهَادَتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِي طُرُقِهِمْ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے ، پھر ان کے بعد والوں کا ہے ، پھر ان کے بعد والوں کا ہے ، پھر ان کے بعد والوں کا ہے ، پھر ایسے لوگ آئیں گے کہ جن کی قسمیں ، ان کی گواہی پر سبقت لے جائیں گی اور ان کی گواہی ، ان کی قسموں پر سبقت لے جائے گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ان کے طرق میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ان کے طرق میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي الَّذِينَ أَنَا مِنْهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَنْشَأُ أَقْوَامٌ يَفْشُو فِيهِمُ السِّمَنُ ، يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ ، وَلَهُمْ لَغَطٌ فِي أَسْوَاقِهِمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَاللَّفْظُ لَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے ، جس میں ، میں موجود ہوں ، پھر ان کے بعد والوں کا ہے ، پھر ایسے لوگ آئیں گے کہ جن کے درمیان موٹاپا پھیل جائے گا ، وہ گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی نہیں مانگی گئی ہو گی ، اور بازاروں میں ان کی آوازیں بلند ہوں گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ۔
- وَلَهُ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْأَوْسَطِ : " خَيْرُ قَرْنٍ الْقَرْنُ الَّذِي أَنَا فِيهِ ، ثُمَّ الثَّانِي ، ثُمَّ الثَّالِثُ ، ثُمَّ الرَّابِعُ ، لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِمْ شَيْئًا " . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ طَرَفٌ مِنْهُ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ . ¤ وَفِي رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، صَاحِبُ الْبَابِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
اُن ( صحابی ) کے حوالے سے امام طبرانی نے معجم اوسط میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” سب سے بہترین زمانہ وہ ہے جس میں ، میں موجود ہوں ، پھر دوسرا ہے ، پھر تیسرا ہے ، پھر چوتھے زمانے کے لوگوں کے بارے میں ، اللہ تعالیٰ کو کسی چیز کی پرواہ نہیں ہو گی ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے اور امام بزار کے رجال ثقہ ہیں اور امام طبرانی کے رجال میں ، ایک راوی اسحاق بن ابراہیم ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے ، پھر ان کے بعد والوں کا ہے ، پھر ان کے بعد والوں کا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ تَمِيمٍ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ أُمَّتِكَ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " أَنَا وَأَقْرَانِي " . قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " ثُمَّ الْقَرْنُ الثَّانِي " . قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " ثُمَّ الْقَرْنُ الثَّالِثُ " . قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ . قَالَ : " ثُمَّ يَكُونُ قَوْمٌ يَحْلِفُونَ وَلَا يُسْتَحْلَفُونَ ، وَيَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ ، وَيُؤْتَمَنُونَ وَلَا يُؤَدُّونَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعید بن تمیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کی امت میں کون سب سے بہتر ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اور میرے زمانے کے لوگ ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا : پھر دوسرے زمانے کے لوگ ، میں نے عرض کی : پھر کون ہیں ؟ یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تیسرے زمانے کے لوگ ، میں نے عرض کی : پھر کون ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر ایسے لوگ آئیں گے جو حلف اٹھائیں گے ، حالانکہ ان سے حلف نہیں مانگا گیا ہو گا ، وہ گواہی دیں گے ، حالانکہ ان سے گواہی نہیں مانگی گئی ہو گی ، ان کے پاس امانت رکھوائی جائے گی تو وہ واپس نہیں کریں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَيْشُونَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت میں سب سے بہترین زمانہ وہ ہے جس میں مجھے مبعوث کیا گیا ہے ، پھر اس کے بعد والوں کا ہے ، پھر ان کے بعد والوں کا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عیشون ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عیشون ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الرَّابِعُ أَرْذَلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . قُلْتُ هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ : " ثُمَّ الرَّابِعُ أَرْذَلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :
” لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے ، پھر ان کے بعد والوں کا ہے ، پھر ان کے بعد والوں کا ہے ، پھر چوتھے زمانے میں وہ لوگ ہوں گے ، جو گھٹیا ترین ہوں گے اور قیامت تک ایسا ہی رہے گا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” پھر چوتھے زمانے سے لے کر قیامت تک گھٹیا لوگ ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن یزید اؤدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
” لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے ، پھر ان کے بعد والوں کا ہے ، پھر ان کے بعد والوں کا ہے ، پھر چوتھے زمانے میں وہ لوگ ہوں گے ، جو گھٹیا ترین ہوں گے اور قیامت تک ایسا ہی رہے گا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” پھر چوتھے زمانے سے لے کر قیامت تک گھٹیا لوگ ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن یزید اؤدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے ، پھر اس کے بعد والوں کا ہے ، پھر اس کے بعد والوں کا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ،
یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ،
یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الْآخَرُونَ أَرْذَلُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ إِدْرِيسَ بْنَ يَزِيدَ الْأَوْدِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ جَعْدَةَ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جعدہ بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے ، پھر ان کے بعد والوں کا ہے ، پھر ان کے بعد والوں کا ہے ، پھر ان کے بعد والوں کا ہے ، پھر اس کے بعد والے لوگ گھٹیا ترین ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ادریس بن یزید اؤدی نامی راوی نے سیدنا جعدہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ادریس بن یزید اؤدی نامی راوی نے سیدنا جعدہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
وَعَنْ بِنْتِ أَبِي لَهَبٍ قَالَتْ : مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَسْقَى ، فَقُمْتُ إِلَى كُوزٍ فَسَقَيْتُهُ ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ ، فَقَالَ : " تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ " . ثُمَّ قَالَ : " خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
ابولہب کی صاحبزادی بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے ، آپ نے پینے کے لئے کچھ طلب کیا ، میں پیالے کی طرف گئی اور میں نے آپ کو پینے کے لئے پیش کیا ، ایک شخص جس کے جسم پر دو سبز کپڑے تھے ، اس نے آپ سے سوال کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ، تم اس کے ساتھ کسی کو شریک قرار نہ دو ، تم نماز قائم کرو اور تم زکوۃ ادا کرو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے اور پھر ان کے بعد والوں کا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں گیا ہے ۔
وَعَنْ بِنْتِ أَبِي جَهْلٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَسَمَّاهَا جَمِيلَةَ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ زَوْجَ بِنْتِ أَبِي جَهْلٍ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
ابوجہل کی صاحبزادی بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے اس خاتون کا نام سیدہ جمیلہ کا ذکر کیا ہے ، اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ اس خاتون کے شوہر کے بارے میں مجھے علم نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے اس خاتون کا نام سیدہ جمیلہ کا ذکر کیا ہے ، اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ اس خاتون کے شوہر کے بارے میں مجھے علم نہیں ہے ۔
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ : أَيْنَ حَالُنَا مِمَّنْ قَبْلَنَا ؟ فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ! لَوْ نُشِرُوا مِنَ الْقُبُورِ مَا عَرَفُوكُمْ إِلَّا أَنْ يَجِدُوكُمْ قِيَامًا تُصَلُّونَ ، . ¤
محمد محی الدین
یزید بن خمیر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : پہلے والے لوگوں کے مقابلے میں ہماری حالت کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : سبحان اللہ اگر ان لوگوں کو قبروں سے اُٹھا دیا جائے ، تو وہ تمہیں اسی چیز سے پہچانیں گے کہ وہ تمہیں قیام کی حالت میں پائیں گے کہ تم نماز پڑھ رہے ہو ۔