مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقَرْنِ الْأَوَّلِ وَمَنْ تَبِعَهُمْ باب: پہلے قرن ، اور اس کے بعد والوں کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16407
- وَلَهُ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْأَوْسَطِ : " خَيْرُ قَرْنٍ الْقَرْنُ الَّذِي أَنَا فِيهِ ، ثُمَّ الثَّانِي ، ثُمَّ الثَّالِثُ ، ثُمَّ الرَّابِعُ ، لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِمْ شَيْئًا " . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ طَرَفٌ مِنْهُ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ . ¤ وَفِي رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، صَاحِبُ الْبَابِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
اُن ( صحابی ) کے حوالے سے امام طبرانی نے معجم اوسط میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” سب سے بہترین زمانہ وہ ہے جس میں ، میں موجود ہوں ، پھر دوسرا ہے ، پھر تیسرا ہے ، پھر چوتھے زمانے کے لوگوں کے بارے میں ، اللہ تعالیٰ کو کسی چیز کی پرواہ نہیں ہو گی ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے اور امام بزار کے رجال ثقہ ہیں اور امام طبرانی کے رجال میں ، ایک راوی اسحاق بن ابراہیم ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔