مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقَرْنِ الْأَوَّلِ وَمَنْ تَبِعَهُمْ باب: پہلے قرن ، اور اس کے بعد والوں کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الرَّابِعُ أَرْذَلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . قُلْتُ هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ : " ثُمَّ الرَّابِعُ أَرْذَلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے ، پھر ان کے بعد والوں کا ہے ، پھر ان کے بعد والوں کا ہے ، پھر چوتھے زمانے میں وہ لوگ ہوں گے ، جو گھٹیا ترین ہوں گے اور قیامت تک ایسا ہی رہے گا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” پھر چوتھے زمانے سے لے کر قیامت تک گھٹیا لوگ ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن یزید اؤدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔