حدیث نمبر: 16406
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي الَّذِينَ أَنَا مِنْهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَنْشَأُ أَقْوَامٌ يَفْشُو فِيهِمُ السِّمَنُ ، يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ ، وَلَهُمْ لَغَطٌ فِي أَسْوَاقِهِمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَاللَّفْظُ لَهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے ، جس میں ، میں موجود ہوں ، پھر ان کے بعد والوں کا ہے ، پھر ایسے لوگ آئیں گے کہ جن کے درمیان موٹاپا پھیل جائے گا ، وہ گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی نہیں مانگی گئی ہو گی ، اور بازاروں میں ان کی آوازیں بلند ہوں گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16406
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2764)»