حدیث نمبر: 16402
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوَلَةَ قَالَ : بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ بِالْأَهْوَازِ إِذْ أَنَا بِرَجُلٍ يَسِيرُ بَيْنَ يَدِيَّ عَلَى بَغْلٍ أَوْ بَغْلَةٍ ، وَهُوَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ ذَهَبَ قَرْنِي مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ فَأَلْحِقْنِي بِهِمْ ، فَقُلْتُ : وَأَنَا أَدْخُلُ فِي دَعْوَتِكَ ؟ قَالَ : وَصَاحِبِي هَذَا إِنْ أَرَادَ ذَلِكَ ، ‌‌‌‌‌‌‌ثُمَّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي مِنْهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ " . فَلَا أَدْرِي ذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا ؟ " ثُمَّ يَخْلُفُ قَوْمٌ يَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ ، يُهَرِيقُونَ الشَّهَادَةَ ، وَلَا يُسْأَلُونَهَا " . وَإِذَا هُوَ بُرَيْدَةُ الْأَسْلَمِيُّ . ¤
محمد محی الدین

عبداللہ بن مولہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں ” اہواز “ میں سفر کر رہا تھا ، ایک شخص میرے آگے جا رہا تھا ، وہ ایک خچر پر سوار تھا وہ یہ کہہ رہا تھا : اے اللہ ! اس امت میں سے میرا قرن رخصت ہونے لگا ہے ، تو مجھے ان لوگوں کے ساتھ ملا دے ، میں نے کہا: میں بھی آپ کی دعا میں شامل ہونا چاہتا ہوں ، تو اس نے کہا: میرا یہ ساتھی بھی اگر یہ ارادہ رکھتا ہے تو ایسا کر دے ، پھر انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میری امت میں سب سے بہتر ، میرے زمانے کے لوگ ہیں ، پھر اس کے بعد والے ہیں ، راوی کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے تیسری مرتبہ کا ذکر کیا تھا ، یا نہیں کیا تھا ؟ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) پھر وہ لوگ آئیں گے ، جن میں موٹاپا ظاہر ہو گا ، وہ گواہیاں دیں گے ، حالانکہ ان سے گواہیاں نہیں مانگی گئی ہوں گی ۔ “ راوی کہتے ہیں : وہ صاحب سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ تھے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16402
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (720) اخرجه احمد فى المسند (350/5)»