حدیث نمبر: 16409
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ تَمِيمٍ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ أُمَّتِكَ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " أَنَا وَأَقْرَانِي " . قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " ثُمَّ الْقَرْنُ الثَّانِي " . قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " ثُمَّ الْقَرْنُ الثَّالِثُ " . قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ . قَالَ : " ثُمَّ يَكُونُ قَوْمٌ يَحْلِفُونَ وَلَا يُسْتَحْلَفُونَ ، وَيَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ ، وَيُؤْتَمَنُونَ وَلَا يُؤَدُّونَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سعید بن تمیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کی امت میں کون سب سے بہتر ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اور میرے زمانے کے لوگ ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا : پھر دوسرے زمانے کے لوگ ، میں نے عرض کی : پھر کون ہیں ؟ یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تیسرے زمانے کے لوگ ، میں نے عرض کی : پھر کون ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر ایسے لوگ آئیں گے جو حلف اٹھائیں گے ، حالانکہ ان سے حلف نہیں مانگا گیا ہو گا ، وہ گواہی دیں گے ، حالانکہ ان سے گواہی نہیں مانگی گئی ہو گی ، ان کے پاس امانت رکھوائی جائے گی تو وہ واپس نہیں کریں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16409
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5460)»