حدیث نمبر: 16405
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَأْتِي قَوْمٌ تَسْبِقُ أَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ ، وَشَهَادَتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِي طُرُقِهِمْ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے ، پھر ان کے بعد والوں کا ہے ، پھر ان کے بعد والوں کا ہے ، پھر ان کے بعد والوں کا ہے ، پھر ایسے لوگ آئیں گے کہ جن کی قسمیں ، ان کی گواہی پر سبقت لے جائیں گی اور ان کی گواہی ، ان کی قسموں پر سبقت لے جائے گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ان کے طرق میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16405
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2767) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1144) اخرجه احمد فى المسند (277/4)»