کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان ، جس نے نبی اکرم ﷺ کی زیارت کی ہو یا اُن کی زیارت کی ہو جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کی زیارت کی ہو
حدیث نمبر: 16417
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " طُوبَى لِمَنْ رَآنِي ، وَطُوبَى لِمَنْ رَأَى مَنْ رَآنِي ، طُوبَى لَهُمْ وَحُسْنُ مَآبٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ فَزَالَتِ الدُّلْسَةُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس شخص کے لئے مبارکباد ہے ، جس نے میری زیارت کی ہو ، اس شخص کے لئے مبارکباد ہے ، جس نے اس کی زیارت کی ہو ، جس نے میری زیارت کی ہو ، اُن لوگوں کے لئے مبارکباد ہے اور اچھا انجام ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ، اس نے سماع کی صراحت کی ہے ، تو تدلیس زائل ہو جاتی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ، اس نے سماع کی صراحت کی ہے ، تو تدلیس زائل ہو جاتی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 16418
وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " طُوبَى لِمَنْ رَآنِي ، وَمَنْ رَأَى مَنْ رَآنِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس شخص کے لئے مبارکباد ہے ، جس نے میری زیارت کی ہو ، اور جس نے اس کی زیارت کی ہو ، جس نے میری زیارت کی ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 16419
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَزَالُونَ بِخَيْرٍ مَا دَامَ فِيكُمْ مَنْ رَآنِي وَصَاحَبَنِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ مسلسل بھلائی پر گامزن رہو گے ، جب تک تمہارے درمیان وہ شخص موجود رہے گا جس نے میری زیارت کی ہو اور میرے ساتھ رہا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف طرق کے حوالے سے نقل کی ہے ، ان میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف طرق کے حوالے سے نقل کی ہے ، ان میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16420
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلصَّحَابَةِ ، وَلِمَنْ رَأَى وَلِمَنْ رَأَى " . ¤ قَالَ : قُلْتُ : وَمَا قَوْلُهُ : وَلِمَنْ رَأَى ؟ قَالَ : مَنْ رَأَى مَنْ رَآهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، إِنْ كَانَ هُوَ أَبُو يَحْيَى الْمَدَنِيُّ هُوَ فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ . قَالَ ابْنُ حِبَّانَ : قَالَ : أَظُنُّهُ فُلَيْحَ بْنَ سُلَيْمَانَ ، ذَكَرَ ذَلِكَ فِي تَرْجَمَةِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : وَقَدْ ذَكَرَ عَبْدَ الْجَبَّارِ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اے اللہ ! تو صحابہ کی مغفرت کر دے ، اور اس کی کر دے ، جس نے زیارت کی ہو اور اس کی جس نے زیارت کی ہو ۔ “ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : اس سے مراد کیا ہے ؟ جس نے زیارت کی ہو ، تو انہوں نے بتایا : جس نے اس کی زیارت کی ہو ، جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالجبار بن ابوحازم کا معاملہ مختلف ہے اگر تو یہ ابویحیی مدنی ہے ، تو پھر یہ فلیح بن سلیمان ہے ، ابن حبان کہتے ہیں : میرا خیال ہے یہ فلیح بن سلیمان ہے ، انہوں نے یہ بات عبدالجبار بن ابوحازم کے حالات میں نقل کی ہے ، راوی کہتے ہیں : عبدالجبار کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالجبار بن ابوحازم کا معاملہ مختلف ہے اگر تو یہ ابویحیی مدنی ہے ، تو پھر یہ فلیح بن سلیمان ہے ، ابن حبان کہتے ہیں : میرا خیال ہے یہ فلیح بن سلیمان ہے ، انہوں نے یہ بات عبدالجبار بن ابوحازم کے حالات میں نقل کی ہے ، راوی کہتے ہیں : عبدالجبار کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 16421
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " طُوبَى لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي ، وَمَنْ رَأَى مَنْ رَآنِي ، وَمَنْ رَأَى مَنْ رَأَى مَنْ رَآنِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
” اس شخص کے لئے مبارکباد ہے جس نے میری زیارت کی ہو اور مجھ پر ایمان لایا ہو ( اور اس کے لئے بھی مبارکباد ہے ) جس نے اس ( صحابی ) کی زیارت کی ہو ، جس نے میری زیارت کی ہے ، اور ( اس کے لئے بھی مبارکباد ہے ) ، جس نے اس ( تابعی ) کی زیارت کی ہو ، جس نے اُس ( صحابی ) کی زیارت کی ہو ، جس نے میری زیارت کی ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
” اس شخص کے لئے مبارکباد ہے جس نے میری زیارت کی ہو اور مجھ پر ایمان لایا ہو ( اور اس کے لئے بھی مبارکباد ہے ) جس نے اس ( صحابی ) کی زیارت کی ہو ، جس نے میری زیارت کی ہے ، اور ( اس کے لئے بھی مبارکباد ہے ) ، جس نے اس ( تابعی ) کی زیارت کی ہو ، جس نے اُس ( صحابی ) کی زیارت کی ہو ، جس نے میری زیارت کی ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 16422
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ - وَكَانَ أَصَابَهُ سَهْمٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَدْخُلُ النَّارَ مُسْلِمٌ رَآنِي ، أَوْ رَأَى مَنْ رَآنِي ، وَلَا رَأَى مَنْ رَأَى مَنْ رَآنِي " [ ثَلَاثًا ]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُقْبَةَ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن عقبہ اپنے والد کے حوالے سے نقل کرتے ہیں : یہ وہ صاحب ہیں ، جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں حصہ لیتے ہوئے تیر لگا تھا ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :
” ایسا مسلمان جہنم میں داخل نہیں ہو گا ، جس نے میری زیارت کی ہو ، یا جس نے اُس ( صحابی ) کی زیارت کی ہو ، جس نے میری زیارت کی ہو ، اور نہ ہی وہ داخل ہو گا ، جس نے اُس کی ( تابعی ) زیارت کی ہو ، جس نے اُس ( صحابی ) کی زیارت کی ہو ، جس نے میری زیارت کی ہو ۔ “ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : عبدالرحمن بن عقبہ جہنی کے حوالے سے ، ان کے والد سے
یہ روایت منقول ہے ، اس روایت کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
” ایسا مسلمان جہنم میں داخل نہیں ہو گا ، جس نے میری زیارت کی ہو ، یا جس نے اُس ( صحابی ) کی زیارت کی ہو ، جس نے میری زیارت کی ہو ، اور نہ ہی وہ داخل ہو گا ، جس نے اُس کی ( تابعی ) زیارت کی ہو ، جس نے اُس ( صحابی ) کی زیارت کی ہو ، جس نے میری زیارت کی ہو ۔ “ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : عبدالرحمن بن عقبہ جہنی کے حوالے سے ، ان کے والد سے
یہ روایت منقول ہے ، اس روایت کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔