کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ : لَقَدْ رَأَيْتُنَا بِفَجِّ الرَّوْحَاءِ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَصُرَ بِي وَدَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ مَا يَسُرُّنِي بِهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُمَرَ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
میمون بن مہران بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : مجھے یہ بات یاد ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غزوہ میں حصہ لیا ، اُس غزوے کے دوران ہم لوگ ” فج روحاء “ کے مقام پر موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملاحظہ کیا ، تو مجھے دعائیں دیں ، مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ ان دعاؤں کے عوض میں ، مجھے دنیا اور اس میں موجود سب کچھ مل جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عمر بن عمرو بن میمون بن مہران ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عمر بن عمرو بن میمون بن مہران ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ : شَهِدَ ابْنُ عُمَرَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - الْفَتْحَ وَهُوَ ابْنُ عِشْرِينَ ، وَمَعَهُ فَرَسٌ حَرُونٌ وَرُمْحٌ ثَقِيلٌ ، فَذَهَبَ ابْنُ عُمَرَ يَخْتَلِي لِفَرَسِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ مُجَاهِدًا أَرْسَلَهُ . ¤
محمد محی الدین
مجاہد بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب غزوہ فتح مکہ میں شریک ہوئے تھے ، اُس وقت ان کی عمر بیس سال تھی اور ان کے ساتھ ایک گھوڑا تھا جو سرکش تھا اور ایک بھاری نیزہ تھا ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو الگ لے گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عبداللہ ایک نیک آدمی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ مجاہد نے اسے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ مجاہد نے اسے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ۔
وَعَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الطَّفَاوِيِّ قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَذْكُرُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بَكَى . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْحَاقُ الطَّفَاوِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
اسحاق بن عبدالله طفاوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے تھے تو رو پڑتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اسحاق طفاوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اسحاق طفاوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّهُ كَانَ يُحْيِي اللَّيْلَ صَلَاةً ، ثُمَّ يَقُولُ : يَا نَافِعُ ، أَسَحَرْنَا ؟ فَيَقُولُ : لَا ، فَيُعَاوِدُ الصَّلَاةَ ، ثُمَّ يَقُولُ : يَا نَافِعُ ، أَسَحَرْنَا ؟ فَأَقُولُ : نَعَمْ ، فَيَقْعُدُ فَيَسْتَغْفِرُ وَيَدْعُو حَتَّى يُصْبِحَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَسَدِ بْنِ مُوسَى ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
نافع نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : وہ رات کے وقت نوافل پڑھتے تھے ، پھر یہ دریافت کرتے تھے : اے نافع ! کیا سحری کا وقت قریب ہو گیا ہے ؟ وہ جواب دیتے تھے ، جی نہیں ! تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ پھر نماز پڑھنے لگ جاتے تھے ، پھر دریافت کرتے تھے : اے نافع ! کیا سحری کا وقت قریب آ گیا ہے ؟ میں جواب دیتا تھا : جی ہاں ! تو وہ بیٹھ کر دعائے استغفار پڑھتے رہتے تھے اور دعا کرتے رہتے تھے ، یہاں تک کہ صبح صادق ہو جاتی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اسد بن موسیٰ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اسد بن موسیٰ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ : إِنْ كَانَ ابْنُ عُمَرَ لِيَقْسِمُ فِي الْمَجْلِسِ ثَلَاثِينَ أَلْفًا ، ثُمَّ يَأْتِي عَلَيْهِ شَهْرٌ مَا يَأْكُلُ فِيهِ مُزْعَةَ لَحْمٍ . قَالَ بُرْدٌ : قُلْتُ لِنَافِعٍ : هَلْ كَانَ يَأْكُلُ اللَّحْمَ ؟ قَالَ : كَانَ إِذَا صَامَ أَوْ سَافَرَ فَإِنَّهُ أَكْثَرُ طَعَامِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک محفل میں تیس ہزار کی رقم تقسیم کر دی اور پھر ایک مہینہ ان پر ایسا گزرا کہ انہیں اس دوران گوشت کا ایک ٹکڑا بھی کھانے کے لئے نہیں ملا ۔ برد نامی راوی کہتے ہیں : میں نے نافع سے دریافت کیا : کیا وہ گوشت کھایا کرتے تھے ؟ نافع نے بتایا : جب انہوں نے روزہ رکھا ہوا ہوتا تھا ، یا جب وہ سفر کر رہے ہوتے تھے ، تو وہ زیادہ تر گوشت ہی کھاتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف برد بن سنان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف برد بن سنان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ اشْتَكَى ، فَاشْتُرِيَ لَهُ عُنْقُودُ عِنَبٍ بِدِرْهَمٍ ، فَجَاءَ مِسْكِينٌ ، فَقَالَ : أَعْطُوهُ إِيَّاهُ ، ثُمَّ خَالَفَ إِنْسَانٌ فَاشْتَرَاهُ بِدِرْهَمٍ ، ثُمَّ جَاءَ بِهِ إِلَيْهِ ، فَجَاءَ الْمِسْكِينُ يَسْأَلُ ، فَقَالَ : أَعْطَوْهُ إِيَّاهُ ، ثُمَّ خَالَفَ إِنْسَانٌ فَاشْتَرَاهُ مِنْهُ بِدِرْهَمٍ ، فَأَرَادَ أَنْ يَرْجِعَ حَتَّى مُنِعَ ، وَلَوْ عَلِمَ بِذَلِكَ الْعُنْقُودِ مَا ذَاقَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ نُعَيْمِ بْنِ حَمَّادٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہو گئے ، نافع نے ان کے لئے ایک درہم کے عوض میں انگوروں کا گچھا خریدا ، ایک غریب آیا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم یہ اسے دے دو ، پھر ایک اور شخص گیا ، وہ ان کے لئے ایک درہم کے عوض میں انگور خرید کر لایا ، اسی دوران ایک مسکینہ آئی ، اس نے مانگا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم یہ اسے دے دو ، پھر ایک اور انسان گیا اس نے ایک درہم کے عوض میں ان کے لئے انگور خریدے ، اس مسکین نے دوبارہ مانگنے کا ارادہ کیا تو اسے منع کر دیا گیا ، اگر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس بات کا پتہ چل جاتا ، تو انہوں نے ان انگوروں کو چکھنا بھی نہیں تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف نعیم بن حماد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف نعیم بن حماد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ : مَرَّ ابْنُ عُمَرَ بِرَاعِي غَنَمٍ ، فَقَالَ : يَا رَاعِيَ الْغَنَمِ ، هَلْ مِنْ جَزْرَةٍ ؟ قَالَ الرَّاعِي : مَا لَيْسَ هَاهُنَا رَبُّهَا . قَالَ : تَقُولُ أَكَلَهَا الذِّئْبُ ، فَرَفَعَ الرَّاعِي رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، ثُمَّ قَالَ : فَأَيْنَ اللَّهُ ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَأَنَا وَاللَّهِ أَحَقُّ أَنْ أَقُولَ : فَأَيْنَ اللَّهُ . فَاشْتَرَى ابْنُ عُمَرَ الرَّاعِيَ ، وَاشْتَرَى الْغَنَمَ ، فَأَعْتَقَهُ وَأَعْطَاهُ الْغَنَمَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْحَاطِبِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا گزر بکریوں کے ایک چرواہے کے پاس سے ہوا ، انہوں نے دریافت کیا : اے بکریوں کے چرواہے ! کیا کوئی ایسی بکری ہے ، جس کو قربان کیا جا سکے ؟ تو چرواہے نے کہا: یہاں ان کا مالک نہیں ہے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم یہ کہہ دینا کہ بھیڑیا اسے کھا گیا تھا ، اس چرواہے نے اپنا سر آسمان کی طرف بلند کیا پھر دریافت کیا : اللہ تعالیٰ کہاں ہے ؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہوں کہ میں یہ کہوں کہ اللہ تعالیٰ کہاں ہے ( یعنی اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے ) پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اُس چرواہے کو خرید لیا ، اس کی بکریوں کو خرید لیا اور اس چرواہے کو آزاد کر کے وہ بکریاں اسے دیدیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن حارث حاطبی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن حارث حاطبی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنِ الْمُطْعَمِ بْنِ مِقْدَامٍ الصَّنْعَانِيِّ قَالَ : كَتَبَ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ : بَلَغَنِي أَنَّكَ تَطْلُبُ ،وَإِنَّ الْخِلَافَةَ لَا تَصْلُحُ لِعَيِيٍّ ، وَلَا بَخِيلٍ ، وَلَا غَيُورٍ . ¤ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عُمَرَ : أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ أَمْرِ الْخِلَافَةِ أَنِّي أَطْلُبُهَا ، فَمَا طَلَبْتُهَا ، وَمَا هِيَ مِنْ بَالِي . وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مَنْ أَمْرِ الْعَيِيِّ وَالْبُخْلِ وَالْغَيْرَةِ ، فَإِنَّ مَنْ جَمَعَ كِتَابَ اللَّهِ فَلَيْسَ بِعَيِيٍّ ، وَمَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ فَلَيْسَ بِبَخِيلٍ . وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الْغَيْرَةِ ، فَإِنَّ أَحَقَّ مَا غِرْتُ فِيهِ وَلَدِي أَنْ يُشْرِكَنِي فِيهِ غَيْرِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّهُ مُرْسَلٌ ؛ الْمُطْعَمُ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ عُمَرَ . ¤
محمد محی الدین
مطعم بن مقدام صنعانی بیان کرتے ہیں : حجاج بن یوسف نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو خط لکھا کہ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ آپ حکومت کے طلبگار ہیں ، حالانکہ خلافت کسی ایسے شخص کے لئے موزوں نہیں ہے ، جو کمزور ہو یا بخیل ہو ، یا زیادہ غصے والا ہو ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے خط میں لکھا : تم نے جہاں تک خلافت کے معاملے کا ذکر کیا ہے کہ میں اس کا طلبگار ہوں تو میں اس کا طلبگار نہیں ہوں ، اور نہ ہی یہ میرا کام ہے ، اور جہاں تک تم نے یہ بات ذکر کی ہے کہ کمزوری ہے ، کنجوسی ہے ، اور مزاج کی تیزی ہے ، تو جس شخص نے اللہ کی کتاب کو جمع کیا ہو ( یعنی حفظ کیا ہو ) وہ کمزور نہیں ہوتا ، جس شخص نے اپنے مال کی زکوۃ ادا کی ہوئی ہو ، وہ بخیل نہیں ہوتا اور جہاں تک مزاج کی تیزی کا تم نے ذکر کیا ہے ، تو جس چیز کے بارے میں ، میں مزاج کی تیزی دکھاؤں گا ، اس میں سب سے زیادہ حق دار میری اولاد ہے کہ کوئی اس میں میرا شریک ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ
یہ روایت مطعم نامی راوی کی نقل کردہ مرسل روایت ہے کیونکہ اس نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ
یہ روایت مطعم نامی راوی کی نقل کردہ مرسل روایت ہے کیونکہ اس نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ۔
وَعَنْ مَالِكٍ قَالَ : أَقَامَ ابْنُ عُمَرَ بَعْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِتِّينَ سَنَةً تَفِدُ عَلَيْهِ وُفُودُ النَّاسِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّهُ مُرْسَلٌ . ¤
محمد محی الدین
مالک بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ساٹھ سال زندہ رہے تھے ، اس دوران لوگوں کے وفود ان کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ
یہ روایت ” مرسل “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ
یہ روایت ” مرسل “ ہے ۔
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ ، فَقَالَ : مَا يَمْنَعُكَ مِنْ هَذَا الْأَمْرِ وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَابْنُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : يَمْنَعُنِي مِنْهُ أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - حَرَّمَ عَلَيَّ دَمَ أَخِي الْمُسْلِمِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الْحَارِثِ أَبُو الْأَشْهَبِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور بولا: آپ حکومت کے معاملے میں کیوں دلچسپی نہیں لیتے ؟ جبکہ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی بھی ہیں اور امیر المؤمنین کے صاحبزادے بھی ہیں ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا ، اس چیز سے مجھے یہ بات روکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے مسلمان بھائی کے خون کو مجھ پر حرام قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن حارث ابواشہب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن حارث ابواشہب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ مَكْحُولٍ قَالَ : بَيْنَا أَنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ وَهُوَ يَمْشِي إِذْ مَرَّ بِهِ رَجُلٌ أَسْوَدُ مَعَهُ رُمْحٌ ، فَوَضَعَ زُجَّ الرُّمْحِ بَيْنَ السَّبَّابَةِ وَالْإِبْهَامِ مِنْ قَدَمِ ابْنِ عُمَرَ ، فَحَمَلَ الشَّيْخُ ، فَأَدْخَلَ فَوَرِمَتْ سَاقُهُ ، فَأَتَاهُ الْحَجَّاجُ يَعُودُهُ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَنْ أَصَابَكَ بِهَذَا حَتَّى آخُذَ لَكَ مِنْهُ ؟ قَالَ : اللَّهُ ، لَيَأْخُذَنَّ مِنْهُ اللَّهُ ، لَيَأْخُذَنَّ مِنْهُ . قَالَ : مَا بَالُ حَرَمِ اللَّهِ وَأَمْنِهِ يُحْمَلُ فِيهِ السِّلَاحُ ؟ ! ! قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ هَذَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
مکحول بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ وہ پیدل چلتے ہوئے جا رہے تھے ، اسی دوران ایک سیاہ فام ان کے پاس سے گزرا ، جس کے پاس نیزہ تھا ، اس نے اس کا نیچے والا دھاری دار حصہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے آگے ان کے پاؤں کے انگوٹھے اور ساتھ والی انگلی کے درمیان رکھا ( اور انہیں زخمی کر دیا ) انہیں اُٹھا کر گھر لایا گیا ، ان کی پنڈلی ورم آلود ہو گئی ، حجاج ان کی عیادت کرنے کے لئے ان کے پاس آیا اور بولا: اے ابوعبدالرحمن ! آپ کو یہ تکلیف کس نے پہنچائی ہے ؟ میں اس سے آپ کا بدلہ لیتا ہوں ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس سے بدلہ لے گا ، اللہ تعالیٰ اس سے بدلہ لے گا ، پھر انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے حرم اور اس کی مقرر کردہ امان والی جگہ کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ وہاں ہتھیار اُٹھائے جاتے ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَيُكْنَى أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِمَكَّةَ بَعْدَ الْحَجِّ ، وَدُفِنَ بِالْمُحَصَّبِ . وَبَعْضُ النَّاسِ يَقُولُونَ : بِفَخٍّ ، وَسِنُّهُ حِينَ أَجَازَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْخَنْدَقِ فِي الْقِتَالِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ ، وَكَانَ الْخَنْدَقُ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ أَرْبَعٍ ، فَسِنُّهُ يَوْمَ تُوُفِّيَ أَرْبَعٌ وَثَمَانُونَ سَنَةً . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا انتقال حج کے بعد مکہ میں ہوا تھا ، ان کی کنیت ابوعبدالرحمن تھی ، ان کے محصب کے مقام پر دفن کیا گیا ، بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے : ” فخ “ کے مقام پر دفن کیا گیا ، جس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غزوہ خندق میں شرکت کی اجازت دی تھی ، اس وقت ان کی عمر پندرہ سال تھی ، اور غزوہ خندق شوال کے مہینے میں چار ہجری میں ہوا تھا ، تو انتقال کے وقت ان کی عمر 84 برس ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ : سِنُّ ابْنِ عُمَرَ يَوْمَ مَاتَ أَرْبَعٌ وَثَمَانُونَ سَنَةً . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
امام مالک بن انس بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا انتقال 84 برس کی عمر میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
وَعَنِ الْوَاقِدِيِّ قَالَ : مَاتَ ابْنُ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسَبْعِينَ ، وَدُفِنَ بِفَخٍّ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعٍ وَثَمَانِينَ سَنَةً . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
واقدی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا انتقال 74 ہجری میں ہوا تھا انہیں ” فخ“ کے مقام پر دفن کیا گیا اس وقت ان کی عمر 84 برس تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔