مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - . باب: حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّهُ كَانَ يُحْيِي اللَّيْلَ صَلَاةً ، ثُمَّ يَقُولُ : يَا نَافِعُ ، أَسَحَرْنَا ؟ فَيَقُولُ : لَا ، فَيُعَاوِدُ الصَّلَاةَ ، ثُمَّ يَقُولُ : يَا نَافِعُ ، أَسَحَرْنَا ؟ فَأَقُولُ : نَعَمْ ، فَيَقْعُدُ فَيَسْتَغْفِرُ وَيَدْعُو حَتَّى يُصْبِحَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَسَدِ بْنِ مُوسَى ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤نافع نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : وہ رات کے وقت نوافل پڑھتے تھے ، پھر یہ دریافت کرتے تھے : اے نافع ! کیا سحری کا وقت قریب ہو گیا ہے ؟ وہ جواب دیتے تھے ، جی نہیں ! تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ پھر نماز پڑھنے لگ جاتے تھے ، پھر دریافت کرتے تھے : اے نافع ! کیا سحری کا وقت قریب آ گیا ہے ؟ میں جواب دیتا تھا : جی ہاں ! تو وہ بیٹھ کر دعائے استغفار پڑھتے رہتے تھے اور دعا کرتے رہتے تھے ، یہاں تک کہ صبح صادق ہو جاتی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اسد بن موسیٰ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔