مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - . باب: حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 15869
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ ، فَقَالَ : مَا يَمْنَعُكَ مِنْ هَذَا الْأَمْرِ وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَابْنُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : يَمْنَعُنِي مِنْهُ أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - حَرَّمَ عَلَيَّ دَمَ أَخِي الْمُسْلِمِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الْحَارِثِ أَبُو الْأَشْهَبِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور بولا: آپ حکومت کے معاملے میں کیوں دلچسپی نہیں لیتے ؟ جبکہ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی بھی ہیں اور امیر المؤمنین کے صاحبزادے بھی ہیں ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا ، اس چیز سے مجھے یہ بات روکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے مسلمان بھائی کے خون کو مجھ پر حرام قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن حارث ابواشہب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔