حدیث نمبر: 15866
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ : مَرَّ ابْنُ عُمَرَ بِرَاعِي غَنَمٍ ، فَقَالَ : يَا رَاعِيَ الْغَنَمِ ، هَلْ مِنْ جَزْرَةٍ ؟ قَالَ الرَّاعِي : مَا لَيْسَ هَاهُنَا رَبُّهَا . قَالَ : تَقُولُ أَكَلَهَا الذِّئْبُ ، فَرَفَعَ الرَّاعِي رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، ثُمَّ قَالَ : فَأَيْنَ اللَّهُ ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَأَنَا وَاللَّهِ أَحَقُّ أَنْ أَقُولَ : فَأَيْنَ اللَّهُ . فَاشْتَرَى ابْنُ عُمَرَ الرَّاعِيَ ، وَاشْتَرَى الْغَنَمَ ، فَأَعْتَقَهُ وَأَعْطَاهُ الْغَنَمَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْحَاطِبِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

زید بن اسلم بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا گزر بکریوں کے ایک چرواہے کے پاس سے ہوا ، انہوں نے دریافت کیا : اے بکریوں کے چرواہے ! کیا کوئی ایسی بکری ہے ، جس کو قربان کیا جا سکے ؟ تو چرواہے نے کہا: یہاں ان کا مالک نہیں ہے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم یہ کہہ دینا کہ بھیڑیا اسے کھا گیا تھا ، اس چرواہے نے اپنا سر آسمان کی طرف بلند کیا پھر دریافت کیا : اللہ تعالیٰ کہاں ہے ؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہوں کہ میں یہ کہوں کہ اللہ تعالیٰ کہاں ہے ( یعنی اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے ) پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اُس چرواہے کو خرید لیا ، اس کی بکریوں کو خرید لیا اور اس چرواہے کو آزاد کر کے وہ بکریاں اسے دیدیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن حارث حاطبی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15866
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (13054)»