کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 15874
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، يُكْنَى : أَبَا سُلَيْمَانَ ، وَهُوَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومِ بْنِ يَقَظَةَ بْنِ مُرَّةَ بْنَ كَعْبِ بْنِ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِهْرِ بْنِ مَالِكٍ ، وَأُمُّهُ لُبَابَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ حَزَنِ بْنِ بُجَيْرِ بْنِ الْهُزَمِ بْنِ رُويَبْةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِلَالِ بْنِ عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، وَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : سَيْفًا مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : یہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہیں ، ان کی کنیت ابوسلیمان ہے ، ان کا ( نام و نسب یہ ہے : ) سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم بن يقظہ بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک ، ان کی والده لبابہ بنت حارث بن حزن بن بجیر بن ہزم بن رویبہ بن عبداللہ بن ہلال بن عامر بن صعصعہ ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ” اللہ کی تلوار “ کا نام ( یا لقب ) دیا تھا ۔
حدیث نمبر: 15875
وَعَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَقَدَ لِخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ عَلَى قِتَالِ أَهْلِ الرِّدَّةِ ، وَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ وَأَخُو الْعَشِيرَةِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ سَلَّهُ اللَّهُ عَلَى الْكُفَّارِ وَالْمُنَافِقِينَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مرتدین کے خلاف جنگ کرنے کے لئے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا اور یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ کا بہترین بندہ اور اپنے خاندان کا بہترین فرد خالد بن ولید ہے ، جو اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے کافروں اور منافقین کے خلاف میان سے نکالا ہوا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے اور ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے اور ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15876
وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : اسْتَعْمَلَ عُمَرُ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الشَّامِ ، وَعَزَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ . قَالَ : فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ : بُعِثَ عَلَيْكُمْ أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ " . فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " خَالِدٌ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ ، وَنِعْمَ فَتَى الْعَشِيرَةِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ عُمَرٍ لَمْ يُدْرِكْ أَبَا عُبَيْدَةَ وَلَا عُمَرَ . ¤
محمد محی الدین
عبدالملک بن عمیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو شام کا گورنر مقرر کیا تھا ، انہوں نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو معزول کر دیا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: تمہارا امیر اس فرد کو مقرر کیا گیا ہے ، جو اس امت کا امین ہے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس امت کا امین ابوعبیدہ بن جراح ہے ۔ “ تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” خالد ، اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار اور اپنے خاندان کا بہترین فرد ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ عبدالملک بن عمیر نے نہ تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے اور نہ ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ عبدالملک بن عمیر نے نہ تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے اور نہ ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 15877
وَعَنْ نَاشِرَةَ بْنِ سُمَيٍّ الْيَزَنِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يَوْمَ الْجَابِيَةِ وَهُوَ يَخْطُبُ ، وَإِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكُمْ مِنْ عَزْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، فَإِنِّي أَمَرْتُهُ أَنْ يَحْبِسَ هَذَا الْمَالَ عَلَى ضَعَفَةِ الْمُهَاجِرِينَ ، فَأَعْطَاهُ ذَا الْبَأْسِ ، وَذَا الشَّرَفِ ، وَذَا اللِّسَانِ ; فَعَزَلْتُهُ وَوَلَّيْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجِرَّاحِ . قَالَ أَبُو عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ : وَاللَّهِ مَا أَعْذَرْتَ يَا عُمَرُ بْنَ الْخَطَّابِ ; لَقَدْ نَزَعْتَ عَامِلًا اسْتَعْمَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَغَمَدْتَ سَيْفًا سَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَضَعْتَ لِوَاءً نَصَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَقَدْ قَطَعْتَ الرَّحِمَ ، وَحَسَدْتَ ابْنَ الْعَمِّ . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : إِنَّكَ قَرِيبُ الْقَرَابَةِ ، حَدِيثُ السِّنِّ ، مُعَصَّبٌ فِي ابْنِ عَمِّكَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ناشرہ بن سمی یزنی بیان کرتے ہیں : میں نے ” جابیہ “ کے دن سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو جمعہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے ، یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : خالد بن ولید کو معزول کرنے کے حوالے سے ، میں تمہارے سامنے عذر بیان کرنا چاہتا ہوں ، میں نے اسے یہ ہدایت کی تھی کہ وہ یہ مال کمزور مہاجرین کے لئے سنبھال کے رکھے ، اور اس نے یہ مال طاقتور لوگوں ، مشرف والے لوگوں اور عمدہ کلام کرنے والے لوگوں کو دے دیا ، تو میں نے اسے معزول کر دیا اور ابوعبیدہ بن جراح کو والی مقرر کر دیا ۔ اس پر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے کہا: اے عمر بن خطاب ! اللہ کی قسم ! یہ کوئی عذر نہیں ہے ، آپ نے ایک ایسے عامل کو اس کے عہدے سے الگ کیا ہے جسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عامل مقرر کیا تھا ، اور آپ نے ایک ایسی تلوار کو میان میں ڈال دیا ہے ، جسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے میان میں سے نکالا تھا ، اور آپ نے ایک ایسے جھنڈے کو نیچے کر دیا ہے ، جسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نصب کیا تھا ، آپ نے رشتے داری کے حقوق کو پامال کیا ہے اور اپنے چچازاد سے حسد کیا ہے ، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہاری اس کے ساتھ رشتہ داری ہے ، تمہاری عمر بھی کم ہے اور تم اپنے چچازاد کی طرف داری کر رہے ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15878
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : شَكَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا خَالِدُ ، لَا تُؤْذِ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ، فَلَوْ أَنْفَقْتَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا لَمْ تُدْرِكْ عَمَلَهُ " . فَقَالَ : يَقَعُونَ فِيَّ فَأَرُدُّ عَلَيْهِمْ ! فَقَالَ : " لَا تُؤْذُوا خَالِدًا ; فَإِنَّهُ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ صَبَّهُ اللَّهُ عَلَى الْكُفَّارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی شکایت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے خالد ! تم ایسے شخص کو اذیت نہ پہنچاؤ ، جو غزوہ بدر میں شرکت کر چکا ہے ، اگر تم اُحد پہاڑ جتنا سونا خیرات کرو ، تو تم پھر بھی اس کے عمل تک نہیں پہنچ سکتے ، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ لوگ مجھ پر تنقید کرتے ہیں ، تو میں انہیں جواب دیتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ خالد کو اذیت نہ پہنچاؤ ، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جسے اللہ تعالیٰ نے کفار پر سونت کر رکھا ہوا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15879
وَعَنْ قَيْسٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ - قَالَ : أُخْبِرْتُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَسُبُّوا خَالِدًا ; فَإِنَّهُ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ سَلَّهُ اللَّهُ عَلَى الْكُفَّارِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَلَمْ يُسَمِّ الصَّحَابِيَّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : مجھے یہ بات بتائی گئی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ خالد کو برا نہ کہو ، کیونکہ وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے کفار پر سونتا ہوا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، انہوں نے صحابی کا نام بیان نہیں کیا ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، انہوں نے صحابی کا نام بیان نہیں کیا ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15880
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : نَعَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَهْلَ مُؤْتَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ : " ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر غزوہ موتہ میں شہید ہونے والوں کی شہادت کی اطلاع دی اور پھر یہ ارشاد فرمایا : پھر جھنڈا اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار نے پکڑ لیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15881
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا نَعَى أَهْلَ مُؤْتَةَ قَالَ : " ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، وَهُوَ إِمَامٌ ثَبْتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ موتہ میں شہید ہونے والوں کے بارے میں اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر جھنڈا اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار خالد بن ولید نے لیا ، اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر فتح نصیب کی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن أحمد بن حنبل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ امام ، ثبت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن أحمد بن حنبل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ امام ، ثبت ہے ۔
حدیث نمبر: 15882
وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ : أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَقَدَ قُلُنْسُوَةً لَهُ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ ، فَقَالَ : اطْلُبُوهَا ، فَلَمْ يَجِدُوهَا ، فَقَالَ : اطْلُبُوهَا ، فَوَجَدُوهَا فَإِذَا هِيَ قُلُنْسُوَةٌ خَلَقَةٌ ، فَقَالَ خَالِدٌ : اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَلَقَ رَأْسَهُ ، فَابْتَدَرَ النَّاسُ جَوَانِبَ شَعَرِهِ فَسَبَقْتُهُمْ إِلَى نَاصِيَتِهِ ، فَجَعَلْتُهَا فِي هَذِهِ الْقُلُنْسُوَةِ ، فَلَمْ أَشْهَدْ قِتَالًا وَهِيَ مَعِي إِلَّا رُزِقْتُ النُّصْرَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَجَعْفَرٌ سَمِعَ مِنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ فَلَا أَدْرِي سَمِعَ مِنْ خَالِدٍ أَمْ لَا . ¤
محمد محی الدین
جعفر بن عبداللہ بن حکم بیان کرتے ہیں : سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ٹوپی جنگ یرموک کے دن گم ہو گئی ، انہوں نے فرمایا : تم لوگ اسے تلاش کرو ، لوگوں کو وہ نہیں ملی ، تو انہوں نے فرمایا : تم لوگ اسے تلاش کرو ، لوگوں نے تلاش کیا تو انہیں وہ مل گئی ، وہ ایک پرانی سی ٹوپی تھی ، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کے موقع پر اپنا سر مونڈوایا تھا ، تو لوگ آپ کے اطراف کے بال لینے کے لئے لپکے تھے ، اور میں ان لوگوں سے سبقت لے گیا اور آپ کی پیشانی کے بال حاصل کر لیے اور وہ اس ٹوپی میں رکھ دیے ، تو میں جس بھی جنگ میں شریک ہوتا ہوں ، تو یہ ٹوپی میرے پاس ہو تو مجھے کامیابی نصیب ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، جعفر نامی راوی نے صحابہ کرام کی ایک جماعت سے سماع کیا ہے ، لیکن مجھے یہ نہیں معلوم کہ اس نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے یا نہیں کیا ہے ؟
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، جعفر نامی راوی نے صحابہ کرام کی ایک جماعت سے سماع کیا ہے ، لیکن مجھے یہ نہیں معلوم کہ اس نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے یا نہیں کیا ہے ؟
حدیث نمبر: 15883
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : مَا عَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِي وَبِخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ أَحَدًا مُنْذُ أَسْلَمْنَا فِي حَرْبِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سے ہم نے اسلام قبول کر لیا ، تو جنگ کے معاملات میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو میرے اور خالد بن ولید کے برابر نہیں سمجھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15884
وَعَنْ أَبِي السَّفَرِ قَالَ : نَزَلَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحِيرَةَ عَلَى أَمِيرِ بَنِي الْمَرَازِبَةِ ، فَقَالُوا لَهُ : احْذَرِ السُّمَّ ، لَا تَسْقِيكَهُ الْأَعَاجِمُ ، فَقَالَ : ائْتُونِي بِهِ ، فَأُتِيَ بِهِ فَأَخَذَهُ بِيَدِهِ ، ثُمَّ اقْتَحَمَهُ وَقَالَ : بِسْمِ اللَّهِ . فَلَمْ يَضُرَّهُ شَيْئًا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَهُوَ مُتَّصِلٌ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ أَبَا السَّفَرِ وَأَبَا بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى لَمْ يَسْمَعَا مِنْ خَالِدٍ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
ابوالسفر بیان کرتے ہیں : سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ حیرہ کے مقام پر بنومرازبہ کے امیر کے پاس گئے ، لوگوں نے ان سے کہا: آپ اس بات سے احتیاط کیجئے گا کہ کہیں عجمی لوگ آپ کو زہر نہ پلا دیں ، انہوں نے فرمایا : تم لوگ میرے پاس وہ لے کر آؤ ، پھر انہوں نے اپنے ہاتھ میں اس پیالے کو پکڑا اور اسے پی لیا ، انہوں نے بسم اللہ پڑھی تھی ، تو انہیں کوئی نقصان نہیں ہوا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور
یہ روایت متصل ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابوالسفر اور ابوبردہ بن ابوموسیٰ نامی راویوں نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور
یہ روایت متصل ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابوالسفر اور ابوبردہ بن ابوموسیٰ نامی راویوں نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 15885
وَعَنْ قَيْسٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ - قَالَ : قَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ : مَا لَيْلَةٌ تُهْدَى إِلَى بَيْتِي فِيهَا عَرُوسٌ ، أَنَا لَهَا مُحِبٌّ وَأُبَشَّرُ فِيهَا بِغُلَامٍ بِأَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ لَيْلَةٍ شَدِيدَةِ الْجَلِيدِ فِي سِرِيَّةٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ أُصَبِّحُ بِهَا الْعَدُوَّ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” جس رات میں ، میرے گھر میں دلہن لائی جائے ، جس عورت سے میں محبت کرتا ہوں ، اور پھر مجھے یہ بھی خوشخبری دی جائے کہ اس عورت سے میرے ہاں بیٹا ہو گا ، وہ رات میرے نزدیک اُس رات سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہو گی ، جو سخت رات ہو اور اس میں مہاجرین کی کوئی جنگی مہم ہو اور اگلے دن صبح دشمن پر حملہ کرنا ہو ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15886
وَعَنْ قَيْسٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ - قَالَ : قَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ : لَقَدْ مَنَعَنِي كَثِيرًا مِنَ الْقِرَاءَةِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنے نے مجھے زیادہ قرأت کرنے سے روکے رکھا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15887
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ : لَمَّا حَضَرَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ الْوَفَاةُ قَالَ : لَقَدْ طَلَبْتُ الْقَتْلَ فَلَمْ يُقَدَّرْ لِي إِلَّا أَنْ أَمُوتَ عَلَى فِرَاشِي ، وَمَا مِنْ عَمَلِي أَرْجَى مِنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَا مُتَتَرِّسٌ بِهَا . ثُمَّ قَالَ : إِذَا أَنَا مُتُّ ، فَانْظُرُوا سِلَاحِي وَفَرَسِي فَاجْعَلُوهُ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ابووائل بیان کرتے ہیں : سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے شہید ہونے کی کوشش کی ، لیکن وہ مجھے نصیب نہیں ہوئی ، اب یہی ہے کہ میں اپنے بستر پر مر جاؤں گا اور میرے عمل میں کوئی ایسا عمل نہیں ہے ، جو لا الہ الا اللہ سے زیادہ قابل وثوق ہو ، میں نے اس کے ذریعے ڈھال بنائی ہوئی ہے ۔ پھر انہوں نے فرمایا : جب میں مر جاؤں گا ، تو تم میرے ہتھیار اور گھوڑے کو لے کر ، اسے اللہ کی راہ میں دیدینا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15888
وَعَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ : دَخَلُوا عَلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ يَعُودُونَهُ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : إِنَّهُ لَفِي السِّبَاقِ قَالَ : نَعَمْ وَاللَّهِ أَسْتَعِينُ عَلَى ذَلِكَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
یونس بن ابواسحاق بیان کرتے ہیں : لوگ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے ان کے پاس آئے ، تو کسی نے کہا: یہ سبقت لے جانے والے لوگوں میں سے ایک ہیں ، تو انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! میں اس حوالے سے مدد چاہوں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15889
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ : مَاتَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ نَحْوَ سَنَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عبداللہ بن نمیر بیان کرتے ہیں : سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا انتقال ” حمص “ کے مقام پر 21 ہجری میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔